منفی سیاست اور جنگل کا رخ
12 مارچ 2018 2018-03-12

مجھے یاد ہے کہ جب منتظر مہدی نے بش پر جوتا پھینکا تھا تو میں نے بھی اس کے حق میں کالم لکھا تھا جس میں تاریخی پس منظر کا حوالہ دیا گیا تھا۔ بش نے 9/11 کے واقعہ کو صلیبی جنگوں سے تعبیر کیا تھا اور اس دور کے مسلمان ممالک پر توڑے گئے مظالم نے مسلم ممالک کی کمر توڑ ڈالی اور امہ کا امیج بدل کر رکھ دیا۔ ہمارے ’’نہ ڈرنے ورنے والے‘‘ حکمران مشرف کو ایک فون کال کر کے ڈھیر کر دیا، کئی دانشوروں نے کہا کہ قائداعظمؒ بھی اگر ہوتے تو یہی کرتے جو مشرف نے کیا۔ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان کا آملیٹ بن جاتا امریکہ کی جنگ پاکستان میں لڑنا پڑی ہمارے چوکوں ، سڑکوں، عبادت گاہوں ، ہسپتالوں، حساس علاقوں، کھلے باغوں، تفریح گاہوں، تعلیمی اداروں، قبرستانوں میں جنازوں کے اجتماعات اور شادی کی تقریبات، غرض کہ کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہاں بم نہ پھٹے۔ ایسی دہشت گردی آئی کہ الامان الحفیظ ، وطن عزیز کے نقصان کا کچھ اندازہ نہیں،عراق، شام، افغانستان کی بھی یہی حالت رہی۔ ہمارے ہاں جگہ جگہ ’ناکہ اور چیکنگ‘ نے زندگی اجیرن کر دی۔ سکولوں کالجوں میں ہونے والے دھماکے ہماری روحوں تک کو زخمی کر گئے، عالم یہ ہے کہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی شخصیت کو بھی دہشت گردی کی آڑ میں شہید کر دیا اور وطن عزیز ایک محب وطن سیاسی شخصیت محترمہ بینظیر بھٹو سے محروم ہو گیا۔ یہ پس منظر تھا جس کی وجہ سے بش کی طرف جوتا پھینکنے کو میں نے ردعمل قرار دیا۔ مگر ہمارے ہاں سیاست کسی نظریہ پر نہیں ذاتی نفرت پر چلتی ہے اور اس نفرت کی بنیاد ذاتی مفاد اور حصول اقتدار کے لیے ڈالی جاتی ہے۔ 1977ء میں بھٹو صاحب سے اقتدار لینا تھا تو سیاسی مطالبے کو مذہبی تحریک بنا ڈالا جس کو نظام مصطفی کا نام دیا گیا۔

بین الاقوامی سازش تکمیل کو پہنچی۔ بھٹو صاحب کو جب عوامی سطح پر شکست نہ دی جا سکی اقتدار سے الگ کیا اور پھر جان ہی لے لی اُن کی پارٹی کے ساتھ جو ہوا وہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے اور نظام مصطفی کے ساتھ جو منافقت کی گئی وہ بھی یا درہے گی۔ ہمارے ہاں اینکرز، دانشور اور لکھاریوں کا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کی بات نہیں کرتے اپنی رائے مسلط کرتے ہیں۔ عوام کو شعوری طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ لوگ اخبار اور ٹی وی کے ذریعے ہی معلومات حاصل کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ کے ذریعے جو تعصب ابھرتا ہے شاید بش اتنا متعصب نہ ہو جتنے ہمارے دانشور ہیں۔ اگلے دن ایک چرب زبان اینکر جو حال ہی میں سنے گئے ہیں انقلابی کی تعریف بیان فرما رہے تھے کہ انقلابی یہ نہیں کرتا، انقلابی یوں نہیں کرتا، انقلابی وہ نہیں کرتا میں سمجھتا ہوں کہ انسان کسی بھی وقت کچھ بھی فیصلہ کر سکتا ہے اور ہماری تو تاریخ بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ کی مثال تو میرے ایک محترم دانشور پی ٹی آئی جوائن کرنے والوں کے لیے کئی بار دے چکے ہیں اور پھر مرد حر کی کہانی بھی یہی ہے۔ بہرحال وہ ہستیاں تو ایسی ہیں جن کا نام لینے سے پہلے کم از کم کلی کرنا چاہیے۔ آج کل میاں نواز شریف کی مخالفت کرنا ایک قلمی رواج بن گیا ہے۔ یہ رواج زرداری پر بہت عرصہ بلکہ اب تک رائج رہا ہے۔ کالم نگاری اور تجزیہ نگاری یا تجزیہ گفتاری میں آج جو سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہمارا ہر تجزیہ کار ’’دانشور‘‘ عوام کی نہیں بلکہ اس پارٹی کی بات کرتا ہے جس کے ساتھ اس کی عقیدت ہے اور وہ بھی کچھ اس انداز سے کہ کرائے پر بلائے ہوئے نعرے لگانے والے بھی دانتوں میں انگلیاں داب کر رہ جائیں۔

