لاہور قلندر کی ناقص کارکردگی پر میکولم بھی چپ نہ رہے
12 مارچ 2018 (18:59)

کراچی کنگز کے خلاف سپر اوور میں فتح کے بعد نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے جارح مزاج کھلاڑی نے گفتگو کرتے ہوئے ایونٹ میں لاہور قلندرز کی غلطیوں پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ کیسے انہوں نے کپتانی چھوڑنے اور عمر اکمل کے حوالے سے سوچا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اہم مواقعوں پر مخلص ہوتے تو ہمیں وہ میچ جیتنے چاہیے تھے،ہم نے وہ اہم مواقعے ضائع کیے۔اگر ہم وہ جیت جاتے تو ہم ابتدائی 6 میچوں میں جیت سکتے تھے۔

لاہور قلندرز کے کپتان میک کولم نے پاکستان سپر لیگ تھری میں ٹیم کی ناقص کارکردگی پر خاموشی توڑ دی۔پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں مسلسل 6 ناکامیوں اور ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد لاہور قلندرز کی ٹیم بالآخر جاگ گئی ہے اور مسلسل دو میچوں میں کامیابی حاصل کر لی۔یہ فتوحات یقیناً ان کے اعتماد کو تو بحال کر سکتی ہیں مگر انہیں کسی بھی صورت ٹورنامنٹ میں واپس نہیں لا سکتیں۔لیکن لاہور کے کپتان برینڈن میکولم کے لیے بقیہ دو میچوں میں فتح بھی اہمیت کی حامل ہے اور ان کی پوری توجہ انہی میچوں پر ہے۔

ابتدائی 6 ناکامیوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں شکست سے برا نہیں مناتا لیکن آسانی سے زیر نہیں ہونا چاہیے،اتنے زیادہ جوش و جذبے سے کھیلیں جتنا ممکن ہو، اگر کسی حریف کو شکست دینا مشکل ہے تو کوئی بات نہیں لیکن ایسے موقع بھی تھے جن پر سوال اٹھ سکتا ہے کہ ہم نے کتنی کوشش کی ۔

میکولم نے تصدیق کی کہ انہوں نے کپتانی چھوڑنے کے بارے میں بھی سوچا اور اس کا بات کا اظہار ساتھی کھلاڑیوں سے کیا جنہوں نے اس پر ردعمل کا اظہار کیا اور ٹیم کے لیے کھڑے ہوئے۔آغا سلمان کے حوالے سے میکولم نے کہا کہ وہ بہت ہی ٹھنڈے مزاج کا کھلاڑی ہے، چاہے جتنا ہی دبائو کیوں نہ ہو، آپ جب بھی اس کی آنکھوں میں دیکھیں گے تو وہ پرسکون نظر آئے گا۔ میکولم کے مطابق آغاسلمان ایسا کھلاڑی ہے جسے ہم مستقبل میں دیکھ سکتے ہیں۔ آغا سلمان کا مستقبل روشن ہے اور اسے مواقع ملیں گے۔


ای پیپر