بجٹ بمقابلہ عام آدمی اور جسٹس فیض عیسیٰ قاضی بمقابلہ…؟
12 جون 2019 2019-06-12

عمران خان کی حکومت نے اپنے پہلے سال کا بجٹ پیش کر دیا ہے… بجٹ کو حکومت سے تعلق رکھنے والے پاکستانی اور عوام کی نمائندگی کا دم بھرنے والے ماہرین معاشیات نے تیار کیا ہے یا آئی ایم ایف کی پوری کی پوری ٹیم نے سخت ترین شرائط سمیت یہ کام اپنے ذمہ لے رکھا تھا جس سے وہ عہدہ برآ ہوئی ہے… اس بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں… غالباً پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی خاطر محض اس کی شرائط نہیں تسلیم کی گئیں، بلکہ بجٹ سازی کا پورے کا پورا کام اس کے سپرد کر دیاگیا… یہاں تک کہ اس کے ایما پر دفاعی اخراجات کو بھی پچھلے برس کی سطح پر رکھنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے… جس کا پہلے ہماری تاریخ میں تصور بھی نہ کیا جا سکتا تھا… یہ علیحدہ بات ہے کہ ان اخراجات میں تھوڑی بہت کٹوتی ہونی چاہیے تھی یا نہیں… لیکن کوئی سویلین حکمران اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا … بلکہ ہر موقع پر ہل من مزید کا تقاضا ہوتا تھا… جس پر لبیک کہہ کر ہی عافیت خیال کی جاتی… اسحاق ڈار نے تھوڑی سی جرأت سے کام لیا اسے جس حشر سے دو چار ہونا پڑا سب کے سامنے ہے… لیکن اب چونکہ تمام معاملات آئی ایم ایف کی دسترس میں دے دیئے گئے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ اس ادارے کی ڈوریں امریکہ ہلاتا ہے لہٰذا اس کا مطالبہ مانتے ہی بنی ہے… اگرچہ کٹوتی خفیف ہے مگر برف پگھلنا شروع ہوئی ہے… بجٹ کا دوسر اپہلوبالواسطہ ٹیکسوں کی بھر مار ہے… جس کے نتیجے میں عام آدمی کے روزمرہ استعمال میں آنے والی ضروریات زندگی کی ہر چیز زد میں آ گئی ہے… آٹا ، دال ، گھی، چینی، دودھ، خشک دودھ، نیم تیار شدہ چکن، مٹن، بیف، مچھلی ، سنگ مرمر ، کسی ایک چیز کا نام لیجیے ، سب کو بالواسطہ ٹیکسوں کی لپیٹ میں لے لیا گیا ہے… میں ماہر معاشیات نہیں ، مالی امور کی پیچیدگیوں کا ادراک نہیں رکھتا لیکن اتنا کچھ ضرور پڑھ اور سن رکھا ہے کہ اچھی معیشت یا معیاری بجٹ وہ ہوتا ہے جس میں زیادہ توجہات بالواسطہ نہیں براہ راست ٹیکس وصول کرنے پر مرکوز کی جاتی ہیں… درحقیقت براہ راست ٹیکسوں پرمبنی نظام ہی اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ملک کے لوگ خاص طورپر صنعت کار اور کاروباری طبقہ اپنی خالص آمدنی میں سے کچھ فیصد باقاعدگی کے ساتھ انکم اور ویلتھ ٹیکس کے طور پر قومی خزانے میں جمع کرائیں… یعنی جو جتنا زیادہ کماتا ہے، اسی تناسب سے حکومت کو ٹیکس ادا کرے… یہاں یہ صورت ہے کہ جن اشیائے ضرورت کو عام اور غریب آدمی سب سے زیادہ استعمال کرتا ہے، اس پر ٹیکسوں کا غیر معمولی بوجھ لاد دیا گیاہے… یہ امر بجائے خود ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے، کم از کم ماہرین معاشیات یہ ہی کہتے ہیں… اس کے بعد تنخواہ دار طبقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے… امیر اور دولت مند طبقات کے مقابلے میں اس سے ٹیکس وصول کرنا آسان تر ہوتا ہے کیونکہ لگی بندھی تنخواہ ہوتی ہے، خواہ کتنی ہو… اس پر آرام سے کٹوتی کر لی جاتی ہے… اور تازہ ترین بجٹ میں تو 50 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ تنخواہ وصول کرنے والوں پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے … یہ بات سمجھ سے بالاہے کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے جن ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، انہوں نے نچلے متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے تنخواہ داروں کو ہی اپنی مہارت کا نشانہ کیوں بنایا ہے؟ یہ سب لوگ یقینا ایف بی آر کے نئے چیئرمین شبر زیدی صاحب کے client نہیں رہے ہیں… ان کی مہارت سے تو چوٹی کے صنعتکار اور ارب پتی تاجر پیشہ افراد فائدہ اٹھاتے رہے ہیں… شاید اسی لیے انہیں زیادہ زحمت دینا گوارہ نہیں کی گئی…

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے بجٹ تو آئی ایم ایف نے بنا دیا…ٹیکسوں اور محصولات کے اہداف بھی مقرر کر دیئے… نئے مالی سال میں پانچ ہزار پانچ سو پچپن ارب روپے کے ٹیکس وصول کر کے قومی خزانے کو لبا لب بھر دینے کی خوش خبری بھی سنا دی گئی ہے… لیکن اتنے بڑے ہدف کو جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ہے پورا کون کرے گا… کیا یہ کام بھی آئی ایم ایف کو ٹھیکے پر دے دیا جائے گا… اور ہم اس کی براہ راست حکمرانی کی زد میں آ جائیں گے… وگرنہ جو حکومتی محکمے ہمارے خان بہادر وزیراعظم عمران کی عمران نیازی کے سایۂ عاطفت میں کام کر رہے ہیں… اگر ان کی پچھلے 10 ماہ کی کارکردگی کو سامنے رکھا جائے تو ایسی مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے کہ آدمی یقین نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ اتنے بڑے ہدف کی تکمیل کے فریضے کو سر انجام دے پائیں گے… دس ماہ قبل اسی حکومت نے زمام کار سنبھالتے ہی زراعت کے شعبے میں 3.8 فیصد ترقی کے ہدف کا اعلان کیا تھا… اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق حاصل نتیجہ 0.8فیصد !خدمات کی ذیل میں 6.5 فیصد کا ہدف تھا جبکہ بہ مشکل 4.7 فیصد تک ہاتھ پہنچا ہے… عام درجے کی صنعت کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ 7.6بھڑوہتی کی جائے گی… نتیجہ 1.4 فیصد کی شکل میں سامنے آیا ہے… بڑے پیمانے پر صنعت کاری کے شعبے کے لیے بڑا ہدف رکھا گیا… یعنی 8.1 فیصد … حکومت کے اپنے جاری کردہ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق اس میدان میں منفی ترقی یعنی مائنس 2 فیصد کا سامنا کرنا پڑا ہے…یہ تمام اعداد و شمار ملا کر سامنے رکھے جائیں تو اسی اکنامک سروے کی رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا ٹارگٹ 6.2 فیصد تھا جبکہ گراف 3.2 تک نیچے جا گرا ہے… یہ ہے ہماری اس ایماندار اور حد درجہ باصلاحیت حکومت کے وزراء اور اس کے محکموں کی گزشتہ برس بھی یا یوں کہہ لیجیے کہ پہیلے دس ماہ کے عرصہ اقتدار کی کارکردگی… کیا یہ لوگ پانچ ہزار پانچ سو پچپن ارب روپے کے محصولات کا ہمالیہ پہاڑ کی چوٹیوں کو چھوجانے والا ہدف پورا کر پائیں گے… جیسا کہ راقم نے عرض کیا کہ میں ماہر مالیات و اقتصادی امور نہیں ہو ں لیکن common sense بھی کوئی چیز ہوتی ہے لہٰذا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں… اس کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ برس کتنے قرضے لینے پر مجبور ہوں گے اور آئی ایم ایف کی منت سماجت تک