سندھ کی تقسیم اردو آبادی کے مفاد میں نہیں
12 مارچ 2018 2018-03-12

سینیٹ اور چیئرمین سینیٹ کے انتخابات نے ایم کیو ایم کے اندر گروہ بندی کو کھول کے رکھ دیا ہے۔ یہ اختلافات پارٹی کے اندر برسہا ہابرس تک چل رہے تھے۔ اور نصف درجن کے قریب رجحانات ابھرتے رہے، جنہیں کبھی دہشت گردی کے ذریعے تو کبھی کسی اور طریقے سے روکا جاتار ہا۔ ان اختلافات کو مختلف مقتدرہ حلقے استعمال بھی کرتے رہے۔ گزشتہ چند برسوں سے ایم کیو ایم ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی رہی ہے۔ پرویز مشرف دور، اس کی دہشتگردی اور اقتدار میں عروج تھا۔ وہ ملک کی دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں کو سیاست اور اقتدار سے باہر رکھنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے انہیں ایم کیو ایم کی مدد کی ضرورت پڑی، اور ایم کیو ایم کو سرکاری سرپرستی کی ضرورت تھی، وہ اس کو مل گئی۔ اس کے بعد متعدد حقائق کی وجہ سے یہ بحران کا شکار ہو گئی۔ یوں یہ جماعت اپنے منطقی انجام کی طرف جانے لگی۔ اس کی وجہ ایم کیو ایم کے بانی کی تقریر ہی نہیں تھی بلکہ کئی اور بھی وجوہات تھیں۔ ا گر ملکی سیاست کو دو منٹ کے لئے ایک طرف رکھ کر صرف کراچی یا سندھ میں بسنے والے اردو بولنے والوں کے طبقاتی مفادات اور صف بندی کو دیکھا جائے تو معروضی صورت حال سمجھ میں آسکتی ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ اردو بولنے والے بالائی طبقے یا درمیانہ بالائی طبقے کو ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کی اب ضرورت نہیں رہی، اس نے بعض دیگر پارٹیوں میں جگہ بنا لی ہے، جس میں تحریک انصاف کا ابھرنا ایک اہم عنصر کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خود کراچی کی ڈیموگرافی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی ہے۔ یہاں پر صوبے کے اندرونی علاقوں ، اور پختونخوا خوا ودیگر شمالی علاقہ جات سے لوگ آکر آباد ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوا کہ اردو بولنے والوں کے بالائی طبقے اور درمیانہ بالائی طبقے نے گزشتہ برسوں میں نئے گروپ پیدا کر لئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم اب ان دو طبقوں کے مفادات کو مکمل طور پر پورا نہیں کر رہی تھی۔ یہ درست ہے کہ سیاست پر کنٹرول ان دو طبقوں یعنی بالائی اور درمیانہ بالائی طبقات کا ہوتا ہے۔ لیکن اکثریت میں عام لوگ اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ نچلے اور درمیانے طبقے کا کیا ہوگا؟ ایم کیو ایم کے اندر پیدا ہونے والے مختلف دھڑے ذات کے ٹکرائو یا دیگر تنظیمی معاملات کی وجہ سے ہونگے لیکن یہ تمام دھڑے کسی نہ کسی طبقے کی نمائندگی بھی کرتے ہیں ۔ اور کسی نہ کسی طبقے کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

