قہقہوں کی رخصتی!
12 مارچ 2020 2020-03-12

لوگوں میں قہقہے اور محبتیں تقسیم کرنے والا فنکار بلکہ ”فنکار اعظم“ امان اللہ بھی چلا گیا، اسے پتہ تھا اُس نے چلے جانا ہے، وہ کوئی غم اپنے دل میں پال کر نہیں گیا، سوائے اِس غم کے اُس کے بعد سینکڑوں لوگوں میں قہقہے کون تقسیم کرے گا؟ اِس ”ڈپریشنی معاشرے“ میں ابھی اُس کی بہت ضرورت تھی ، یہ ضرورت اُس کی طرح سے اب کوئی پوری نہیں کرسکتا، اتنی زیادہ شہرت کا حامل ہونے کے باوجود وہ انتہائی سادہ، بہت ہی عاجز، بہت مسکین انسان تھا، اُسے ”کامیڈی کنگ“ کہا جاتا تھا، اِس میں کوئی شک بھی نہیں تھا، مگر جب بھی اُس کی موجودگی میں اُسے کوئی ”کامیڈی کنگ“ کہتا وہ آگے سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ”بادشاہو ساہنوں شرمندہ نہ کرو“ .... عاجزی کا اپنا ایک انعام ہوتا ہے۔ امان اللہ اِس انعام کا صحیح معنوں میں حقدار تھا، اُس نے دولت بہت کمائی، نام بھی بہت کمایا، اصل کمائی نام کی ہوتی ہے، دولت کام نہیں آتی، نام ساری عمر کام آتا رہتا ہے، انسان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی آتا رہتا ہے، امان اللہ اپنے کام کے اعتبار سے ہمارے دلوں میں ہمیشہ ہنستا بستا رہے گا اور ہمیں ہنساتا بساتا بھی رہے گا، مجھے نہیں لگتا وہ مر گیا ہے، اُسے کوئی نہیں مارسکتا، شاید وہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں شفٹ ہوا ہے، چند روز قبل مجھے آئر لینڈ سے اپنے محترم بھائی عاصم ستار کا فون آیا، انہوں نے مجھے بتایا امان اللہ بہت بیمار ہے، میں نے عرض کیا ”مجھے پتہ ہے اور میں ان کی عیادت کے لیے بھی جا چکا ہوں“، اُنہوں نے فرمایا ” وہ تو ٹھیک ہے مگر اُنہیں علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے، میں اِس ضمن میں وزیراعطم عمران خان سے بات کروں“ ....برادرم عاصم ستار کا خیال تھا وزیراعظم عمران خان سے بات کرنا یا اُن سے رابطہ کرنا میرے لیے اب بھی اُتنا آسان ہے جتنا پہلے تھا، یہ درست ہے ان کے ساتھ واٹس ایپ پر رابطہ رہتا ہے۔ پر ظاہر ہے اب ان کی مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں وہ کئی کئی روز تک مسیج دیکھ ہی نہیں پاتے، البتہ یہ ان کی محبت ہے وہ جب بھی مسیج دیکھتے ہیں اکثر رپلائی ضرور کرتے ہیں، .... امان اللہ کے حوالے سے عاصم ستار کے کہنے کے باوجود میں نے اُنہیں مسیج نہیں کیا، کیونکہ میں جانتا تھا امان اللہ کو پیسوں سے زیادہ دعاﺅں کی ضرورت تھی، .... اب خان صاحب کو میں یہ مسیج تو نہیں کرسکتا تھا ”امان اللہ کے لیے دعا کریں“ .... جتنا وہ آج کل غصے میں رہتے ہیں ممکن ہے وہ آگے سے مجھے یہ مسیج کردیتے ” یہ کام تم خود کیوں نہیں کرلیتے“ ....یہ کام میں پہلے سے کررہا تھا، پر امان اللہ نے دنیا میں جتنی سانسیں لینی تھی وہ لے چکا تھا، دنیا میں جتنا دانہ پانی اس کا لکھا تھا وہ ختم ہوچکا تھا، ہر شے کو فنا ہے ، بس رہے نام اللہ کا ،.... یا پھر دنیا میں اُن کا نام رہ جاتا ہے جو دُکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، میرے نزدیک دوسروں کو خوش کرنے سے، اُنہیں ہنسا دینے سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کوئی اور نہیں ہوسکتی ، ....