سیاست۔ معیشت اور ٹیکس گریزی کا کلچر
12 جون 2019 2019-06-12

قومی سیاست اور معیشت کے حوالے سے اس ہفتے کے آغاز ہی سے ہنگامہ خیزیاں دیکھنے کو ملیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری جعلی اکائونٹس کیس میں اور حمزہ شہباز کو بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کرلیا ۔ تحریک انصاف ان گرفتاریوں کا سہرا اپنے سر باندھ رہی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ گرفتاریاں نیب نے کی ہیں تو تحریک انصاف اس کا کامیابی پرداد سمیٹ رہی ہے اور اگر گرفتاریاں تحریک انصاف اور عمران خان کی وجہ سے ہوئیں تو نیب کہاں ہے ؟ اور نیب کی غیر جانبداری کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟

تحریکِ انصاف کی حکومت کے بارے میں حُسنِ ظن تو کبھی بھی نہیں رہا اور اقتصادی سروے 2019-20 نے تو حکومت کے تمام دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اقتصادی سروے کیا ہے ؟ تحریک انصاف کی برہنگی کے لیے آئینہ ہے۔ معیشت کا کوئی بھی قابلِ ذکر پہلو ایسا نہیں جس میں مثبت پہلو کوشش کے باوجود تلاش کیا جاسکے۔ لیکن یہاں داد دینی پڑے گی حکومتی وزراء اور ترجمانوں کی چرب زبانی اور لفاظی کی جو اقتصادی ناکامیوں کے باوجود ٹی وی چنیلز پر نواز شریف اور زرداری کے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی داستانیں سنا سنا کر ناکامی کے داغ چھپانے کی کوشش کرررہے ہیں۔

2019-20 کے لیے بجٹ بھی حکومت نے پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں ٹیکسوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے پانچ ہزار پانچ سو ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا ہدف رکھا ہے لیکن اس بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ہدف حاصل کیسے ہوگا اور پچھلے مالی سال کا ہدف جو 4.4 کھرب روپے تھا اس میں ناکامی کی وجوہات کیا تھیں۔ اسی طرح نہایت فخر سے یہ بھی بتایا گیا کہ آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگیا ہے لیکن اس میں بھی اس گوشے کو پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ یہ چھ ارب ڈالر یک مشت ملنے

کی بجائے آنے والے تین سالوں میں ملیں گے۔ بجٹ میں ٹیکس کے اضافے کے بارے میں حکومت اور ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس سے غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا ۔ مثال کے طور پر چینی پر ٹیکس کے اضافے کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے ایف بی آر کے چئیرمین نے فرمایا کہ انہوں نے درآمدات پر ڈیوٹیوں کو ختم کرکے ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے عوام پر اس اضافے کا بوجھ نہیں پڑھے گا۔ لیکن کیا وہ شوگر ملز کے مالکان کو اس بات کا پابند کریں گے کہ وہ چینی کی موجودہ قیمت میں اضافہ نہ کریں اور اگر وہ کریں تو ان کے خلاف کاروائی ہوسکے ؟۔

ٹیکس کی وصولی ہمیشہ سے ہر حکومت کا مسئلہ رہا ہے ۔ دانشور اور انکم ٹیکس کے معروف وکیل محمود مرزا مرحوم اسے سماجی زوایے سے دیکھتے تھے۔اس ضمن میں ان کی کتاب ’’ ٹیکس نظام کا سماجی جائزہ‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ہمارے ٹیکس اور تجارت کے قوائد عالمی تقاضوں کے مطابق ہیں لیکن ہمارا معاشی عمل جدید خطوط پر استوار نہیں ہوسکا ہے ۔ معاشی عمل جس کی بنیاد آج کے دور میں جدید علوم اور ٹیکنالوجی پر ہے ۔ لیکن ریاستی طاقت کے علم برداروں اور ریاستی وسائل پر قابض طبقات نے جدیدیت کی راہ میں ہر طریقے سے روکاوٹ پیدا کی ہے۔ نہ صرف نئے تقاضوں سے ہم آہنگی میں روکاٹ پیدا کی بلکہ ان بالادست طبقات نے آمدنیوں کو چھپایا، مراعات حاصل کیں اور ٹیکس کے قوانین میں اپنی آسانیوں کے لیے چور دروازے کھولے۔ جس کے نتیجے میں دولت مندوں سے ٹیکس وصولی کی گنجائش کم ہوتی چلی گئی اور ریاست کا نظم چلانے کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ عام استعمال کی اشیاء اور خدمات پر ڈال دیا گیا۔یہاں مرزا صاحب ایک جملے میں پاکستان کے مسائل کا بنیادی سبب بیان کرتے ہیں کہ ’’ ایک جانب بوسیدہ معاشرے نے ٹیکس نظام کو اور دوسری جانب ٹیکس نظام نے معاشر ے کو پس ماندہ رکھا ہوا ہے‘‘۔

محمود مرزا صاحب تجویز دیتے ہیں کہ ٹیکس ریفارم کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے عوام ہی دبتے ہیں جب کہ دولت مندوں کے ذرائع آمدن ایک سے زائد ہوتے ہیں اس لیے وہ ٹیکس ریفارمز میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ ہر حکومت ٹیکس وصولی کی شرح اور نیٹ ورک بڑھانے میں ناکام رہتی ہے۔ اس ضمن میں مرزا صاحب مزید بتاتے ہیں کہ ٹیکس ریفارم کی بنیاد پر سماجی اصلاح کی تحریک کو فروغ دینا چاہیے۔ جس کی یہ صورت ہو کہ اس تحریک کو غیر سیاسی طور پر منظم کیا جائے جس کا آغاز دانشور، سماجی زندگی میں عملی حصہ لینے والے افراد اور صارفین تنظیمیں مل کر کریں۔ وہ مطالبہ کریں کہ بڑے اور متوسط طبقے کے دوکاندار اور صنعتکار اشیاء فروخت کرتے وقت کیش میمو جاری کیا کریں۔ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت اس طرح مدد کرسکتی ہے کہ وہ کیش میمو کی بنیاد پر لاٹری سسٹم کا اجراء کا بندوبست کرے جس کی خریدار کی پیش کردہ کیش میمو کی لاٹری نکلے اسے انعام دیا جائے۔ اسی طرح تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی ترغیب دی جائے کہ اگر وہ کیش میمو جاری کریں گے تو انھیں ری بیٹ دی جائے گی۔ اس تحریک کی کامیابی دور رس نتائج پیدا کرے گی۔ کالا دھن کنٹرول ہوجائے گا اور حکومت معاشی نظم بہتر انداز میں چلا پائے گی۔اگرچہ اس کام میں مشکلات درپیش ہونگی لیکن اگر یہ تحریک کامیاب ہوگئی تو قوم کو نئی خود اعتمادی حاصل ہوگی اور ریفارم کا دائرہ بتدریج تمام شعبوں میں پھیلتا چلا جائے گا ۔ سماجی خدمت کا یہ پروگرام سماجی سیاستدان بھی پیدا کرنے کا سبب بنے گا جو پاکستان ایسے ترقی پذیر ممالک کی ضرورت ہے ۔ ایسے سیاستدان جن کا مقصد اقتدار برائے اقتدار نہ ہو بل کہ اقتدار برائے سماجی خدمت ہو۔


ای پیپر