قیام پاکستان سے لے کر ساٹھ کی دہائی کے آخر تک کراچی شہر میں بائیں بازو کی سیاست حاوی رہی۔ یہ ضرور ہوا کہ مذہبی جماعتیں مذہب کے ساتھ ساتھ مہاجر سیاست کرتی رہیں۔ کراچی کا مسئلہ اس وجہ سے بھی شدت اختیار کر گیا کہ یہ شہر صنعتی اور بندرگاہ والا شہر ہی نہیں تھابلکہ اس شہر میں بھارت سے آکر بسنے والوں کی بڑی تعداد تھی، جنہیں نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنی تھی۔ لہٰذا یہ شہر اہم بن گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو صوبہ سندھ سے الگ کر کے وفاقی حکومت کا دارالحکومت بنادیا گیا۔ آگے چل کر ایوب خان کے زمانے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ لیکن ون یونٹ کی وجہ سے کراچی کی حیثیت وفاقی علاقے کی ہی رہی۔ کراچی میں بسنے والی اردو آبادی انتظامی اور عملی اور ذہنی طور پر سندھ کی شہری کے بجائے خود کو ’’پاکستان‘‘ سمجھنے لگی۔ اس ضمن میں وفاقی خواہ صوبائی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے کہ لوگوں میں کیا سوچ

پیدا ہو رہی ہے۔ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد صوبے بحال ہوئے تو کراچی سندھ صوبے کو واپس ملا اور اس کا دارالحکومت بن گیا۔ اردو آبادی اس حقیقت کو جو کہ پہلے بھی تھی لیکن اجاگر نہیں ہوسکی تھی، قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اردو آبادی ملازمتوں اور اقتدار میں بیوروکریسی کے ذریعے پنجاب کے ساتھ شراکت دار تھی۔ لیکن اب اس کو یہ شراکت سندھی آبادی کے ساتھ کرنا پڑ رہی تھی۔ یہاں سے مہاجر نفسیات کا سندھی آبادی کے ساتھ تضاد شروع ہوا۔ ون یونٹ کے بعد پیپلزپارٹی پہلی پارٹی تھی جو انتخابات کے ذریعے سندھ میں برسر اقتدار آئی۔ اس نے سندھی آبادی کے لئے جو اقدامات کئے وہ اقدامات کوئی اور پارٹی ہوتی تو بھی کرتی۔ لیکن اس پارٹی کو مہاجر نفسیات نے سندھ کی حامی او ر مہاجروں کی مخالف سوچ کے طور پر لیا۔ یوں معاملہ الجھتا گیا۔ 70کے انتخابات میں اگرچہ جماعت اسلامی، اور جے یو پی (نورانی) نے کراچی میں نشستیں حاصل کیں۔ لیکن ان کی سیاست کی بنیاد مہاجر نفسیات کی بنیاد پر تھی۔ یہ جماعتیں مہاجروں کو ’’کھویا ہوا مقام‘‘ یعنی جو انہیں قیام پاکستان سے لے کر ساٹھ کے عشرے کے آخر تک حاصل تھا۔ نہیں دلا سکیں تو ایم کیو ایم وجود میں آئی اور خالصتاً مہاجر نعرے پر سیاست کرنے لگی۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر دھڑے بندی تنظیمی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران یہ بھی بتاتا ہے کہ اردو بولنے والے نفسیاتی اور سیاسی الجھاؤ کا شکار ہیں ۔ وہ اس تمام بحرانی صورت حال میں کوئی واضح لکیر نہیں کھینچ پا رہے ہیں۔ وہ گزشتہ تین عشروں کی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاست انہیں عدم سلامتی کے بلاجواز خوف میں مبتلا رکھتی رہی۔وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں غلط طور پرذاتی یا گروہی مفادات کے لئے استعمال کیا گیا۔ ایک طرف انہیں اس خوف میں مبتلا کیا گیا دوسری طرف یہ بھی باور کرایا گیا کہ حکومت، اقتدار، ریاست تک رسائی کے لئے ایم کیو ایم واحدذریعہ ہے۔ اگر وہ نہیں رہتی تو اقتدار سے ان کا تعلق اور رشتہ کٹ جائے گا۔ لیکن عملاً یہ بھی ہوا کہ ایم کیو ایم کی سیاست نے انہیں ملک بھر میں تنہا کر دیا۔ پھر ایم کیو ایم کے اندر جو بحران ہوئے انہوں نے اردو آبادی کو مزید سیاسی اور تنظیمی الجھنوں میں ڈال دیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اب سندھ بھی اس تبدیل شدہ صورت حال میں اپنے رویے تبدیل کرے۔ سندھ کی سیاست میں مہاجر نفسیات اور اس کی بنیاد پر مہاجر سیاست قیام پاکستان کے فوری بعد شروع ہو گئی تھی۔ لیکن اس کی صورت مختلف تھی۔ شاید اس کی بدترین شکل 1985ء کے بعد قائم ہونے والی ایم کیو ایم بنی۔

