بجٹ میں کس کو کیا ملا ؟تنخواہوں میں اضافہ سے متعلق بڑی خبر
12 جون 2020 (21:24) 2020-06-12

آئندہ مالی سال 2020-21کے بجٹ میں صحت کیلئے 25 اور تعلیم کے لیے 83 ارب روپے سے زائد مختص

اسلام آباد :آئندہ مالی سال 2020-21کے بجٹ میں صحت کیلئے 25 اور تعلیم کے لیے 83 ارب روپے سے زائد مختص کئے گئے ۔ جمعہ کو وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے آئندہ مالی سال کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جس میں مختلف شعبوں خاص طور پر صحت کے لیے بجٹ کو دوگنا کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کے لیے مختص رقم میں خاصہ اضافہ کیا گیا ہے اور اسے 25 ارب روپے سے زائد کردیا ہے۔ بجٹ دستاویز میں پیش کردہ میزانیہ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال 20-2019 کے لیے صحت کیلئے 11 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی تاہم آئندہ مالی سال 21-2020 کے لیے اس میں تقریباً (130 فیصد) اضافہ کیا گیا۔مذکورہ دستاویز کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی ساہ کے لیے صحت کے لیے 25 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔اسی طرح تحریک انصاف کی حکومت کے دوسرے مکمل بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے تعلیم کے اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق تعلیمی امور و خدمات کے بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 7.9 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال 20-2019 میں یہ رقم 77 ارب 20 کروڑ روپے مختص کی گئی تھی جسے بڑھا کر 83 ارب 36 کروڑ روپے تک کردیا گیا ہے۔مزید برآں اپنی بجٹ تقریر میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا تھا کہ یکساں نصاب کی تیاری، معیاری نظام، امتحانات وضع کرنے، اسمارٹ اسکولوں کا قیام، مدرسوں کی قومی دھارے میں شمولیت سے تعلیمی نظام میں بہتری لائی جائے گی، جس کے لیے رقم مختص کردی گئی ہے اور ان اصلاحات کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، مزید برآں ہائر ایجوکیشن ترجیحی شعبہ جات میں سے ایک ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ 21ویں صدی کے معیاری تعلیم پر پورا اترنے کے لیے تحقیق اور دیگر جدید شعبہ جات مثلات آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، آٹومیشن اور اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے تحقیق اور ترقی کے لیے کام کیا جاسکتا، لہٰذا تعلیم کے شعبے میں جدت اور اس حصول کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ ،زرعی شعبے میں ریلیف پہنچانے اور ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے دس ارب روپے مختص

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے زرعی شعبے میں ریلیف پہنچانے اور ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دس ارب رووپے مختص کر دیئے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ زرعی شعبے میں ریلیف پہنچانے کے لیے اور ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالی سال 21-2020 کے دوران ان اہداف کے حصول کا فیصلہ کیا ہے۔ے انہوںنے کہاکہ جی ڈی پی کی شرح نمو کو منفی 0.4 سے بڑھا کر 2.1 فیصد پر لایا جائے گا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 4.4 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ مہنگائی کو 9.1 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد تک لایا جائے گا، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 25 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات کا حجم ایک ہزار 324 ارب روپے ہے

اسلام آباد :وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات کا حجم ایک ہزار 324 ارب روپے ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے وڑن کے مطابق ترقیاتی ایجںڈا پر عملدرآمد جاری ہے تاکہ مستحکم معاشی شرح نمو کا حصول ممکن ہوسکے اور غربت میں کمی، بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری اور خوراک، پانی اور توانائی کے ٹحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔حماد اظہر نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات کا حجم ایک ہزار 324 ارب روپے ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پینشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 21-2020 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے جس کیلئے 650 ارب روپے مختص کئے ، ہیں

اسلام آباد : وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے جس کے لیے 650 ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے جس کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے مںصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے جاری منصوبوں کے لیے 73فیصد اور نئے منصوبوں کے لیے 27 فیصد رقم مختص کی گی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ سماجی شعبے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے لیے گزشتہ سال کے 206 ارب روپے کی رقم بڑھا کر 249 ارب کردیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی دفعات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ، اس حوالے سے بڑے شعبوں کے لیے مختص رقوم کی تفصیل درج ذیل ہے۔

کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کر نے کیلئے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع ، 70ارب روپے مختص

اسلام آباد :حکومت نے کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کر نے کیلئے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کیلئے 70ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ جمعہ کو بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت نے کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

خصوصی اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں اور غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے80ارب روپے مختص

اسلام آباد :خصوصی اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں اور غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے80ارب روپے مختص کئے گئے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہاکہ حکومت کی توجہ توانائی کے توسیعی منصوبوں اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کا نظام بہتر بنانے اور گردشی قرضوں کو کم کرنیکی طرف مرکوز ہے، بجٹ میں خصوصی اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں اور غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت نے 80 ارب روپے مختص کیے ہیں، ان فنڈز کو خاص طور پر بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان فرق کو ختم کیا گیا ہے۔

پانی سے متعلق منصوبوں کیلئے 69ارب روپے مختص

اسلام آباد :وفاقی حکومت نے پانی سے متعلق منصوبوں کیلئے 69ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ جمعہ کو وفاقی وزیر حماداظہر نے بتایاکہ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے شدید بحران کا شکار ہے، اس سال حکومت پانی سے متعلق منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس ضمن میں 69 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔حماد اظہر نے کہا کہ کثیرالمقاصد ڈیم بالخصوص دیامر بھاشا، مہمند اور داسو ڈیم کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں، ان منصوبوں سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے 30 ہزار سے زائد مواقع پیدا ہوں گے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت جاری منصوبوں کیلئے 118ارب روپے مختص

