اب سینیٹ الیکشن
12 مارچ 2018

کیا نام نہاد جمہوریت کے وجود میں پہلی دراڑ پڑ چکی ؟
رضا ربانی پر اتفاق در اصل ایک لکھے گئے سکرپٹ کا حصہ ہے ن لیگ اور زرداری کے حمایت یافتہ سینیٹر ز کی حیثیت ان کٹھ پتلیوں سے زیادہ نہیں جو زرداری اور شریفوں کے اشارہ ابرو پر ناچنے کیلئے بے تاب ہیں مگر عمران خان کی بات اور ہے اس نے ایک ایسے صوبہ سے چیئرمین سینیٹ کیلئے آواز اُٹھائی جس کے صرف 17ممبران قومی اسمبلی رقبے کے لحاظ سے ایک بڑے صوبہ کی نمائندگی کرتے ہیں جو کل اراکین کا صرف 5فیصد ہیں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سینیٹ الیکشن میں بلوچستان سے صادق سنجرانی کی نامزدگی ایک محب وطن سوچ کی عکاسی ہے اور یہ تحریک انصاف کے فیصلے کا خوف ہے کہ ن لیگ آخری وقت تک اپنے امیدوار کا اعلان کرنے سے قاصر رہی۔ سینیٹ الیکشن میں پیسے کے بل بوتے پر ضمیر کی بولی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ کام جو الیکشن کمیشن کو کرنا چاہیے تھا اس کا بوجھ عدلیہ کے کندھوں پر کیوں ڈال دیا گیا؟ الیکشن کمیشن کا کونسا استحقاق مجروح ہورہا تھا کہ اُس نے ایک اشتہاری اسحاق ڈار کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی؟ کیا الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر جانبداری کی انگلیاںنہیں اُٹھ رہیں ؟
کیا اصغر خان کیس کا فیصلہ آگیا ِ؟
چھانگا مانگا کی سیاست سے لے کر آئی جے آئی کی تشکیل اور اب اپنے دربار سے وابستہ رکھنے کیلئے ن لیگ کے حمایت یافتہ افراد کی بولی کے ذریعے جیت کی جس طرح راہ ہموار ہوئی اس کا عوام کا بخوبی ادراک ہے عوام ایک ایسے نظام کے نیچے سسک رہے ہیں جس کے اثرات اب ریاست کو گھائل کر رہے ہیں جو سامراجی قرضوں کی ادائیگی کے بھنور میں زندگی کے سانسیں گن رہی ہے۔ کیا موجودہ دورِ حکومت میں ڈالر کی قیمت میں اچانک تیزی اس بات کا عندیہ نہیں کہ اس نظام سے جس ا قلیت کا مفاد وابستہ ہے اُس کی تجوریوں کے منہ ’’عمرو عیار کی زنبیل ‘‘کی طرح بھرنے میں نہیں آرہے ؟تحریک انصاف کی چھتری تلے کھڑی نوجوان نسل کے جذبات سے کھیلنا اب ناممکن ہے۔ یہ درست سہی کہ2013 کے بعد لوگوں کی زبان پر ایک ہی سوال نعرے کی شکل میں ہے ’’Where is my vote‘‘لیکن لوگوں کے دلوں میں در حقیقت یہ سوال ہے ’’میرا انقلاب کدھر گیا ‘‘(Where has gone my revolution) اب یہ سوال لبوں پر آنے کیلئے بے تاب ہے۔ وہ انتخابات جنہیں ذرائع ابلاغ پر چیخ چیخ کر جمہوریت کی بہت بڑی فتح قراردیا جارہا تھا اور عوام کے شعور پراس ’’سفید جھوٹ ‘‘کو مسلط کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے زر خرید دانشور ووٹ ڈالنے کی تلقین کر رہے تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر یہ فقرہ مسلط کیا جارہا تھا کہ کائنات میں جمہوریت سے بہتر کوئی شے نہیں۔ آزادی رائے کا جمہوریت کے نام پر وہ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ ،فراڈ اور ڈھونگ ثابت ہوا۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت میں اگر انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں تب بھی عوام کو صرف اتنا حق ملتا ہے کہ وہ اپنے پر حکمرانی کرنے کیلئے لٹیروں ،ڈاکوئو ں ،قاتلوں ،رسہ گیروں اور بدمعاشوں کے مختلف گروہوں میں سے کسی ایک کو چن لیں۔کالے دھن کی معیشت صنعتکار حکمرانوں کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو سماجی جمود کے عہد میں پارٹی مینی فیسٹو اور پالیسیوں کا تعین کرتی ہے اور اس کالے دھن سے سیاسی اقتدار ،مرتبہ ،میڈیا کے ذریعے مقبولیت ،ریاستی عہدے ،منافع بخش ٹھیکے ،سودے ،وفاداریاں ،وابستگیاں ،قانون ،انصاف خریدا جا رہا ہے
کیا زرداری کی پارٹی اُس انقلاب کی داعی ہے جو 1968-69میں انقلاب بنا اور اُسے اصلاحات کے ناکام رستے پر موڑ دیا گیا وہ انقلاب جو رائج الوقت نظام اور سماج کے ہر رشتے ،ہر بندھن ،ہر جکڑ ،ہراستحصال ،ہر جبر کو مٹانے کیلئے اُبھرا امریکیت کے نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ ہالبروک نے 5مئی2009ء کو امریکی کانگرس کے اجلاس میں دوران خطاب یہ واضح کیا کہ ’’صدر زرداری کو اس لیڈر کے طور پر مدد کرنے کی ضرورت ہے جس کو ہماری حمایت کی شدت سے ضرورت ہے اور جس کی کامیابی ہم امریکی مفادات سے منسلک ہے ‘‘
تاریخ کے ہر سامراج کی طرح امریکی سامراج کے مفادات یہاں کے انسانوں کی محنت اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔ امریکیت نے ہر دور میں اپنے ان ’’اہم مفادات ‘‘ کیلئے کسی نہ کسی کو استعمال کیا، استعمال ہونے والوں نے پھر ان مفادات میں سے اپنی وفاداری کے صلہ میں اپنی حصہ داری اور کمیشن وصول کیا اور بڑھتے بڑھتے یہ کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ اس کی شرح منافع کو قائم رکھنے کیلئے خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں ،انسانیت کا قتل عام کرنا پڑ رہا ہے امریکیت کے یہ مفادات اُس کالی دیوی کی مانند ہیں جس پر خون کی جتنی بھی بلی چڑھائی جائے اُس کی ہوس اور بڑھ جاتی ہے امریکیت نے فوجی آمروں سے مذہبی ملائوں تک …سیاست دانوں سے یہاں کی ریاست اور صحافت کے اعلیٰ اہلکاروں تک… کس کس کو اور کب کب ان ’’مفادات ‘‘کے حصول کیلئے استعمال نہیں کیا… بھارت اور امریکیت مقامی ایجنٹ ضرور بدلتی ہے لیکن اس کا کام اور کردار نہیں بدلتا ’’گریٹ گیم ‘‘ اب افغانستان سے نکل کر بلوچستان میں داخل ہو چکی ہے کلبھوشن کے معاملے پر سیاست کے ڈاکٹر کی زبان بھی گنگ ہو گئی پاک فوج کا کریڈٹ اسے دینے سے دونوں بڑی پارٹیاں عاری رہیں ۔
اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک مذہبی رہنما ایم ایم اے کی چالبازیوں سے ایک آمر کو سترھویں ترمیم کے ذریعے اپنے ہی ہم وطنوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے بعد زرداری کی چوکھٹ پر سجدہ ریزی کے بعد اب میاں برادران کے در پرمفا دات کی بھیک کیلئے جھولی پسارے کھڑا ہے ۔


ای پیپر