فوج کوصرف 1100 ارب روپے دے رہے ہیں: عبدالحفیظ شیخ
12 جون 2019 (17:36) 2019-06-12

اسلام آباد: مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کو 31 ہزار ارب کا قرض ورثے میں ملا، کمزور اور غریب طبقے کے لیے اخراجات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،ماضی کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے قرض لے رہے ہیں، برآمدات میں شرح نمو صفر فیصد ہے، بیرونی خدشات اور قرضوں کے مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں،9.2 ارب ڈالر مسائل کے حل کے لیے حاصل کیے۔ فوج کو ہم صرف 1100 ارب روپے دے رہے ہیں، 3 سے 4 شعبوں میں اخراجات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، سماجی بہبود کے لیے بجٹ دگنا کر دیا ہے۔

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے امیر لوگوں کو پاکستان کے ساتھ سچا و مخلص ہونا ہوگا اور ٹیکس دینے ہوں گے، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ہمارے ملک میں امیر طبقہ کم ٹیکس دیتا ہے، ہمارے یہاں ٹیکس کی شرح 11، 12 فیصد ہے جو دنیا کی کم ترین شرح میں سے ایک ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ہمارے خطے کے دیگر ممالک کے امیر لوگ ہم سے کافی زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، لہذا پاکستان میں یہ قابل قبول بات نہیں اور اگر ٹیکس کی وصولی کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑے گا تو ہم تیار ہیں۔حکومت کی سادگی مہم کا حوالہ دیتے ہونے انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت نے اپنے اخراجات کو واضح طور پر کم کرکے لوگوں کے لیے مثال قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے اخراجات کم کرنے ہیں اور عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم اخراجات کم کرنے میں سب سے آگے ہوں گیعبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوگی، اس کے لیے ہم نے کفایت شعاری دکھائی اور سول حکومت کے اخراجات کو واضح طور پر کم کرکے 468 ارب سے 431 ارب کردیا ہے اور مہنگائی کی وجہ سے بڑھنے والی قیمتوں کے باوجود ہم نے اسے کم کیا۔مشیر خزانہ نے دفاعی بجٹ سے متعلق بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلح افواج نے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر قبول کیا اور اس میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، یہ دنیا اور پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بہت اچھا پیغام ہے کہ کس طرح حکومت کے اخراجات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ مشکل حالات سے نمٹنا ضروری ہے اور اس کے لیے سیاست سے بالاتر ہوکر ملک مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے آنے سے پہلے 10 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے لیے ہوئے تھے اور ان کی ادائیگی ڈالر میں ہی کرنا تھی جبکہ ڈالر کمانے کی صورتحال ایسی تھی کہ برآمدات کی ترقی صفر تھی اور تجارت کا فرق 40 ارب ڈالر کے قریب تھا۔پاکستان کے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) سے قرض لینے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ماضی کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے مزید قرض لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی تو 31 ہزار ارب کا قرضہ اسے ورثے میں ملا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دیگر لوگوں کے لیے گئے قرضے واپس کرنے ہیں کیونکہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوسکتا اور ماضی کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے 2 ہزار 900 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر معاشی صورتحال ایسی ہونے کے باوجود ہم نے چند چیزوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں 3، 4 ایسے شعبے ہیں یہاں اخراجات کم کرنے کے بجائے بڑھائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلا یہ کہ مشکل سے گزرنے کے باوجود کمزور، غریب طبقے کے لوگوں تک پہنچنا چاہیے اور انہیں یہ احساس نہیں دلانا چاہیے کہ ہم انہیں بلا چکے ہیں اور اسی کے لیے ہم نے سماجی تحفظ کے موجودہ بجٹ کو 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب روپے تک لے گئے۔


ای پیپر