”ہمارے مورچے ان کی چوکیاں“
12 جون 2020 2020-06-12

قارئین، چونکہ آجکل خدا گواہ ہے، کہ میرا دل سیاسی کالم لکھنے کو اس لئے نہیں کرتا ، کہ پاکستان کو بنے تقریباً 75 سال ہونے کو ہیں ، مگر سوائے دفاع اور دفاع کے میدان میں قابل فخر ترقی کے علاوہ کسی بھی شعبے میں ایک دھیلے کی ترقی نہیں ہوئی، بلکہ روز بروز تنزلی کے شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک تو یہ سنتے سنتے کان پک گئے ہیں، کہ ہمارا ملک اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے، اور دوسرے یہ کہ ہمارے ہمسائے بھارت نے ہمیں کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔

اگر بفرض محال وہ ہمیں دنیا کو دکھانے کے لئے اپنے رویے میں تبدیلی لے بھی آئے، تو کیا پھر بھی ہمیں اس کی یہ بات قابل یقین سمجھنی چاہئے؟ میرے خیال میں ہرگز نہیں۔

کیونکہ ہمارے رسول پاک اور راہبر مکمل محمد کے فرمان کے مطابق انسان کی سرشت کبھی بھی نہیں بدل سکتی، البتہ عادت بدل جاتی ہے، اور اس کی عادتوں خاص طور پر مودی کی سرشت، اور عادت، اور اس کے افکار انتہا پسندی اور مسلم دشمنی کے بارے میں مظہر اسلام حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ

یہ علم و حکمت کی مہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائش

نہیں ہے دنیا کو اب گوارا پرانے افکار کی نمائش

جہاں مغرب کے تبکدوں میں، کلیساﺅں میں مدرسوں میں

ہوس کی خونریزیاں چھپاتی ہیں ، عقل عیار کی نمائش

اب اس کی تفصیل و تعریف کی تشریح اگر ہم اپنے عقل و دانش سے کریں، تو مقبوضہ کشمیر میں مودی کی حکمت عملی سے آثار قیامت ہویدا ہوئے ہیں، اور جس کے ردعمل کے طور پر قدرت کاملہ نے پوری دنیا کو کرفیو کے شکنجے میں جڑ لیا ہے، جس کی بنا پر یہ دیکھ کر کہ اسلامی ممالک میں کرونا کے مریضوں کی شرح کیوں کم ہے، تو دہریے اور کمیونسٹ ملکوں روس سے لے کر چین تک اللہ اکبر کہنے پہ مجبور ہو گئے ہیں ، اور اس طرح اذانوں کا سلسلہ امریکہ اور سکینڈے نیوبن ممالک تک پھیل گیا ہے۔

قارئین، میں اپنے اصل موضوع سے ہٹ نہ جاﺅں، میں بانی ریاست مدینہ کے مدینے شریف کی بات کرتا ہوں، وہب بن منبہؓ بیان کرتے ہیں کہ تورایت میں مدینہ پاک کے دس نام بیان فرمائے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے شرک کی نحوست اور وبال سے بالکل پاک کر دیا ہے، اور اک شہر کی ہوا میں پاکیزگی اور لطافت پائی جاتی ہے، جو بھی شخص اس شہر میں سکونت اختیار کرتا ہے، اسے اس کی مٹی اور درودیوار سے نہایت نفیس اور عمدہ خوشبو محسوس ہوتی ہے۔

حضرت شبلیؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی مٹی میں سے نہایت نرالی خوشبو اور لطیف مہک پائی جاتی ہے، اس لئے تو ہر مومن یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتا ہے، کہ

میرے کملی والے کی

شان ہی نرالی ہے

سبز سبز گنبد ہے

اور سنہری جالی ہے

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس شہر کو جابر اور ظالم بادشاہوں کی دستبر سے مامون اور محفوظ رکھا۔اس شہر کی نورانی شعائیں، پاکیزہ مہک ، باغوں کی کثرت، دوسرے شہروں پر اس کی برتری ، اور اس کے مکینوں کی عظمت نیز اس کے محل وقوع کی رفعت شان کے باعث یہ ”طیبہ“ کے نام سے موسوم ہوا۔