ابھی حالیہ واقعات میں خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکی گئی جب کہ ضرورت نہیں تھی مگر اس سے تشدد کی فضا دو آتشہ ہو گئی ۔ اگلے روز ہی میاں نواز شریف کو ایک معروف درسگاہ میں مہمان بلایا گیا اور مہمان نوازی ساری دنیا نے دیکھ لی۔ یہ رویے ہماری معاشرت کو ملیا میٹ کر دیں گے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے اور ا س پر چند ایک کالم نگاروں کی سوشل میڈیا پر پوسٹ دیکھ کر میں بہت مایوس ہوا کہ عمران خان تو مذمت کر رہا ہے لیکن کارکن حمایتی ہیں، انتہائی قابل شرم پوسٹ لگا رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اگر جوتا میری طرف آتا تو میں بہت اچھا کیچ کرتا اور میں تھرو بھی بہت اچھا کرتا ہوں۔ عمران خان کا یہ بیان اپنے آپ کو نوجوان اور بانکا ثابت کرنے کے لیے تو ہو سکتا ہے ایک سیاستدان کا بیان نہیں۔ اگر غور کریں تو نوازشریف کی مقبولیت ’’نااہل‘‘ ہونے کے باوجود اس کے امیدواروں کی جیت سے ظاہر ہے ہے، یہ عمران اور پی پی کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ عمران خان کو ان آئے ہوئے نتائج کو کیچ کرنا چاہیے اور واپس تھرو کرنا چاہیے ۔ زرداری کے چیئرمین سینٹ کی حمایت کا عندیا دینا اور اپنے سینیٹرز کے مطالبے پر واپس لینا یہ سب کیا ہے۔ وطن عزیز کی ہر سطح کی قیادت مکافات عمل سے گزری ہے اور گزرتی رہے گی۔ نہ جانے کب جا کر ان کے رویے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور انسانی اصولوں کی پاسداری کریں گے۔ یہ سیاہی کا پھینکنا، جوتے بازی خدا نخواستہ کہیں پیغام تو نہیں کہ یہ سیاہی اور جوتے گولی بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ایسا ہونا کوئی پہلی بار نہ ہو گا۔ اللہ نہ کرے کہ اس کے پیچھے کوئی سنجیدہ اور مربوط سازش ہو۔ نواز شریف اچھے خاصے فارغ ہو رہے تھے مگر مخالفانہ رویوں نے انہیں آج وطن عزیز کا مقبول ترین رہنما بنا دیا اگر ان کی گرتی ہوئی ساکھ پر سیاسی ردعمل دیا جاتا تو وطن عزیز کے سیاسی حالات پر امن اور تبدیل ہوتے اور تبدیلی آ چکی ہوتی۔ مجھے افسوس ہے کہ نواز مخالف طبقے ان حربوں سے اس کی مخالفت نہیں حمایت کر رہے ہیں مگر ایسا نہ ہو سکا۔

سیاہیوں ، جوتوں، گالیوں ، الزامات، تہمتوں اور فلمی مکالموں جیسے مکالموں کی سیاست ، اداروں کے ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت کی روش نے ہماری معاشرت کی یہ حالت کر دی کہ یقین کیجیے، کل میں نے ٹی وی چینلز بدل کر جن میں ہمارے اینکرز، خبریں اور سازشوں کی کہانیوں پر مبنی ڈرامے چل رہے تھے تبدیل کر کے نیشنل جیو گرافی وغیرہ لگا لیے۔ میں نے جوتوں کی سیاست قہر و کہرام کی سیاست تشدد کی سیاست سے جنگل کا رخ کیا ۔ مجھے یہ چینلز لگا کر جنگلی حیاتیات کا طرز زندگی دیکھ کر بہت سکون ملا۔ ایسے جیسے ایک طوفان تھم گیا۔ ایک کڑکتی ہوئی بجلی خاموش ہو گئی۔ جیسے میرا پھولا ہوا سانس سکون میں بدل گیا، جیسے میری سرپٹ دوڑ ختم ہو گئی اور میں سکون سے بیٹھ گیا۔ میرا اپنے قارئین اور احباب کے لیے مشورہ ہے کہ دن میں جتنا ٹی وی دیکھتے ہیں اس کا 75 فیصد وقت جنگلی زندگی والے چینل لگا لیں محظوظ بھی ہوں گے اور صحت بھی ٹھیک رہے گی۔ درندگی سننے اور دیکھنے سے محفوظ رہیں گے۔ جھوٹ ، مکاری اور بدکاری سننے دیکھنے سے اجتناب کریں۔ چھوڑیں ان کو اپنی صحت کا خیال رکھیں اور ایسے درندگی پھیلانے والے حالات سے فرار حاصل کریں۔ چینلز بدلیں۔


ای پیپر