قرآن، حکمران کو ہولی کی مبارک دینے کی اجازت نہیں دیتا
12 مارچ 2020 2020-03-12

سندھ میں چونکہ ہندوﺅں کی بڑی تعداد پاکستانی قومیت رکھتی ہے، اس لیے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، سید ہونے کے باوجود بھی، اور پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو محض ہندوﺅں سے ووٹ اینٹھنے کے چکرمیں نہ صرف کافروں کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے انہیں ان کے تہوار ہولی میں مبارک بادیاں دیتے ہیں بلکہ ہنستے مسکراتے، اور قہقہے لگاتے ہوئے اس میں شریک ہوتے ہیں، اور اس طرح سے رچ مس جاتے ہیں کہ دھماچوکڑی میں یہ امتیاز کرنا مشکل ہوجاتا ہے، کہ مسلمان کون ہے، اور ہندو کون ہے، اور وہ بقول شاعر نیر

یہ بھول جاتے ہیں کہ چُھپاجو آستیں میں

وہ بالآخر ڈسے گا

ہوا برباد خانہ!

یہ اب نبتےنبے گا

گھٹن کیسی ہے نیر

کوئی کیسے جیئے گا!

حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن پاک میں، اور اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول پاک نے اس موضوع پہ واضح ہدایات آج سے چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کو دے دی تھیں، مگر رسول پاک کا جو نام صحیح نہ لے سکتا ہو، وہ دعویٰ دار حکمرانی ہے، سورة الفرقان آیت 73میں ارشاد گرامی ہے، اصل میں رحمن کے بندے وہ ہیں جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے، اور کسی لغو چیز سے (مثلاً ہلاگلا، شراب نوشی یا کوئی بھی غیر شرعی کام ) سے گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں، جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سناکر نصیحت کی جاتی ہے، تو وہ اس پہ اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے، جو دعائیںمانگا کرتے ہیں، کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے (خواہ وہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور قبضہ یہودمیں ہو) آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا امام مجاہد ؓ، امام ربیع بن انس ؓ ، امام ضحاکؒ کا مشترکہ فتویٰ ہے، ارشاد پاک یہ ہے کہ مشرکین، کافروں اور ہندوﺅں کے تہوار جیسے ہماری عیدیں ہوتی ہیں، اور نیک لوگ وہ ہوتے ہیں، جو حوصلہ مندی اور جرا¿ت سے، اگر بادل نخواستہ وہاں کے قریب سے گزرنے کا اتفاق ہوجائے، تو وہاں رکتے نہیں ، فوراً گزر جاتے ہیں، یہ بشارت ہے، ان لوگوں کے لیے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو، اور اب اپنی اصلاح پہ آمادہ ہو، یہی عام معانی GENRALAMNESTYکا اعلان ہے ، جس نے اس معاشرے کے لاکھوں بگڑے اور صراط مستقیم کے بھٹکے ہوﺅں کے لیے کرن امید اور آس کا احساس دلاکر مستقل بگاڑسے بچا لیا گیا، ابن جریر اور طبرانی سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ عشاءکی نماز پڑھ کر پلٹا، تو میں نے دیکھا کہ ایک عورت میرے دروازے پر کھڑی ہے، میں اسے سلام کرکے، اپنے حجرے کی طرف پلٹ گیا، اور دروازہ بند کرکے نوافل پڑھنے میں مصروف ہوگیا، کچھ دیر کے بعد اس نے دروازہ کھٹکھٹایا ، میں نے دروازہ کھول کر پوچھا، کہ کیا بات ہے، وہ کہنے لگی ، مجھ سے زنا کا گناہ سرزد ہوا، ناجائز حمل کے نتیجے میں جو بچہ پیدا ہوا، میں نے اسے مارڈالا اب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں، کہ میرا گناہ معاف ہوجانے کی کوئی معافی تلافی یا ازالہ ہے، میں نے کہا، ہرگز بھی نہیں ۔

