قابل مذمت
12 مارچ 2018

میاں نواز شریف کو جوتا مارنا قابل مذمت ہے۔ یہ سیاست نہیں لٹھ بردار، غیرمعیاری مخالفت اور اخلاق سوز فعل ہے۔ جیسے کو تیسا اسلامی شعار نہیں۔ اسلام کا پیروکار ایسے قبیح فعل سے اجتناب کرے گا کیونکہ اسلام میں مخالفت کرنے کے معیاری ضابطے وضع کردیے گئے ہیں اگر آپ قرآن و حدیث کو مانتے ہیں تو غیر شائستگی سے پرہیز کیجئے اپنی رائے دوسرے پر تھوپنے ، جوتے مارنے اور قتل کرنے کی بجائے آپ کو احکامات دیے گئے ہیں ان پر غور کیجئے۔ قرآن مجید میں سورۃ الانعام آیت نمبر 108میں حکم صادر ہورہا ہے ’’اور(اے ایمان والو)یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب کی طرف پلٹ کر آنا ہے ، اس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں‘‘۔
یہ نواز شریف یا اس جیسے کسی تاریخ کے کونے میں پڑے لیڈر کی بات نہیں ہورہی یہاں تک کہ یہ کسی عظمتوں والے نبی کی بات بھی نہیں ہورہی بلکہ اللہ اسلام کے پیروں کاروں کو اپنی مثال دے کر معاشرتی ضابطہ سکھا رہا ہے کہ تم ان کے جھوٹے خداؤں کو اس لیے گالی نہ دو کہ کہیں جواباً یہ تمہارے سچے خدا کو گالی نہ دیں۔ ایک مستند حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہؓ کی جماعت سے رسول اللہؐ نے فرمایا کہ وہ شخص ہلاک ہوگیا جس نے اپنے باپ کو گالی دی تو ایک صحابی نے عرض کی یارسولؐ کیا کوئی ایسا شخص بھی ہوسکتا ہے جو اپنے باپ کو گالی دے تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی نے دوسرے کے باپ کو گالی دی اور اس نے جواب میں تمہارے باپ کوگالی دی تو ایسا ہی ہے جیسے کہ تم نے خود اپنے باپ کو گالی دی۔اسلام اعلیٰ ترین اخلاق کی معاشرتی فضا قائم کرتا ہے۔
اب اس آیت اور حدیث کی روشنی میں معاشرے میں پھیلے عدم برداشت کا جائزہ لیجئے۔ جب ایک مسلک سے تعلق رکھنے والے صاحب فضیلت لوگ دوسرے
مسلک سے تعلق رکھنے والے صاحب تقویٰ کو گالیاں دیں گے، تبرے بھیجیں گے، اپنی جماعت بڑھانے اور اپنا مسلک درست ثابت کرنے کے لیے تحقیقی مقالہ جات اور علمی بحث و تمحیص کی بجائے دوسرے مسلک کے رہنماوں کو گالی دینا معمولی بات اور یہاں تک کہ بات بڑھ جائے تو گولی مارنے کو بھی قابل تحسین امر سمجھیں گے تو برداشت، سمجھ بوجھ غورو غوض یا معاشرے میں تہذیب پیدا ہونے کی بجائے لٹھ برداری اور تحقیق بیزاری پیدا ہوگی۔ لوگ زبان سے اچھا کلام کرنے کی زحمت کرنے کے بجائے جوتے کی زبان و بیان پر اکتفا کریں گے۔ احساس جنتی کا شکار ہوکر فتوے اور جگتوں کو اپنا شعار بنائیں گے۔
دینی جماعتیں، درگاہیں اور مدارس جب غیر شائستہ سیاست کواپنائیں گی توعام سیاسی جماعت کا کارکن شتر بے مہار ہوکر معاشرتی بگاڑ پیدا کرے گا۔
نواز شریف کو جوتا کیوں مارتے ہو؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کے کندھے پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں آنا بذات خود کسی جوتے سے کم ہے اور پھر عوام کی خدمت میں نام کمانے کی بجائے بے انتہا دولت کما کر پانامہ کی ذلت و رسوائی کے بعد پارٹی صدارت تک سے ہاتھ دھو بیٹھنا تاریخ کا وہ جوتا اور کلنک کا وہ ٹیکہ ہے جس کا داغ کبھی نہیں جائے گا۔ یہاں تک کہ اگر سپریم کورٹ خود بھی ڈرائی کلین مشین لگا لے تو بھی ممکن نہیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے تاریخ میں بڑے بڑوں کے داغ دھوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے کچھ فیصلے ایسے بھی آئے کہ لٹیروں کا کالا دھن سفید کرکے لٹیروں کو قومی دھارے میں لایا گیا اور پھر سے مسند اختیار و اقتدار پر براجمان کردیا گیا۔ یہ وہ لٹیرے نما قائدیں تھے جن کی دولت آج بھی نواز شریف سے زیادہ نہیں تو کسی طور کم بھی نہیں ہے مگر انہوں نے سپریم کورٹ سے ٹکر لینے کی بجائے سپریم کورٹ کو عزت دی اور انہیں سپریم کورٹ نے جھاڑ پونچھ کر صاف کردیا۔ ان کے خلاف بڑے زمانے سے سپریم کورٹ کو سو موٹو تو کیا بلکہ یوں لگتا ہے کہ سپریم کورٹ اور نیب کو اب انکا خیال بھی نہیں آتا۔ اسی بات کا فائدہ اٹھا کر نواز شریف جیسے لیڈر کبھی سپریم کورٹ پر حملہ کرتے ہیں اور کبھی ان کے فیصلوں کے خلاف طبلِ جنگ بجاتے ہیں تاکہ ووٹ کے تقدس کی آڑ میں دولت کی حفاظت کی کوئی سبیل نکالی جاسکے اور دیگر لٹیروں اور لیڈروں کی طرح قومی دھارے میں داخل ہوا جا سکے اور اگر کچھ بھی ممکن نہ ہو تو اپنے خاص الخاص جج سے کمزور فیصلہ کروا کر مجھے کیوں نکالا تحریک چلاتے ہیں ، نوٹ بینک بچا تے ہیں اور ووٹ بینک بڑھاتے ہیں۔ مگر یاد رہے یہ سب تاریخ کے جوتے ہیں۔
ایک دقت یہ بھی ہے کہ میاں صاحب کو خود عوامی عدالت لگانے کا شوق نہ جانے کہاں سے چرایا ہے۔ آئے دن جلسوں میں جہاں چار بندے دیکھے عوام سے فیصلہ کروانے بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ جو مجھے اقامے پر نکالا ہے، یہ جو بچے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا ہے، یہ درست ہے یا نہیں۔ جواب آتا ہے نہیں۔ میاں صاحب اسے دہراتے رہتے ہیں اور پھر میڈیا اسے رات تک دکھاتا رہتا ہے کہ عوام نے میاں صاحب کے حق میں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ اب جب عوام کے ہاتھ میں فیصلہ دیں گے تو کہیں نعرہ شیرایک واری فیر لگے گا تو کہیں سے جوتا بھی آن پڑے گا۔ اس پر عوام کو ذمہ دار ٹھرانا بھی غلط ہوگا۔ عوام سے فیصلے کروانے کا سلسلہ میاں صاحب نے خود شروع فرمایا ہے اب کوئی دن جناب کی موافقت میں نکلے گا تو کوئی دن مخالف ہواؤں کو لے کر آئے گا۔ بہتر یہی ہوگا کہ فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنے دیں اور چپ چاپ جو کچھ اپنی صفائی میں ہے وہ پیش کریں اور پھر فیصلہ تسلیم کرلیں۔ سپریم کورٹ کو بھی چاہئے عوام کے غصے سے سبق سیکھیں۔ درست فیصلہ بروقت دیں۔ عوام میں جا جا کر ہیرو بننے اور اپوزیشن لیڈر بننے کے بجائے اپنا کام جلد از جلد نپٹا دیں اور باقی عوام پر چھوڑ دیں۔ چلتے چلتے مفت مشورہ ایک اور یہ جو میاں صاحب اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہر تقریر میں فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں عزت دے رہا ہے اس قسم کے بیانات دینے بند کرکے اچھے اچھے کام کرنے پر توجہ مرکوز کریں کیونکہ اللہ اپنے بارے میں دیے گئے بیانات کا جواب خود نہیں دیتا اپنے بندوں کے زریعے ہی دلواتا ہے
جوتے ان کے عارضِ گلفام پے
ہائے یہ عہدے بھلا کس کام کے


ای پیپر