اسلام آباد:آئندہ مالی سال 2020-21میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت جاری منصوبوں کیلئے 118ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔جمعہ کو وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایاکہ صنعتی رابطوں، تجارت و کاروبار کے فروغ کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، اس سلسلے میں 118 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے کے ایم ویل ون منصوبے اور دیگر منصوبوں کے لیے 24 ارب روپے جبکہ مواصلات کے دیگر منصوبوں کے لیے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بہتر طبی خدمات، وبائی بیماریوں کی روک تھام، طبی آلات کی تیاری اور صحت کے اداروں کی صلاحیت میں اضافے کے لیے 20 ارب روپے مختص

اسلام آباد : آئندہ مالی سال 2020-21میں بہتر طبی خدمات، وبائی بیماریوں کی روک تھام، طبی آلات کی تیاری اور صحت کے اداروں کی صلاحیت میں اضافے کے لیے 20 ارب روپے مختص کئے گئے ۔ جمعہ کو وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایاکہ کورونا وائرس کے تناظر میں صحت کا شعبہ حکومت کی خصوصی ترجیح ہے اور بہتر طبی خدمات، وبائی بیماریوں کی روک تھام، طبی آلات کی تیاری اور صحت کے اداروں کی صلاحیت میں اضافے کے لیے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ کورونا کے علاج اور تدارک کے اقدامات کے علاوہ حکومت اپنی توجہ ہیلتھ سروسز کو بہتر بنانے کے لیے آئی سی ٹی سلوشن کی طرف مرکوز کررہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ صوبائی حکومتیں ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

ای گورننس اور آئی ٹی کی بنیاد پر چلنے والی سروسز، 5 جی سیلولر سروسز کے آغاز پر حکومت کی توجہ ہے

اسلام آباد : وفاقی وزیر حمادا ظہر نے کہا ہے کہ ای گورننس اور آئی ٹی کی بنیاد پر چلنے والی سروسز، 5 جی سیلولر سروسز کے آغاز پر حکومت کی توجہ ہے۔ جمعہ وفاقی وزیر نے بتایا کہ امرجنگ ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے اقدامات کو فروغ دینے کے لیے تحقیقی اداروں کی صلاحیت اور گنجائش کو بڑھانا اشد ضرورت ہے، مزید برآں ای گورننس اور آئی ٹی کی بنیاد پر چلنے والی سروسز، 5 جی سیلولر سروسز کے آغاز پر حکومت کی توجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان شعبوں میں منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کیمیکل، الیکٹرانک، پروسیجن ایگری کلچرل کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا اور آر این ڈی کا صنعت کے ساتھ رابطہ مضبوط کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر دیئے

اسلام آباد :وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر دیئے ہیں ۔جمعہ کو بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر اور ماحول پر ظاہر ہونے والے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بھی اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان پر بھی بہت سے اثرات ہیں جیسے غیرموسمی بارشیں، فصلوں کے پیداواری رجحان میں کمی اور سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں لہٰذا اس سال موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے جاتے ہیں۔

افغانستان کی بحالی میں معاونت کے لیے 2 ارب روپے کی رقم مختص

اسلام آباد :آئندہ مالی سال 2020-21میں افغانستان کی بحالی میں معاونت کے لیے 2 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع میں ٹی ڈی پی کے انضام و انصرام کے لیے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے جبکہ افغانستان کی بحالی میں معاونت کے لیے 2 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد ہے جو ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کم ہے

اسلام آباد :وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہاہے کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد ہے جو ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کم ہے ۔ بجٹ تقریر کرتے ہوء یانہوںنے کہاکہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد ہے جو کہ ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہم نے ایک اصلاحاتی عمل شروع کیا تھا جو ایک جامع حکمت عملی پر مشتمل تھا جس کے ذریعے رواں سال درج ذیل کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق معاشی ترقی کا درآمد کی بنیاد پر انحصار اب اندرونی ذرائع سے حاصل کردہ آمدن کی ترقی سے تبدیل ہوگیا ہے، تاریخی ری فنڈز ادا کیے گیے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 119 فیصد زیادہ ہیں۔ پاکستان کی محدود ٹیکس بیس کو ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لاکر اور 6 ہزار 616 ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پوائنٹ آف سیلز کی کامیاب تنصیب کے ذریعے مزید وسیع کیا گیا ہے، جسے اس سال دسمبر تک 15ہزار تک لے جانے کی کوشش ہے۔ کورونا کی وجہ سے عام دکانداروں کا کاروبار متاثر ہونے کی وجہ سے ہم نے پوائنٹ آف سیل پر سیلز ٹیکس کی شرح 14 فیصد سے مزید کم کرکے 12 فیصد کرنے تجویز دی جس سے عام افراد اور دکانداروں کو کاروبار میں مدد ملے گی اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں آسانی ہوگی۔ کورونا کی وجہ سے ہوٹل کی صنعت بہت متاثر ہوئی اس لیے اس صنعت پر کم سے کم ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی، یہ چھوٹ اپریل سے ستمبر تک 6 ماہ کے لیے دی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہاکہ افراد اور تنخواہ دار طبقے کی سہولت کے لیے گوشوارہ کی موبائل اپیلی کیشن متعارف کروائی گئی جس سے انکم ٹیکس گوشواروں میں 37 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکس جمع کروانے کا ایک خودکار نظام متعارف کروایا گیا۔انہوں نے بتایاکہ اسمگلنگ اور قانونی عملدرآمد کی ایک کامیاب مہم چلائی گئی جس سے برآمد ہونے والی رقم میں 19سے 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔


ای پیپر