وہ بڑی حسرت سے آہیں بھرتی اور بڑی حسرت سے واپس چلی گئی، اور کہنے لگی افسوس یہ حسن آگ کے لیے پیدا ہوا تھا، صبح نماز جب میں حضور کے پیچھے پڑھ کر فارغ ہوا، تو میں نے حضور کو رات والا واقعہ عرض کیا، تو آپ نے فرمایا، کہ ابوہریرہ تم نے رات کو بڑا غلط جواب دیا، کیا تم نے قرآن شریف میں یہ آیت نہیں پڑھی والذین لایدعون مع اللہ الھا اخر.... الا من تاب وامن عمل وعملاً صالحاً۔ حضورکا یہ جواب سن کر میں نے صبح کو اسے تلاش کرنا شروع کردیا رات کو عشاءکے وقت وہ مجھے مل گئی، میں نے اسے بشارت دی اور کہا کہ حضور نے تیرے سوال کا یہ جواب عطا فرمایا ہے، کہ وہ سنتے ہی سجدے میں گرگئی، اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے لیے معافی کا دروازہ کھولا، اس کے بعد اس نے گناہ کے لیے توبہ کی ، اور اس نے اپنی لونڈی کو اپنے بچے سمیت آزاد کردیا۔

سورة الحج میں ارشاد گرامی ہے کہ پس بتوں کی گندگی سے بچو، جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو، یکسو ہوکر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، جوکوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اچک کر لے جائیں یا ہوااسے ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی، جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔

تشریح مزید مفسرین نے اس طرح سے کی ہے، کہ بتوں اور بتوں کے ماننے والوں سے اس طرح سے بچو، جس طرح سے انسان گندی چیزوں سے گھن کھاتا ہے، اور اگر ان کے قریب گیا، تو نجس اور پلید ہو جائے گا۔ حضور کا فرمان ہے ، کہ جو شخص کسی قوم کی متشابہت اختیار کرے گا، وہ انہیں میں سے ہے، اور روز محشر انہیں کے ساتھ اٹھے گا۔ حدیث پاک امام بیہقی ، مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمرؓ نے بالکل واضح کیا تھا، کہ مشرکین کے گرجوں میں مت جایا کرو کیونکہ وہاں اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے، اور اللہ کے دشمنوں کو عیدوں پر مت ملومگریہاں تو مسلمانوں کو ٹیکے لگانے کے مشورے اور ہندوﺅں کو دعائیں دی جاتی ہیں، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن وحدیث کے ان واضح احکامات کے بعد عمران خان ہندوﺅں کو مبارک باد دے سکتے ہیں، یا ان کے تہواروں میں شریک ہوسکتے ہیں، صد حیف ہے کہ ہمارے سینکڑوں چینلز بھی اپنے اسلاف کی روایات سے روگردانی کرتے نظر آرہے ہیں۔ اگر ایسی بات ہوئی تو جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق ہندوﺅں کی اس ہولی پہ انہیں کیوں مبارک باد نہیں دیتے؟ میرے علاوہ ہرمسلمان کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے، اس کے علاوہ دوسرا سوال یہ ہے کہ میرا ذہن میری مرضی، آپ اس جواب سے پرہیز کرتے ہوئے، مجھے میرے دوسرے سوال کا جواب ضرور دیں، کہ علامہ خادم حسین رضوی، نے حالیہ ڈرامے ” میرے پاس تم ہو“ کے نامور لکھاری خلیل الرحمن قمر کے حق میں بیان کو قارئین مثبت انداز میں لیں، یا منفی میں، جبکہ مفکر اعظم علامہ اقبالؒ تو نفسیات حاکمی یہ بتاتے ہیں کہ

رکھنے لگا مرجھائے ہوئے پھول قفس میں

شاید کہ اسیروں کو گوارا ہواسیری


ای پیپر