فوٹو بشکریہ فیس بک

سنگین غداری کیس، عدالت نے مشرف کا حق دفاع ختم کر دیا
12 جون 2019 (13:47) 2019-06-12

اسلام آباد: خصوصی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں ملزم کی التوا کی درخواست کو مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق فیصلہ خصوصی عدالت کے رجسٹرار راﺅجبار نے پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے کی گئی التوا کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم خرابی صحت کے باعث پیش نہیں ہو پا رہا، سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل در آمد کیا جائیگا۔ ملزم پیش نہیں ہوتا تو کیس ختم کرنے کی درخواست کو ناقابل سمجھتے ہیں۔

عدالت نے کہا وزارت قانون وکلا کا ایک پینل بنائے جو ملزم کا عدالت میں دفاع کرے۔ وزارت قانون ان وکلا کی فیس کے شیڈول کے بارے میں رپورٹ بھی پیش کرے۔ آئندہ سماعت 27 جون کو ہوگی۔ قبل ازیں خصوصی عدالت میں پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت اور عدالت نے پرویز مشرف کی التوا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے خصوصی عدالت سے ایک اور موقع فراہم کرنے کی استدعا کی گئی، پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ موکل زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اس قابل نہیں کہ ملک واپس آ سکیں جبکہ ہر تاریخ سماعت پر کیس کے التوا کی استدعا پر شرمندگی ہوتی ہے، ایک موقع اور دیا جائے تاکہ وہ خود عدالت میں پیش ہو سکیں، سابق صدر کا وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے، مشرف وہیل چیئر پر ہیں، وہ چل پھر نہیں سکتے۔

جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت سنگین غداری کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ پرویز مشرف کو ایک موقع اور دیا جائے تاکہ وہ خود عدالت میں پیش ہو سکیں۔ مشرف کے دل کی کیموتھراپی ہو رہی ہے، اس کیموتھراپی کے بعد صحت خراب ہوتی ہے۔ جسٹس طاہرہ صفدر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر حکم جاری کر رکھا ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل نے جواب دیا کہ وہ عدالتی حکم سے آگاہ ہیں۔ انسانی بنیاد پر ایک اور درخواست کر رہے ہیں۔ استغاثہ کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے پرویز مشرف کی صحت کے حوالے سے اپنے دلائل دیے جس پر جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کیا آپ اس ( مشرف ) کی جسمانی صحت کے خلاف بات کر رہے ہیں؟ جسٹس نذر اکبر نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف کی صحت کی تصدیق کرانا چاہتے ہیں۔

استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے۔ عدالت نے پرویز مشرف کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے کرنے کا موقع دیا۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا دیکھنا یہ ہے کہ آج کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست منظور کی جائے یا نہ؟ استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ہم فریق مخالف کے رویے کو اپوز کرتے ہیں۔


ای پیپر