تمنا ، خواہش اور حقیقت …!
12 مارچ 2018 2018-03-12

کالم بھیجنے میں تاخیر کی وجہ سے ہفتے کے روز چھپنے والے کالم کا ناغہ ہو گیا ورنہ اس کالم میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے لیے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے متوقع اُمیدواروں اور اُن کی کامیابی کے امکانات اور اس حوالے سے جاری بھاگ دوڑ اور جوڑ توڑ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب یہ جائزہ بے سُود ہو چُکا ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک یہ سامنے آ چکا ہو گا کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ہما کن کے سروں پر بیٹھ چکے ہیں۔ کاش سینیٹ کے چیئرمین کا عہدہ بلوچستان کے حصے میں آیا ہو اور ڈپٹی چیئرمین کا تعلق فاٹا یا سندھ سے بن رہا ہو۔ کاش سے تمنا کا اظہار ہوتا ہے ، ضروری نہیں کہ تمنا اور وہ بھی میری طرح کے کسی کم مایہ شخص کی تمنا کے پورے ہونے کی راہ کھل سکے اور وہ مقتدر حلقوں کی خواہش کا روپ دھار کر پوری ہو رہی ہو۔ ویسے میری تمنا تو یہ بھی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے لہجے میں جو تلخی پیدا ہو چکی ہے اور اُن کے اندازِ تکلم میں جو باغیانہ پن دن بدن زیادہ جھلکنے لگا ہے کاش ایسا نہ ہوتا۔ میاں محمد نواز شریف ایک شُستہ ، سنجیدہ ، بُرد بار اور متحمل مزاج شخصیت ہیں ۔ اُن کی پاکستان سے محبت اور وفاداری پر کوئی احمق اور اُن کا انتہائی کٹر مخالف ہی اُنگلی اُٹھا سکتا ہے لیکن بڑے بڑے عوامی اجتماعات میں وہ اور اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز جس طرح کے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اس سے کچھ سے زیادہ ہی غصہ اور ناراضگی جھلکنے لگی ہے۔اگلے روز بہاولپور میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران میاں صاحب نے جو کچھ کہا اُسے تقریباً تمام قومی اخبارات نے شہ سُرخیوں سے شائع ہی نہیں کیا ہے بلکہ بڑے اُردو قومی اخبارات نے ایک جیسی شہ سُرخی (لیڈ) جمائی ہے جو کچھ اس طرح ہے ’’باغی ہوں، حق چھین لوں گا۔ ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ ستر سالہ پالیسیوں کے خلاف بغاوت کرتا ہوں‘‘ شہ سُرخی کے ان الفاظ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں مزید کیا کچھ کہا ہو گا۔ بلا شبہ میاں محمد نواز شریف کے لہجے میں تلخی اور اُن کے اندازِ تکلم میں کچھ کچھ باغیانہ پن دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے یقینا اس کی کچھ وجوہات ہیں ان وجوہات کا اگر ازالہ نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ ان پر پانی ڈالنے کی بجائے تیل ڈال کر مزید بھڑکانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ مقتدر ریاستی حلقوں کو اس طرف دھیان دینا چاہیے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جو اس وقت بھی وفاق اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بر سرِ اقتدار ہے اور اُس کا قائد جو تین بار ملک کا چیف ایگزیکٹو (وزیر اعظم) رہ چکا ہے وہ آخر اس طرح کے خیالات کے اظہار پر کیوں مجبو رہو چکا ہے۔
میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز پورے زور و شور اور جو ش و جذبے سے اپنی رابطہ عوام مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں زبردست عوامی پذیرائی بھی مل رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ عوام اُن کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ صورتحال جہاں میاں محمد نواز شریف کے مخالفین کے لیے لمحہ فکر کی حیثیت رکھتی ہے وہاں سنجیدہ قومی حلقوں کے لیے غو رو فکر کی بھی متقاضی ہے کہ آخر میاں محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت غیر صادق اور غیر امین ہونے کی بنا پر وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے جانے اور قومی اسمبلی کی رُکنیت اور پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دئیے جانے کے باوجود عوام کی اکثریت کیوں اُن کے دامن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اب اگر ایسی قومی شخصیت جو اقتدار اور عہدوں سے محرومی کے بعد بھی عوام میں مقبول ہے اُسے قومی دھارے سے نفی کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو ایسی کوششوں سے قومی اتحاد و یکجہتی او رسیاسی استحکام اور جمہوری نظام کو کتنی گزند پہنچے گی میری تمنا ہے کہ اس کو بھی مدِ نظر رکھا جائے لیکن تمنا خواہش کا روپ کیسے دھارے اور حقیقت بن کر کیسے سامنے آئے اس کے راستے میں کتنی ہی نہاں اور عیاں رکاوٹیں ہیں۔ خیر تمنا اور خواہش کے تذکرے کوایک طرف کر کے ایک حقیقت کی طرف آتے ہیں۔
