جوتا اور سیاہی
12 مارچ 2018

یوں تو جوتے کی ابتدا کسی نہ کسی شکل میں اسی وقت ہو گئی تھی جب بنی نوع انسان کے پاؤں پہلی دفعہ دھوپ کی حدت اور شدت میں جلے ہوں گے۔ لہٰذا انسان اور جوتے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ جس طرح انسان کی جہتیں تبدیل ہوتی گئیں اسی طرح جوتے کی ہیئت بھی بدلتی گئی۔ ابا حضور ( اللہ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام دے) بتاتے تھے کہ جب ہم سکول جاتے تھے اور سکول چھ یا سات کلو میٹر کے فاصلے پرتھا تو گر میوں میں جب جوتے میسر نہ آتے تو ہم ایک پودا جسے گلا باسی کہتے تھے، اس کے پتے چوڑے ہوتے تھے۔ اپنے پاؤں کے پیچھے رکھ کر رسیوں یا دھاگے سے باندھ دیتے تھے اور سفر کٹ جاتا تھا۔
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
مجھے سن کر حیرت ہوتی تھی کہ کس قدر لائٹ ویٹ جوتے ہوتے ہوں گے۔ اگر آج بھی ان جوتوں کا استعمال ہوتا تو کسی کو ڈرنے کی قطعاً ضرورت پیش نہ آتی۔ مگر آج تو اس قدر ہیوی ویٹ اور مہنگے جوتے دستیاب ہیں کہ جن کو کھاتے اور خریدتے وقت چیخیں نکل جاتی ہیں۔ ویسے یہ جوتا جس قدر پاؤں کے نیچے رہا اس نے اسی قدر ہی ری ایکٹ کیا۔ آپ نے محاورہ سنا تو ہو گا کہ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنا چاہیے۔ اگر فٹ نہ آئے تو تبدیل کر لینی چاہیے۔ مگر آپ اندازہ لگائیں کہ کون مائی کا لال بڑھک مار کر یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنی خاتون خانہ سے نہیں ڈرتا۔ ایک دفعہ احباب کو چند دوست ملنے آ گئے، دروازے پر دستک دی۔ خوشی قسمتی سے دوست نے خود ہی دروازہ کھولا۔ ابھی باہر ہی نکلا تھا کہ پیچھے سے دھڑم جوتا کمر میں پڑا۔ ملاقاتی ہکا بکا رہ گئے کہ یہ کیا ہوا؟ جناب یوں گویا ہوئے کہ بہت بے صبری عورت ہے کہا بھی ہے کہ تھوڑی دیر بعد موچی سے مرمت کروا دوں گا صبر نہیں ہوا پیچھے ہی پھینک دیا۔ موصوف کو ذرا بھی مذامت نہیں ہوئی اور نہ ہی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تو یہ برزگوں نے بہت دفعہ اپنے اڑیل اور نڈر بچوں کی مرمت جوتوں سے کی ہے ۔ یار ہم نے کئی دفعہ سکول کے زمانے میں اپنے ساتذہ اکرام سے ڈھیروں جوتے کھائے ہیں۔ یہ بات بھی چھوڑیں ابا لوگ تو جوتوں کا گھناؤنا استعمال کرتے تھے۔ ہم نے اماں سے کئی بار جوتوں سے مرمت کروائی ہے ۔ یہ فعل ہماری شادی کے بعد کئی دفعہ سرانجام دیا گیا ( ویسے اماں سے جوتے کھانے کا مزہ اپنا ہی ہے)
کہتے ہیں ایک بار تو یوں ہوا کہ کسی سیاسی رہنما نے جامعہ میں خطاب کیا۔ پوری عوام نے اس رہنما کو جوتے اتار کر دکھائے۔ موصوف سمجھے کہ جوتے مہنگے ہو گئے ہیں اور عوام ان کا سستا کرنے کے لیے تقاضا کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس رہنما نے ٹائر کے جوتے مارکیٹ میںدلوا دیے۔ جو جوتے اس قدر پکے تھے کہ لائف ٹائم گارنٹی پہلی دفعہ انٹروڈیوس ہوئی تھی۔ پکے ہونے کے ساتھ اس قدر جوشیلے تھے کہ اگر ایک لگ جائے تو ہوش بھلانے میں ان کا ثانی نہیں تھا۔ شکر ہے کہ اب وہ جوتے دستیاب نہیں ہیں، ہاں ان کا نمونہ میوزیم میں ضرور موجود ہو گا۔ مگر مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ان جوتوں کا سیاسی جلسوں میں کیا کام ہے۔ ہاں البتہ گلے سڑے ٹماٹروں اور گندے انڈوں کے بارے میں تو سنتے آئے تھے کہ کرکٹ میچ اور سیاسی جلسوں میں اپنے مقام کی وجہ سے اچھے خاصے مشہور ہیں۔ مگر چند سالوں سے جوتے بھی سیاسی جلسوں میں اپنا مقام بنانے کے لیے تک و دو کر رہے ہیں۔ کئی سال پہلے یورپ میں بھی ایک جلسے میں جوتے کا استعمال ہوا۔ پھر جناب پرویز مشرف کے ایک جلسے میں احمد رضا قصوری پر سیاہی ڈالی گئی، اسی طرح چند روز قبل جناب احسن اقبال کے جلسے میں بھی ان پر جوتا اچھالا گیا۔ سیالکوٹ کے ایک کنونشن میں خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکی گئی۔ جناب خواجہ سعد رفیق کے جلسے میں بھی جوتا پھینکا گیا ۔ گویا جوتا ، جوتا نہ رہا، انتخابی نشان بن گیا۔ آج راغب نعیمیہ کے مدرسے میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف کی طرف جوتا پھینکا گیا۔ جو ان کے کندھے کو چھوتا ہوا گزر گیا۔ اب یہ بات تو حکمران ہی جانتے ہیں کہ یہ جوتے خوش قسمت ہیں، جو حکمرانوں کی طرف اچھالے جاتے ہیں یا یہ حکمران خوش قسمت جو عوام کی خاطر جوتوں کا سامنا کرتے ہیں۔اینٹ اگر مسجد کو لگ جائے تو اس کی اہمیت اور ہوتی ہے اور واش
روم میں لگ جائے تو اس کی اہمیت اور ہو جاتی ہے مگر یہ الگ بحث ہے میں اس میں پڑنا نہیں چاہتا اور نہ ہی میری اخلاقیات اجازت دیتی ہے۔ اس میں صرف دو لوگوں کا قصور ہے ایک حکومت اور دوسرے عوام کا ۔ عوام اپنا نمائندہ سوچ سمجھ کر نہیں چنتے ۔ اور حکومت اپنے عوام کی اخلاقی ، مذہبی اور روحانی تربیت نہیں کرتی۔ حکومت عوام کا مورال بلند نہیں کرتی۔ عوام کے معیار زندگی بلند کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہر کرتی ہے۔ اپنی حکومت کو بچانے کے چکر میں آئین اور قانون کو پامال کر دیتی ہے، آئین اور قانون میں دوہرا معیار رکھتی ہے۔ نظم و ضبط کا فقدان عدم برداشت، آئین کی پامالی، چور بازاری، بے ایمانی، رشوت خوری جو قوم کا وتیرہ بن جائے۔ اس قوم سے کبھی اچھے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ جو قوم آج جوتے اچھالتی ہے وہ کل کو تخت و تاج بھی اچھال سکتی ہے ۔ میرے حکمرانو! اس قوم کو ازسر نو تربیت کی ضرورت ہے، سب چھوڑو اس قوم کی تربیت کرو۔


ای پیپر