غیر جاندارانہ اور جمہوری سوچ کے نقطۂ نظر سے سوچا جائے ایم کیو ایم کی سیاست نے جہاں ملک کی جمہوری جدوجہد کو نقصان پہنچایا وہاں سندھ کو بھی پہنچایا۔ بلکہ اس سیاست نے خود مہاجروں کو بھی نقصان پہنچایا۔اعدا وشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ تین عشروں کے دوران اس تنظیم نے سب سے زیادہ مہاجروں کو ہی مارا ہے۔ ایم کیو ایم نے تین دہائیوں تک اقتدار کے مزے لئے۔ کراچی میں دہشت کے ذریعے اپنی سیاست کو زندہ رکھا۔ لیکن دیکھا جائے تو اس سیاست نے اردو بولنے والوں کی کئی نسلوں کو ایسی ضرب کاری لگائی ، جس سے نکلنے اور اس کی تلافی کے لئے اس مدت سے زیادہ ہی عرصۃ چاہئے۔ اس کے نچلے اور درمیانہ طبقے کے ہاتھوں سے کتابیں چھن گئیں ، اس کی جگہ پر بندوقیں آگئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ صرف خود کو ہی ’’اعلیٰ اور طاقت ور‘‘ سمجھنے والی نفسیات میں مبتلا رہی۔ اس کے نوجوانوں کا رخ علم، ادب، انسانی تعمیر کے علم اور ہنر کے بجائے جرائم دہشت گردی کی طرف ہو گیا۔ یہ منفی امیج مزید اردو بولنے والوں کو پیچھے لے گیا۔ اس سوچ، نفسیات اور سیاست نے اردو بولنے والی آبادی کو تنہائی کا شکار کر دیا۔ ریاستی اداروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اب بھی سیاسی اور نفسیات کے حوالے سے صورت حال بہتر نہیں ۔ نچلے اور درمیانی طبقے کی تنہائی کا یہ احساس حقیقت پسندی کی طرف ایک مثبت رخ میں بھی سفر کر سکتا ہے تاہم یہ خطرہ اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کوئی اور بھی بدترین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ سوال صرف اردو بولنے والوں کے لئے ہی نہیں بلکہ سندھ اور ملک بھر کے دنشوروں کے لئے ہے۔ بھارت سے آکر یہاں بسنے والے بہرحال اب سندھ کی مستقل آبادی ہیں۔ لہٰذا ان کے مسائل کو اسی انداز میں سمجھنا پڑے گا اور اس کا حل ڈھونڈنا پڑے گا۔ عارضی یا وقتی طور پر خواہ کچھ بھی ہو ان کے طویل مدت کے مفاد سندھ کے مجموعی مفادات کے ساتھ نتھی ہیں۔ حالیہ تضادات ملک کے کسی خاص طبقے خاص طور پر حکمران طبقے کے مفادات کو پورا کر سکتے ہیں، لیکن آنے والی نسلوں کے مفادات سے قطعی طور پر ہم آہنگ نہیں ۔ لہٰذا یہ مفادات جہاں اردو آبادی کے حق میں نہیں اسی طرح سے سندھی آبادی کے بھی حق میں نہیں ہیں۔ اردو آبادی کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے مفادات سندھ کی تقسیم یا اس طرح کے کسی فارمولے میں پنہاں نہیں ۔ اس طرح کی نفسیات اور سیاست ان کو مزید تنہائی کی دلدل میں جھونک دے گی۔


ای پیپر