عدم برداشت کی انتہا
12 مارچ 2018

ہمیں سال بھر میں چار موسموں سے واسطہ رہتا ہے ہر فرد ان موسموں سے بخوبی واقف ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان چار موسموں میں ایک موسم کا اضافہ ہو گیا ہے اور وہ ہے جوتوں کا موسم۔ آج کل اس موسم کا چرچا کو بہ کو پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر صدر بش کو یہ اعزاز حاصل ہو ا کہ وہ جوتا کلب کے ممبر بنے۔ پاکستانی سیاستدانوں میں جن کو یہ سعادت نصیب ہوئی اُن میں ارباب رحیم، شیخ رشید، احسن اقبال اور اب نواز شریف بھی اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔ یہ سب کے سب جوتا کلب کے ممبر بن چکے ہیں۔ یہ سلسلہ جو اب چل نکلا ہے ،ہمیں اس کے محرکات کو دیکھنا ہو گا۔ کیا ہم اسے عدم برداشت کی انتہا کہہ سکتے ہیں؟ جب عدم برداشت حد کو کراس کر جائے تو ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سوچنا ہو گا کہ ایسا ماحول کیوں پیدا ہوا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ یہ ماحول کس نے پیدا کیا۔ کون لوگ ہیں جن کو قصور وار ٹھہرایا جائے ۔ عدم برداشت کی انتہا ہو چکی اور اس عدم برداشت کے پیچھے کیا حکمرانوں کے رویے کا عمل دخل ہے۔ جو حکمرانوں نے بویا آج جوتوں کی شکل میں اسے کاٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اب غالباً نفرتوں کی فصل پک چکی اور اس فصل کو کاٹنے کا موسم شروع ہو چکا۔ جب سیاستدان جلسے جلوسوں میں ملکی اداروں کو گالیوں سے نوازیں گے تو پھر اُن کا جواب جوتوں کی شکل میں ظاہر ہو گا۔ بیرونی طاغوتی قوتوں کے اشاروں پر ختم نبوت کی شقوں کو تبدیل کریں گے تو پھر ہر قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب ذاتی مفادات کو ملکی مفاد پر ترجیح دی جائے گی تو جوتا کلب کی ممبر شپ ضرور ملے گی۔ جو جو اس ملک کے خلاف مذموم سازشوں کا حصہ بنے گا وہ عوام کے غیظ و عضب سے بچ نہ سکے گا۔ عاشقان رسولؐ ختم نبوت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
یہ جوتوں اور سیاہیوں کی رسم کوئی اچھی بات نہیں۔ اس ملک کا قانون اور آئین اس بات کی کبھی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی ہماری اخلاقیات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ ہم اس طرح کی رسم کی ابتدا کریں کیونکہ کسی مہذب اور اچھی قوم کو یہ زیب نہیں دیتا۔ ’’آج ہم، کل تمہاری باری‘‘ والا حساب نہ ہو جائے۔ اگر اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو پھر 2018ء کا الیکشن ایسے معاملات سے ضرور گزرے گا۔ ایسی حرکات سے کہیں بہتر ہے کہ ہمیں اپنی اپنی خود اصلاح کرنی چاہیے اور خود احتسابی کے تحت اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہو گی۔ ہمیں لوگوں کے خیالات کو بدلنا ہو گا اور یقینی بنا ہو گا کہ جو سیاہی ہم دوسروں پر پھینک رہے ہیں وہ سیاہی اپنے انگوٹھوں پر لگا کر ایسے لوگوں کووٹ کا حق دیں جو کرپشن، بے ایمانی اور بدزبانی سے پاک ہوں ایسے لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجیں جو ہمارے معاملات کو سمجھیں اور اُن کا حل تلاش کریں۔ ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو ملکی اداروں کو عزت بخشیں اور آئین اور قانون کی بالادستی کو قائم کریں۔ ایسے لوگوں کا چناؤ کریں جو ضمیر فروش نہ ہوں جو اپنی تجوریوں کو نہ بھریں بلکہ قوم کے بچوں کی تقدیر کو بدلیں۔
ہمیں اُن محرکات تک پہنچنا ہو گا، جن سے موجودہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔ بچے دن رات کی محنت سے ڈگری حاصل کرتے ہیں مگر اُنہیں نوکریاں کہیں نظر نہیں آتیں۔ مہنگائی نے پوری قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ غریب گھر کی روٹی چلانے سے قاصر ہے۔ ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ 20کروڑ عوام کو قرضوں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے اور اس پر جھوٹے دعووں کی بھرمار ہے۔ اداروں پر حملے، عدلیہ کو گالیاں ، ججز کو دھمکیاں، شیشے کے گھر میں بیٹھ کر ہم دوسروں پر پتھر پھینک رہے ہیں۔ کیا اس سے بڑی بھی کوئی نالائقی ہو گی۔ برائی کے عمل سے ہم اچھائی کی امید کیسے کر سکتے ہیں۔ ایک اچھی قوم اگر غیر مہذب حرکتوں پر اتر آئے اور جوتے اٹھا کر غصے کا اظہار شروع کر دے تو سوچنے کا مقام ہے کہ قوم کہاں کھڑی ہے۔ ایسے حالات پیدا کیوں ہوئے۔ حکمرانوں کا سواگت اگر جوتوں سے ہونا شروع ہو جائے تو یہ فکر کا مقام ہے۔ ان مذموم اور اخلاقیات سے گری حرکات کی کبھی بھی پذیرائی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہو گا۔ ہمیں خود کو ایک مہذب اور اچھی قوم کے طور پر منوانا ہو گا۔ قوموں کی تعمیر ایسی حرکات سے ممکن نہیں۔ ہمیں اپنی سمت کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکمرانوں سے نفرت کا یہ سلسلہ چلا نکلا تو پھر ملک میں شدت پسندی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور ملک انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ ہمیں پہلے ہی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے ہر طرف ہمارے خلاف محاذ نکل چکے ہیں۔ ہمیں گرے لسٹ میں شامل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر ہمیں اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے ملک سے متعلق سوچنا ہو گا، ہمیں اپنے غصوں پر قابو پانا ہو گا۔ تبدیلی اپنے عمل سے لانی ہو گی۔ ہمیں جو کرنا چاہیے وہ کرتے نہیں اور جو نہیں کرنا چاہیے وہ کرنا شروع کر دیا ہے جس کے نتائج کچھ اچھے برآمد نہیں ہوں گے۔ اگر ہم دوسروں کو عزت و تکریم نہیں دیں گے تو خود بھی اس کے حقدار نہیں۔ ہمیں جوتے چھوڑ کر اصلاح کا پہلو اپنانا ہو گا۔ یہ روایت کوئی اچھی روایت نہیں۔ ہمیں ہر اس چیز سے دور رہنا ہو گا جس سے ہمارا قومی تشخص مجروح ہو اور ہر اس کام کو چھوڑنا ہو گا جس سے دشمن ہمارے اور پر انگلی اٹھائے ہمیں اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا ورثہ اور اچھی روایت چھوڑنی ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ہمیں ایک دوسرے کی عزت کو مقدم رکھنا ہو گا۔ ہمیں اداروں کا احترام کرنا ہو گا۔ علم بغاوت اٹھانے کی بجائے امن اور شانتی کا علم بلند کرنا ہو گا۔ ہمیں قانون اور آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنا ہو گا۔ ہمیں قانون کی عمل داری کو مستحکم بنانا ہو گا۔ ہمیں اپنے وطن کی مٹی کی عزت اور حفاظت کرنی ہو گی۔ اگر یہ سب کچھ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں۔


ای پیپر