معاشی ناکامی
12 جون 2019 2019-06-12

مشیر خزانہ نے پاکستان اکنامک سروے 2018-19 ء پیش کر دیا ہے۔ یہ اکنامک سروے در اصل ایک سال کی معاشی اور سماجی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت کی ایک سال کی کارکردگی اور اس کی پالیسیوں کے نتائج اس معاشی سروے میں سامنے آتے ہیں۔ 2018-19 ء کے معاشی سروے نے تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میڈیا پر اس اقتصادی سروے اور حکومتی کارکردگی زیر بحث آتی ۔ حکومت کے ذمہ داران اپنی 10 ماہ کی کارکردگی کی وضاحت کرتے۔ اس کے بر عکس ہوا یہ کہ آصف زرداری گرفتار ہو گئے۔ حکومت نے اس گرفتاری کو احتساب کی جانب اہم قدم اور کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا خوب ڈھنڈورا پیٹا۔ آصف زرداری کی گرفتاری کو تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی معاشی کارکردگی کو چھپانے اور معاشی سروے سے توجہ ہٹانے کے لیے بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا ہے۔

اسی طرح بجٹ والے دن حمزہ شہباز کی گرفتاری کا فائدہ بھی براہ راست حکومت کو پہنچے گا۔ ان دونوں گرفتاریوں سے بلا شبہ تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کو فائدہ ہوا ہے اور اسے یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنے ایک اہم وعدے اور نعرے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ یعنی احتساب کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے حامی یقینا خوش ہوں گے کہ ان کی حکومت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف بھر پور کارروائی کر رہی ہے۔ ان گرفتاریوں سے یقینا سیاسی درجہ حرارت بڑھے گا ۔ حزب اختلاف زیادہ جارحانہ انداز اور حکمت عملی اپنائے گی۔ دونوں طرف سے الزامات اور جوابی الزامات کی بوچھاڑ ہو گی ۔ حکومت اپنی تمام تر ناکامیوں اور خامیوں کا ملبہ حزب مخالف پر ڈالنے کا بیانیہ جاری رکھے گی۔ حزب مخالف کے مزید راہنما گرفتار ہو سکتے ہیں۔ ان کے خلاف نئے مقدمات سامنے آ سکتے ہیں۔ مگر اس سے کے با وجود کیا پاکستان کے معاشی او رسماجی حالات تبدیل ہو جائیں گے۔ کیا حزب مخالف کے راہنمائوں کو جیلوں میں ڈالنے سے کیا مہنگائی ، بے روزگاری، غربت اور معاشی بد حالی میں کمی واقع ہو جائے گی۔ کیا اس احتساب کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آ سکے گی۔ یہ وضاحت بہت ضروری ہے کہ احتساب کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس ملک کے عوام کے پیسوں پر جس کسی نے بھی ڈاکہ ڈالا ہے اور ناجائز طریقوں اور ذرائع سے دولت جمع کی ہے ان سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہونی چاہیے۔ کوئی بھی کسی بد عنوان، بد کردار اور کرپٹ فرد یا افراد کی حمایت نہیں کر سکتا۔ مگر احتساب شفاف اور سب کا یکساں ہونا چاہیے۔ نیب جو الزامات لگاتا ہے ان کی بھر پور تحقیقات ہونی چاہیے اور ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ احتساب جب سیاسی ایجنڈے کے طور استعمال ہوتا رہے گا اس وقت اس پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔

اب ذرا معاشی سروے کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ جس کے مطابق معاشی ترقی کی شرح مقرر کیے گئے ہدف 6.2 فیصد کے مقابلے میں 3.3 فیصد رہی ہے ۔ زراعت کے شعبے میں بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے اور تمام بڑی فصلوں کی پیداوار اہداف سے کم رہی ہے۔ زراعت کے شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں محض 0.85 فیصد رہی ہے۔ صنعت کا ہدف 7.6 فیصد تھا جو کہ محض 1.4 فیصد کی شرح سے ترقی کر پائی ہے ۔ بڑے پیمانے کی مینو فیکچرنگ میں بھی بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے اور ترقی کی شرح منفی میں رہی ہے۔اسی طرح سروسز کے شعبے میں بھی مقرر کیے گئے ہدف سے کم ترقی ہوئی ہے ۔ صنعتوں اور خاص طور پر مینو فیکچرنگ کے شعبے میں بد ترین گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ معیشت کے مختلف شعبوں کی ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔گزشتہ ایک سال سے پاکستانی معیشت میں ترقی یا اضافے کی بجائے گراوٹ ہوئی ہے۔ معیشت سکڑی ہے۔ معیشت میں ترقی کی رفتار سست ہوئی ہے۔ ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ور روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سٹاک مارکیٹ مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 52 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ آپ جس بھی معاشی اشاریے کو دیکھیں گے اس میں آپ کو گراوٹ نظر آئے گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی شرائط پر عمل در آمد کرنے کی صورت میں معیشت کی شرح نمو مزید کم ہو گی۔ کٹوتیوں کے نتیجے میں معیشت مزید سکڑے گی۔ پی ٹی آئی حکومت کا پہلا مکمل بجٹ IMF کی شرائط کی روشنی میں پیش کیا جائے گا۔ جس میں بنیادی طور پر حکومت کی تمام تر توجہ کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کرنے پر ہو گی۔ بجٹ خسارے میں کمی لانے کے لیے اخراجات میں کمی کی جائے گی۔تعلیم اور صحت کے بجٹ بھی کٹوتیوں کی لپیٹ می آئیں گے۔ حکومت پہلے ہی ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں کمی کر چکی ہے۔

حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ پاکستانی معیشت کی گراوٹ بحران اور زبوں حالی حکومتی پالیسیوں اور ناکام تجربات کا نتیجہ ہے۔ اس لیے زیادہ امکانات یہی ہیں کہ موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھا جائے گا۔ اپنی معاشی ناکامیوں کا الزام حسب دستور اور روایت پچھلی حکومتوں پر عائد کیا جاتا رہے گا۔ اشرافیہ حکومتی معاشی پالیسیوں کا فائدہ اٹھاتی رہے گی۔ اشرافیہ کا معیشت پر کنٹرول اور غلبہ بر قرار رہے گا۔

پاکستان کو جس قسم کی ریڈیکل اصلاحات کی ضرورت ہے وہ نہیں ہوں گی کیونکہ اس سے اشرافیہ اور حکمران طبقات کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ سنجیدہ اور مٔوثر اصلاحات ایک مشکل عمل ہے۔ جبکہ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں کے سر تھونپنا سب سے آسان کام ہے۔ ایسی صورت حال جب تک الزام تراشی سے کام چلتا ہے چلایا جائے گا۔ اس کے بعد اگر صورت حال اسی طرح خراب رہی تو الزام دھرنے کے لیے معاشی () اور IMF بھی موجود ہے۔ حزب مخالف نے اگر سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا تو پھر سارا الزام ان کے سر تھونپا جا سکتا ہے۔

تحریک انصاف یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ ان کی معاشی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ ان کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ عام لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو رہی ہیں۔ مگر آپ زیادہ سوچیں مت، بس حزب مخالف کی گرفتاریوں سے لطف اندوز ہوں۔ چور چور ۔ ڈاکو ڈاکو کے نعرے سنیں اور احتساب کے عمل سے پیٹ بھرنے کی کوشش کریں۔


ای پیپر