انتہا پسندی اسلام کا تصور نہیں
12 مارچ 2018

دہشت گردی اسلام کا وطیرہ نہیں بلکہ یہ عفوو درگزر کا درس دیتا ہے جو امن کی ضمانت ہے مگرانتہا پسند اسلام کا جو تصور پیش کر رہے ہیں یہ ان کا اپنا ہی پیدا کردہ ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کو بنیاد پرست، انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دے کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ دہشت گرد مذہب کے نام پر کبھی دہشت گردی کرتے ہیں تو کبھی خودکش حملے کرتے ہیںاور اس طرح مذہب اور مسلمانوں کا استحصال کر رہے ہیںبلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے مذہب کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔
ایوان صدر، اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام متفقہ قومی بیانیے کے حوالے سے شائع ہونے والی کتاب ’پیغام پاکستان‘ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل پانے والا آئین پاکستان ہی بنیادی بیانیہ ہے جبکہ علما کا یہ فتویٰ اس کی وضاحت اور تائید کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے انتہا پسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔اس کتاب میں 18 سو سے زائد علما کرام کا متفقہ فتویٰ شائع کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی، خونریزی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
ایوان صدر میں ’پیغام پاکستان‘ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ اسلام کی روح سے شدت پسندی ، خون ریزی اور خودکش حملے فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں جو ناجائز اور حرام ہیں۔خوشی ہے متفقہ فتوے کو اداروں کی تائید بھی حاصل ہے۔
صدر ممنون نے کہا میری نظر میں علماء کا فتویٰ اسلامی تعلیمات کی روح کے عین مطابق ہے جس پر عملدرآمد سے انتہا پسندی کے فتنے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔علماء کے اس فتوے کو ریاستی اداروں کی تائید حاصل ہوگی اور اتفاق رائے ہی ہماری کامیابی کی کلید ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء اور وفاق المدارس نے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے جو فتویٰ جاری کیا ہے وہ درست سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلام امن محبت اور رواداری کا دین ہے۔
وزیرداخلہ احسن اقبال نے خطاب میںکہا کہ متفقہ بیانیہ مرتب کرنے پر تمام فریقین کے شکر گزار ہیں۔ آج ہم بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ پیغام پاکستان ہمیں متحد کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔ ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست کے لیے ہمیں متحد ہو کر ہی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
وزیرخارجہ خواجہ آصف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کوجڑسے اکھاڑپھینکنے کیلئے تمام ادارے اورعلما متحد ہوچکے ہیں۔قوم کا فرض ہے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑی ہو۔دہشت گردوں کا ساتھ دینے والوں کیلئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ۔دہشت گردوں کو ناسور قرار دیتے ہوئے متفقہ فتویٰ جاری کرنے پر علماء کے مشکور ہیں‘ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے تمام ادارے اور علماء متحد ہوچکے ہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جارہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا بندوق کے ذریعے شریعت کا مطالبہ غلط ہے ہماری اصل شناخت اسلام ہے مسلک نہیں ۔ ہم نے بندوق کے ذریعے شرعی نظام کا مطالبہ کرنے والوں کو تنہا کردیا۔
سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہمیں اپنے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ اتفاق کرکے زیادہ گہری دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ ہمیں اپنے مستقبل اور ملک کے مفاد کی فکر کرنی چاہئیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہم کمزور ہوئے۔ امریکہ کے چرچوں میں جمع کئے گئے پیسے اسرائیلی بستیوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک ملاقات کے دوران امریکیوں نے مجھے مفاد پرست کہا۔
ماضی میں بھی مختلف سطحوں پر دہشت گردی کے خاتمے کی خاطر پاکستان کے اندر مختلف اوقات میں اس قسم کے فتوے جاری کئے گئے تھے جو زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ تاہم اس مرتبہ ریاست کی سطح پر علما کی جانب سے کھل کر دشت گردی کی مخالفت توقع ہے کہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کو اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ اسلام ہر قسم کی فرقہ پرستی کے خلاف ہے اور رواداری کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس لئے سارے انسانوں سے زیادہ مسلمانوں کو رواداری ، برداشت اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تمام مسلمان ایک خدا ایک رسول اور ایک دین پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کے درمیان ہمیشہ مثالی اتحاد، اخوت اور یگانگی برقرار رہنی چاہیے۔ اگر تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں نے اتحاد و یگانگت کو ملحوظ نہ رکھا تو مسلم امہ نہ صرف انتشار کا شکار ہوگی بلکہ اسے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس طرح غیر مسلم اقوام کو اسلام مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور انہیں دہشت گرد قرار دینے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔
اسلام میں کوئی ایسی شرح نہیں جو دہشت گردی کے ذریعے بے گناہ اور معصوم افرادکا خون بہانے کی اجازت دیتی ہو۔ کیا ہمارے پیارے نبیؐ جنہیں ہم بجا طور پر رحمت العالمین کا خطاب دیتے ہیں، بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا پیغام دیتے ہیں۔ سیاست باز اور ذرائع ابلاغ بھی اپنی دکانداری چمکانے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ حضورنبی کریمؐ کی حیات طیبہ اور اسلام کی گواہی اسلام کو ماننے والے ہی نہیں دیتے بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے دانشور بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔ گاندھی کا کہنا ہے کہ سیرۃ النبیؐ کے مطالعے سے میرے اس عقیدے میں پختگی اور استحکام آگیا کہ اسلام نے تلوار کے بل پر کائنات میں رسوخ حاصل نہیں کیا۔ ایک اور ہندو لیڈر کا کہنا ہے کہ میں ایک راسخ العقیدہ ہندو ہوں لیکن میں نے ہندو، عیسائی اور اسلام مذہب کے بانیوں کے حالات زندگی کو اپنی بہترین توجہ کا خراج دیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے۔


ای پیپر