اس حد تک کرنی پڑے گی کہ اگر شمہ برابر معاشی خودمختاری باقی رہ گئی ہے تو اس کے گلے پر بھی چھری پھیر دی جائے گی … اس حالت اور اس کیفیت میں بجٹ پیش کرنے کی شب وزیراعظم عمران خان شب بارہ بجے کے قریب پی ٹی وی والوں کی خاصی حد تک مضحکہ خیز کارکردگی کے جلو مین قوم سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ وہ کمیشن قائم کرنے جا رہے ہیں جو سابقہ حکومت کے لیٹروں کی ان کے الفاظ میں جرائم کی مکمل تفتیش کر کے انہیں آخری انجام تک پہنچائے گا… آپ کے عزائم یقینا بلند ہیں لیکن اپنی حکومت کے زیر سایہ کام کرنے والے ان وزراء اور اہلکاروں کا کیا کیجیے گا جنہوں نے پہلے د س ماہ کے اندر معیشت کی لٹیا ہی ڈبو کر رکھ دی… آپ سے پہلی حکومت نے کچھ نہیں کیا مگر مجموعی قومی پیداوار کے تناسب کو 5.8 فیصد تک لے گئی… پچھلی دو حکومتوں نے اپنے دس سالوں میں اتنے قرضے حاصل کیے کہ اس کے مقابلے میں آپ گزشتہ دس ماہ کا اپنا تناسب نکال کر دیکھ لیجیے ، اس کے باوجود واویلا ہے خزانہ خالی پڑھا ہے… آئندہ برسوں میں اگر موقع مل گیا تو قوم و ملک کو کس حد تک پیسے پیسے کا محتاج اور غیروں کا بھیک منگا بنا کر رکھ دیا جائے گا، اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں…

کل بروز بدھ بعد از بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت کے قرضے لوٹانے کے لیے نئے قرضے لینے پڑے… آپ کے جو لچھن ہیں کیا آنے والی حکومت بھی آپ کے قرضوں کے بارے میں اسی طرح کا بیان جاری کرے گی …

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ شب قوم کے نام خطاب میں کہا ہے کہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا ، بڑے بڑے برج جیلوں میں ہوں گے… مراد صاحب موصوف کی غالباً نواز شریف، حمزہ شہباز اور آصف علی زرداری صاحبان سے ہے… جن کو نیب کے الزامات (ثابت شدہ جرائم نہیں) کے تحت جیلوں میں ڈالا گیا ہے… نیب کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں … وہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بڑے بڑے سیاستدانوں کو تابع فرمان بنانے کے لیے احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں کرنے والے اس ادارے کو قائم کیا تھا… تب دنیا بھر کے مروجہ اصول ہائے انصاف اور اس ضمن میں واضح اسلامی تعلیمات سے ہٹ کر طے کیا گیا کہ جسے بھی کرپشن کے الزام کے تحت حراست میں لیا جائے گا، اسے اپنی صفائی میں ثبوت خود دینا ہو گا… یعنی مجرم سے جرم تک پہنچا جائے گا… جرم سے مجرم تک نہیں… یہ نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں کی بہت بڑی غلطی تھی جس کا نتیجہ وہ خود بھگت رہے ہیں انہوں نے قوم سے وعدے کے باوجود اپنے اپنے ادوار میں نیب کو ختم کر کے حقیقی اور بلا امتیاز احتساب کا کمیشن قائم نہیں کیا… آج انہیں الزامات کی لمبی چوڑی فہرستوں کا سامنا ہے… اگر کسی نے کرپشن کی ہے تو ضرور سزا ملنی چاہیے لیکن اس کا جرم تو ثابت کریں… نواز شریف ، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا دعویٰ ہے کہ ایک الزام بھی ثابت ہو جائے ، وہ ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں… سیاست بھی چھوڑ دیں گے… ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ آصف علی زرداری کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹ کے حوالے سے 14 ارب روپے کی خورد برد یا ناجائز وصولی کی بات کی گئی جبکہ نیب کے وکیل استغاثہ نے عدالت کے سامنے صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کی ناجائز ٹرانزیکشن کا الزام پیش کیا گیا ہے… ان کے بقول یہ وہ رقم ہے جو اومنی گروپ کو غالباً گنے کی کاشت بیچ کر حاصل کی گئی… خورد برد ایک روپے کی بھی جرم کے ذیل میں آتی ہے لیکن آپ اسے ثابت تو کیجیے… پھر جسے چاہے جیل میں دے دیجیے… موجودہ صورت میں تو آپ ڈکٹیٹر مشرف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں… انصاف کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے… آخر قانون اور انصاف سے کھلواڑ کرنے والا یہ تماشا کب تک جاری رہے گا…لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے خلاف حکومت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس دائر کردہ ریفرنس کا ہے جس کی کل 14 جون کو سماعت شروع ہونے والی ہے … جج صاحب کے خلاف الزام ہے انہوں نے بیرون ملک اپنی اہلیہ کے نام حاصل کردہ جائیداد کو انکم ٹیکس کے کاغذات میں ڈکلیئر نہیں کیا… جواب میں جسٹس فائز عیسیٰ کا مؤقف ہے ان کی بیگم اپنی آمدنی میں خود کفیل ہیں جو جائیداد بنائی، ان کے زیر کفالت رہ کر نہیں … جن ممالک کے اندر یہ جائیداد ہے وہاں کے قوانین کے تحت ٹیکس بھی ادا کیا گیا … اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کیا خود جناب وزیراعظم بتانا پسند کریں گے کہ انہوں نے اپنے کاغذات میں اس وقت کی بیگمات کے بیرون ملک اثاثے ظاہر کیے تھے یا نہیں… اگر جواب نفی میں ہے تو صرف اکیلا میں مجرم کیوں؟ لیکن اس سے قطع نظر اصل مسئلہ جیسا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر ترین سابق اور موجودہ عہدیداروں کا کہنا ہے،بدنیتی (Malafide) کا ہے موجودہ ریفرنس سے پہلے جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے ایک مشہور فیصلے پر نظر ثانی (review) کی درخواست تیار کی گئی تھی… کیونکہ انہوں نے کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعہ کے پیچھے خفیہ اداروں اور دہشت گردوں کے تال میل پر گفتگو کی تھی… اس کے بعد 2017ء میں فیض آباد راولپنڈی کے دھرنے پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے جسٹس موصوف نے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائے تھے… لیکن اس درخواست کو فوراً واپس لے لیا گیا کیونکہ اس کا سخت ردعمل سامنے آنے اور بدنامی کا خدشہ تھا… لیکن چونکہ ’’والیان ریاست‘‘ کے کردار پر اس حد تک حرف زنی کرنے والے جج کو سزا دینا مقصود تھا ، اس لیے ان کی اہلیہ کی جائیداد کے حوالے سے ریفرنس تیار کر لیا گیا اور اس کی فوراً تاریخ سماعت بھی طے کر دی گئی… حالانکہ جیسا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے نظام سے واقفیت رکھنے والے سب لوگ جانتے ہیں کہ مختلف جج حضرات کے خلاف درجنوں سے زیادہ ریفرنس کئی سالوں سے پڑے ہیں جن کی سماعت کی باری نہیں آنے دی جاتی… اس حد تک واضح بدنیتی (Malafide) کے بعد ریفرنس کی کیا وقعت رہ جاتی ہے، اس سے پوری قوم کے بالغ نظر قانون دان اور اہل دانش واقف ہیں، اسی لیے سراپا احتجاج ہیں… ’وہ‘ کب معاف کرنے والے ہیں ۔


ای پیپر