ہم نے سُن رکھا ہے جب کوئی جوان توبہ کرتا ہے اللہ پاک خوش ہوکر چالیس یوم کے لیے دنیا بھر کے قبرستانوں سے عذاب اُٹھا لیتے ہیں، مجھے یقین ہے ایسے ہی امان اللہ جیسا کوئی شخص کسی قبر کی زینت بنتا ہوگا دنیا بھر کے قبرستانوں سے تب بھی کچھ نہ کچھ دنوں کے لیے ضرور عذاب اُٹھا لیا جاتا ہوگا .... امان اللہ ایک معصوم انسان تھا، ہنسی مذاق میں بھی کوئی جملہ کسی پر کَس دیتا بعد میں اُس سے معافی مانگ لیتا، یہ کام مرتے دم تک وہ کرتا رہا، میں اُس کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کا ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں، میں اُس کی عیادت کے لیے گیا، شدید بیماری کی حالت میں بھی اُس کی حس مزاح پوری صحت مند تھی، اپنے اٹینڈنٹ سے کہنے لگا ”بٹ صاحب نوں جُوس پیاﺅ“ .... میں نے کہا ”اِس کی ضرورت نہیں “.... کہنے لگا ”ضرورت کیوں نہیں؟ آپ پھول اُٹھا کر لائے ہو انرجی کم ہوگئی ہوگی“ .... میں نے عرض کیا ” میں اِن دنوں میٹھے سے ذرا پرہیز کرتا ہوں“ .... کہنے لگا ” مٹھے داتے اجے موسم ای نئیں آیا“ .... میں مسکرادیا، میں سمجھ گیا تھا وہ اُس پھل (میٹھے) کی بات کررہا ہے جو گرمیوں میں آتا ہے، .... میں نے اسے ایک واقعہ سنایا، ” میں اور دلدار بھٹی گوجرانوالہ سے لاہور آرہے تھے، راستے میں اُس نے مجھ سے پوچھا ” توفیق مچھی کھائیں گا؟“.... میں نے کہا ” رہنے دیں بھائی جان مچھلی میں بہت کانٹے ہوتے ہیں “ ، وہ بولا ” پرتوں تے پیراں وچ جوتی پائی ہوئی اے“ .... امان اللہ نے اس بات پر زبردست قہقہہ لگایا، پر ساتھ اُس نے جوبات کہی وہ مجھے اُداس کرگئی، وہ کہنے لگا ” لگدا اے دلدار بھٹی نال جلدی ملاقات ہون والی اے“ ....میں نے اُس کی اِس بات کا کوئی جواب نہیں دیا، اِس دوران کوئی صاحب اُن سے ملنے آئے، اُنہوں نے آتے ہی بیڈ پر لیٹے ہوئے امان اللہ کا حال احوال پوچھے بغیر اُس کے ساتھ ”سیلفی“ بنانی شروع کردی، جب چار پانچ بلکہ اس سے بھی زیادہ ”سیلفیاں“ وہ بناچکے، امان اللہ کی رگ ظرافت پھڑکی، وہ اُن سے کہنے لگا ”چلو سیلفیاں بن گئیاں نیں ہن جے مناسب سمجھو تے ایسے بہانے میری عیادت وی کرلو“.... میں نے بھی سوچ رکھا تھا جاتے وقت کے ساتھ ایک سیلفی میں بھی بناﺅں گا، پر اُن کے اِس جملے کے بعد میری ہمت نہیں پڑی.... اِس سارے واقعے میں بتانے والی بات یہ ہے وہ صاحب جب جانے لگے امان اللہ اُن سے کہنے لگا ”چلو اک سیلفی ہن ساہڈے نال ساہڈی فرمائش تے وی بنالو“ .... اُس روز مجھے امان اللہ اُس سے کہیں بڑا انسان لگا جتنا میں اُسے سمجھتا تھا، اُس نے شاید یہ محسوس کرلیا تھاکہ اُس نے ازرہ مذاق جوبات اُن صاحب سے کہی تھی اُس سے کہیں اُن کا دل نہ دُکھ گیا ہو، اب خود اُن کے ساتھ سیلفی بنانے کی فرمائش کرکے وہ شاید اُس کا ازالہ کرنا چاہتا تھا، .... میں امان اللہ کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکا، میں شہر سے باہر تھا، شہر میں ہوتا بھی میں شاید نہ جاتا، ایسی زبردست لوگوں کا آخری دیدار کرنے کی مجھ میں سکت نہیں ہوتی، البتہ سوشل میڈیا پر کفن میں لپٹی ہوئی اس کی جو تصویریں میں نے دیکھیں، اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ نہیں تھی، جبکہ میں یہ سوچ رہا تھا وہ مسکراتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگا، ممکن ہے وہ اِس لیے مسکرانہ رہا ہو کہ اس کے جنازے میں شریک ہر شخص سوگوار اور اشکبار تھا، اتنے لوگوں کو روتے ہوئے دیکھ کر وہ بھلا کیسے مسکرا سکتا تھا؟”آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے“ ....


ای پیپر