اپنی سینیٹ اور جمہوری دانشو ر
12 مارچ 2018 2018-03-12

امریکہ میں صدر کا چنائو عرصہ چار سال کے لیے ہوتا ہے۔امریکن آئین میں ایسی کوئی پابندی نہیں تھی کہ ایک شخص کتنی بار امریکی صدر بن سکتا ہے۔ لیکن پہلے امریکی صدر جاج واشنگٹن نے تیسری بار صدر بننے کا راستہ اختیار نہ کیا۔ ان کا ایسا کرنا اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ آٹھ سال تک عہدہ صدارت پر براجمان رہنا کافی ہوتا ہے۔جارج واشنگٹن کی دوبار صدر رہنے کی حد امریکہ میں ایک غیر تحریر شدہ قانون کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے بعد 1940ء میں امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ الیکشن جیت کر تیسری بار صدر بن گئے۔ روزویلٹ جنگ عظیم دوم کا پورا عرصہ امریکی صدر رہے۔ وہ امریکی قوم کے ہردلعزیز صدر تھے۔وہ چوتھی بار بھی الیکشن جیت کر امریکی صدر بن گئے ، لیکن چوتھی ٹرم کے آغاز ہی میں اپریل 1945ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ان کی وفات کے بعد ریپبلکن نے کانگریس میں بائیسویں آئینی ترمیم پرکام شروع کر دیا۔ کانگریس نے امریکن آئین میں یہ ترمیم 1947ء میں منظور کرلی لیکن اس کی تصدیق امریکی ریاستوں نے27 فروری 1951میں کی۔ یہ ترمیم واضح کرتی ہے کہ ایک شخص صرف دوبار امریکی صدر بن سکتا ہے اور یہ عرصہ زیادہ سے زیادہ آٹھ سال ہو سکتا ہے۔ روزویلٹ پہلے اور آخری امریکی صدر تھے جو دوبار سے زیادہ دفعہ امریکی صدر بن سکے۔بہتر (72) سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ااس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
امریکہ کی دو ٹرم پالیسی برائے صدر مجھے اس وقت یاد آئی جب پتہ چلا کہ محترم رضاربانی صاحب چھٹی مرتبہ سینیٹر کی ٹرم پوری کرچکے ہیں اور اب ساتویں مرتبہ کے لیے انہوں نے 12مارچ 2018ء کو حلف لینا ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ ہمارے لوگوں کی عہدے پاس رکھنے کی بھوک اتنی شدید ہے۔ابھی تو وہ دوسری دفعہ سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے حالات کو اس طرح اور اس حد تک manoeuvre کرچکے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ اگرپیپلز پارٹی رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد کرتی ہے تو پھرہم اپنا امیدوار کھڑا نہیں کریں گے۔لیکن آ ّصف زرداری ایک تجربہ کار اور جہاندیدہ سیاستدان ہیں، انہیں معلوم تھا کہ محترم رضا ربانی اپنے پچھلے عرصہ چیئرمین شپ میں کیا ’’خدمات‘‘ سر انجام دیتے رہے ہیں۔اس لیے انہوں نے برملا کہہ دیا کہ یہ تجویز انہیں قابل قبول نہیںہے۔نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں یہ کہنا پڑ گیا کہ رضا ربانی نے نواز شریف کی آئینی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا۔یہ بات تو سب کے سامنے ہے کہ جب سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد میاں نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے اہل بنانے کی خاطر ترمیم سینیٹ میں لائی گئی تو میاں رضا ربانی نے اس کی منظوری کے لیے ہر طرح کی آسانیاں پیدا کیں۔ سب حیران تھے کہ یوں تو رضا ربانی صاحب بات بات پر آئین کی بالا دستی کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے لیکن اس کیس میں انہیں آئین بالکل یاد نہیں آیا، حالانکہ پوری دنیا چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ یہ ترمیم آئین کی روح کے خلاف ہونے کی بنا پر سپریم کورٹ تک پہنچ جائیگی اور سپریم کورٹ اسے ختم کر دے گی۔پھر ان کی اپنی پارٹی یعنی پیپلز پارٹی ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ سپریم کورٹ جا پہنچی۔ اس کے بعد وہی ہو۱ جو سب کو معلوم تھا ، یعنی سپریم کورٹ نے اس ترمیم کو ختم کر دیا۔ لیکن میاں رضا ربانی نے تو اپنا مقصد پا لیا ، میاں نواز شریف کے دل میں جگہ بنا لی۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ انہوں نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دل میں بھی جگہ بنائی ہوئی ہے اور اس دفعہ ان کی سینیٹ کی سیٹ کے لیے نامزدگی انہی کی بدولت ہے۔ بلاول صاحب معصوم آدمی ہیں اگر ان کے سر پر آصف زرداری جیسے سردو گرم چشیدہ سیاستدان نہ ہوں تو ان کی پارٹی کے بابے انہیں کب کے گھول کے پی چکے ہوں۔ ہمارے ایک بہت زیرک اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے آفیسرمحترم تجمل رضوی ’ بلاول ‘ کو پیار سے ’’ بدایوں کا ـ للا ‘‘ کہتے ہیں ۔میں نے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں ، کہنے لگے کہ بدایوں کے للے ایسے ہی بھولے بھالے ہوتے تھے جیسے بلاول بھٹو صاحب ہیں۔ صرف میاں رضا ربانی ہی نہیں پیپلز پارٹی میںایسے کئی دانشور ہیںجن کی سیاسی اور جمہوری حیثیت اتنی ہے کہ وہ صرف سینیٹر ہی بن سکتے ہیں۔ یہ لوگ باتیں تو ہر وقت جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کی کرتے ہیں لیکن ان کا جمہور کے ساتھ تعلق صرف اتنا ہے کہ وہ ایک دفعہ بھی جمہور کا ووٹ لیکر کسی اسمبلی یعنی قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبر نہیں بن سکتے۔اس قسم کے ایک اور کردار بھی پیپلز پارٹی میںہیںجن کی تقریباً ساری زندگی بطور پریس سیکرٹری اور ترجمان آصف علی زرداری گزری ہے ۔ ان کی شخصیت کا آپ اندازہ لگا لیں جن کا تعارف ہی پریس سیکرٹری اور ترجمان آصف علی زرداری ہو۔کیا یہ ان کے لیے کافی نہیں ہے۔لیکن وہ بھی اپنے آپ کو آئین ، پارلیمنٹ اور قانون کی حکمرانی کے علمبردار ’’انقلابی‘‘ کے طورپر منوانے کے لیے نکل پڑے ہیں ۔ انہوں نے تو آخری لمحے تک محترم آصف علی زرداری کی ترجمانی کے قابل فخر فریضہ سے دور ہونے کا نہیں سوچا لیکن نہ جانے کیا ہوا؟ آصف علی زرداری نے انہیں اس عہدہ سے سبکدوش کر دیا اور کسی اور کو یہ عہدہ سونپ دیا۔ پہلے بھی وہ دل گرفتہ تھے کہ زرداری صاحب نے انہیں دوسری ٹرم کے لیے سینیٹر کی ٹکٹ نہیں دی تھی۔ اسی دل گرفتگی میں انہوں نے الوداعی تقریر کی۔ جس میں فرمایا کہ انہوں نے پچھلے سال یکساں ( across the boardِِِِ ) احتساب کے لیے ایک بل تیار کیا تھا، جس کا مقصد عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی احتسابی کمشن کے دائرہ اختیار میں لانا تھا لیکن کسی پارٹی نے بھی اس بل کی حمایت نہ کی حتیٰ کہ ان کی اپنی پارٹی نے بھی۔ حالانکہ اگر ایسا ہوجاتا تو حکومت نے اس ادارے کی سربراہی کے لیے قمرالزمان جیسے قابل آفیسر کو تلاش کر ہی لینا تھااور پھر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے کرپشن کے ناسور کا ہمیشہ کے لیے قلع قمع ہو جاتا۔ان کی الوداعی تقریر کو بہت پسند کیا گیا خصوصاً ملکی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے متعلق ان کے جذبات کو۔اسی طرح محترم رضا ربانی نے بھی اپنی الوداعی تقریر میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر دوسرے اداروں کے تجاوز کا ذکر بھی کیا اور ایوان کی توجہ ایک کیس کی طرف بھی مبذول کرائی۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیزصدیقی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ
سیکرٹریٹ کو احکام دئیے کہ وہ ایک رپورٹ جمع کرائیںجس میں مکمل تفصیل دی جائے کہ الیکشن ایکٹ 2017 ء کی enactmentکا فیصلہ کس نے کیا تھااور کب کیا تھا۔ یہ تفصیل بھی مانگی گئی کہ اس کا ڈرافٹ کس نے تیار کیا تھا اور متعلقہ کمیٹی کے مکمل کوائف جس نے فارم اے کے حلفیہ بیان کے الفاظ تبدیل کرکے اسے حلفیہ بیان سے ایک declarationمیں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔پوری قوم میں ایک آگ لگی ہوئی تھی اور محترم رضا ربانی کو یہ خفیہ راز بتاتے ہوئے پارلیمنٹ کی حدود میں تجاوز ہلکان کیے جا رہا تھا۔پارلیمنٹ کاکام قوانین بنا کر یا ان میں ترامیم کرکے نظام کو بہتر کرنے کا ہے۔ قوم کو کتنا اچھا لگتا اگر رضا ربانی صاحب امریکی صدر جارج واشنگٹن کی طرح کہتے کہ میں تیسری مرتبہ سینیٹ کا ممبر نہیں بنوں گا اور ایک ایسا قانون بنواتے کہ کوئی بھی شخص دو مرتبہ سے زیادہ ممبر سینیٹ نہیں بن سکے گا تاکہ پارٹی کے دوسرے ارکان بھی پارلیمنٹ کے اس اہم ایوان میں اپنا حصہ ڈال سکیں ،لیکن وہ تو ساتویں بار حلف اٹھانے کو تیا ر بیٹھے ہیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ اس ملک میں امریکی طرز کی یہ ترمیم لائی گئی تھی کہ کوئی بھی شخص دو مرتبہ سے زیادہ اس ملک کا وزیراعظم نہیں بن سکے گا۔ لیکن ہمارے ملک میں جمہوریت آنے کے بعد سب سے پہلا کام اس ملک کے جمہوری حکمرانوں نے اس قانون کو ختم کرنے کاکیا ۔
ایہ جارج واشنگٹن ہر ملک وچ نیں ملدے
توں لبھدی پھریں پاکستان کڑے


ای پیپر