امریکی ادارے ’’گلوبل فائر پاور ‘‘نے دُنیا کے 133 ملکوں کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کو چھوڑ کر روایتی ہتھیاروں ، جنگی سازو سامان اور فوجی نفری کی بنیاد پر ان ملکوں کی فوجی طاقت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے 2017 میں اپنی جنگی طاقت (صلاحیت) میں قابلِ ذکر اضافہ کیا ہے اور 133 ملکوں کی فہرست میں اس کا 13 واں نمبر ہے۔ دُنیا کے 133 ملکوں کی فہرست جس میں فوجی طاقت کے لحاظ سے امریکہ پہلے نمبر پر ، روس دوسرے نمبر پر ، چین تیسرے نمبر پر اور بھارت چوتھے نمبرپر ہے پاکستان کا تیرہویں نمبر پر ہونا اس کی مضبوط فوجی قوت کا ثبوت ہے۔ ’’گلوبل فائر پاور ‘‘ کے اس تجزیے کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی موجودہ فوجی طاقت اور ماضی میں اس کی فوجی طاقت اور اپنے روایتی دُشمن کی طرف سے اس پر ٹھونسی جانے والی جنگوں میں اس کی بہادر افواج کی کارکردگی کا اجمالی سا تذکرہ موجودہ نامساعد سیاسی حالات اور ملک کی سلامتی کو درپیش حقیقی خطرات کے پس منظر اور پیش منظر میں یقینا دلوں میں اُمید کی جوت روشن کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ’’گلوبل فائر پاور ‘‘ کے مطابق امریکہ کا قومی بجٹ 587 ارب ڈالر ، چین کا 161 ارب ڈالر ، بھارت 57 ارب ڈالر اور پاکستان کا فوجی بجٹ صرف 7 ارب ڈالر ہے۔
بھارت اگر اپنے 57 ارب ڈالر دفاعی بجٹ کے ساتھ فوجی قوت کے لحاظ سے 133 ملکوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے تو پاکستان جس کا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں 8 گنا کم ہے اُسے فوجی طاقت کے لحاظ سے بھارت سے آٹھ گنا دوری پر کہیں اکتیسویں، بتیسویں نمبر پر ہونا چاہیے لیکن پاکستان بفضل تعالیٰ اپنی فوجی طاقت کے لحاظ سے عالمی فہرست میں تیرہویں نمبر پر ہے جو پاکستان کی فوجی قوت کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
جہاں تک فوج کی تعداد اور جنگی ساز و سامان کا تعلق ہے بھارت بلا شبہ پاکستان سے بہت آگے ہے۔ بھارت کے سرگرم فوجیوں کی تعداد 13 لاکھ اور ریزرو فوجیوں کی تعداد 28 لاکھ ہے۔ اُس کے ٹینکوں کی تعداد 4400 ،طیارے 3000 اور تین طیارہ بردار جہاز بھی ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے سر گرم فوجی چھ لاکھ سینتیس ہزار بھارت سے تقریباً نصف ،ریزرو فوجی 3لاکھ ، جنگی طیاروں کی تعداد 1000 اور ٹینکوں کی تعداد 3000 ہے۔ فوج کی نفری اور جنگی ساز وسامان کا یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت پاکستان سے بہت آگے ہے لیکن جنگیں صرف فوجی ساز و سامان اور فوج کی نفری کی برتری سے ہی نہیں لڑی جاتی ہیں ان میں کچھ اور عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی جنگوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بھارت فوجی سازو سامان اور فوج کی تعداد کے لحاظ سے اُس وقت بھی بہت آگے تھا لیکن ہمارے مسلح افواج کے جذبہ ایمانی ، بہادری ، جرات اور دلیری کے سامنے اُس کی کچھ بھی پیش نہ آئی اور وہ ہمیں میدانِ جنگ میں نیچا دیکھانے میں کبھی بھی کامیاب نہ ہو سکا۔1965ء کی جنگ کے واقعات آج بھی بڑی عمر کے بہت سارے لوگوں کو نہیں بھولے ہونگے کہ کس طرح پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا بڑی جوانمردی اور ہمت اور حوصلے کیساتھ مقابلہ کیا ہاں دسمبر 1971ء میں پاکستان کو مشرقی پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس کی وجہ اُس وقت کی پاکستان کی فوجی قیادت کی نااہلی کے ساتھ مشرقی پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹی شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کی بھڑکائی ہوئی آگ تھی جس نے بنگالیوں کی اکثریت میں اس سوچ کو راسخ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کسی صورت میں نہیں رہنا چاہتے تھے ۔ اس طرح پاکستان دو لخت ہوا اور بنگلہ دیش وجود میں آگیا۔


ای پیپر