ہر چھوٹی یا بڑی بستی کو عربی میں قریہ کہا جاتا ہے، اور انصار وہ خوش نصیب لوگ تھے، جنہوں نے فخر و کون و مکاں، سرور زمین و زمان، رحمت کائنات، سیاح لامکاں اور مہاجرینؓ کی نصرت کا اعجاز و اعزاز حاصل کیا اور ان پر تن من دھن سب کچھ نچھاور کر دیا ، جس کی بناءپر اللہ تبارک تعالیٰ نے انہیں اس لقب سے نوازا۔ حضور کی دعا کی بدولت اس شہر کو خصوصی برکات سے نوازا اور حلال اور حرام کے احکامات اسی شہر سے صادر ہوئے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے اپنے محبوب کے لئے اسی شہر مدینہ شہر خوباں کو پسند فرمایا ، اور پھر یہ شہر اللہ جل شانہ ، محبوب کائنات اور تمام مسلمانوں کا محبوب شہر بن گیا۔

برکات سمیٹنے والا شہر اور فرشتوں کا اس کا حدود پہ پہرہ دینا تا کہ طاعون ، اور دجال اس شہر میں داخل نہ ہو سکیں۔

قارئین کرام ، یہ الفاظ پڑھ کر لامحالہ شیطان لعین ، لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کر دیتا ہے، کہ اگر یہ فرشتوں اور ملائیکہ کے پہرے میں ہے، تو پھر (کرونا وائرس)اس میں داخل کیوں ہو گئے۔اس کا واضح اور بین جواب، سوال کے اندر موجود ہے، کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے طاعون سے جو ہر وقت یژب پہ مسلط رہتا تھا، اس سے اس شہر طیب کو اس مرض سے ہمیشہ کے لئے پاک کر دیا۔

قارئین، مدینہ منورہ کے بارے میں مزید بھی انشاءاللہ بات ہو گی ، فی الحال مجھے اچانک نسیم حجازی یاد آ گئے، جنہوں نے اور ”تلوار ٹوٹ گئی“ جیسی نابلغہ روزگار کتاب لکھ ڈالی تھی، اور ہم مسلمانوں کے اسلاف کے بارے میں جذیہ مسلمانی کو زندہ کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔

جسے سن کر اور پڑھ کر ہمارا جذبہ جنون بھی بیدار ہو جاتا ہے، اگر سچ لکھنا ، معتوب و مصلوب ہونے کا باعث نہ بنے، تو ہم آج بھی جذبے کی اس نہج و کمال پہ ہیں ، کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت روزانہ کی بنیاد پہ تین چار پاکستانیوں کی لاشیں گرا کر جنگ لڑے بغیر اپنے مطلوبہ اہداف پورے کر لیتا ہے، تو کیا ہوا ، ہم بھی جوابی کارروائی کر کے دشمن کی چوکی نہیں چوکیوں کو اڑا دیتے ہیں ، اور اس کے ہائی کمشنر کو بھی بلا لیتے ہیں ، جسے چار و ناچار چائے بھی پلانی پڑتی ہے، مگر وہ اتنا دھیٹ ہے، کہ چوکیوں تباہ کروا لینے کے بعد ہمارے مورچوں کے مقابلے میں وہ چوکیاں پھر بنا لیا ہے، قارئین ہمیں تو معلوم نہیں ، اس کی کتنی چوکیاں ہیں اور اس کا حکمران کتنا قدامت پسند ہے کہ روز بروز اس کی دشمنی بڑھتی ہی جا رہی ہے، حالانکہ غزوہ ہند تو قیامت کے قریب قریب آئیگی ، اشرافیہ کو تو پتہ نہیں، غریبوں پہ تو قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔


ای پیپر