گرفتاری ¿ زرداری
12 جون 2019 2019-06-12

سیانے کہتے ہیں کہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے بلکہ گفتگو کے وقت اگر اپنی آواز انسان خود بھی سن رہا ہو تو وہ پٹڑی سے نہیں اترتا۔ اگلے روز جب نیب والے سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کررہے تو مجھے ان کا حامد میر کو دیا گیا انٹرویو یاد آرہا تھا جس میں موصوف نیب کے سربراہ کا ذکر کرتے ہوئے سخت غصے کے عالم میں آگئے اور نہایت تحقیر سے نیب کے سربراہ کے بارے میں فرمایا : کہ ” کس کی مجال ہے جو مجھ پر کیس بنائے اور مجھے گرفتار کرے“۔ کچھ اسی قسم کا مفہوم ان کی باتوں سے ظاہرتھا ، ایک تکبر ، رعونت ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی یہی نہیں نیب کے سربراہ کا ذکر کرتے ہوئے نفرت اور حقارت کا رنگ صاف دکھائی دیتا تھا۔ آج اسی نیب کے وہ مہمان بن کر جارہے تھے۔ میگا کرپشن کے مقدمات میں وہ مطلوب ہیں اور اگلے روز ان کی ضمانت مسترد ہو گئی تھی، دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی بار انہیں عارضی ضمانت بھی دی گئی تھی۔ عید انہیں گھر پر کرنے دی گئی وگرنہ ان کے ”پیٹی بھرا“ مہمان نواز شریف نے تو پہلی بار عید سلاخوں کے پیچھے گزاری۔ مسلم لیگ نون ہو یا پیپلزپارٹی دونوں ہی کئی بار اقتدار کا لطف اٹھا چکی ہیں اگر یہ پارٹی سربراہان چاہتے تو اس ملک کا یہ حال نہ ہوتا جو اس وقت ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت جاتے جاتے خزانہ ”ڈکار “ گئی صرف اور صرف اس لیے کہ آنے والی حکومت عمران خان کی ہوگی اور وہ اسے کسی طورکامیاب ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ کیوں نہیں دیکھنا چاہتے، صرف اس لیے کہ عمران عام لوگوں کی بات کرتا ہے اور اس ملک کے لوٹنے والوں کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتا۔ ان دنوں عمرانی حکومت سخت مشکلات کا شکار ہے تو اس کے پیچھے سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں ہیں۔ قرض لے کر پارلیمنٹ کے ممبران وزیر مشیراپنے بینک بیلنس اور جائیدادیں بڑھاتے رہے ملک کا کسی نے نہ سوچا۔ ادھر عمران جو اپنی تقاریر میں فلاحی ریاست بنانے کی بات کررہے تھے وہ خالی خزانے کے ساتھ بلکہ ایک کرپٹ نظام کے ساتھ وجود میں نہیں آسکتی۔ آج پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے لوگ کس منہ سے عوام کی تکالیف کا رونا رو رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے دور میں اللوں تللوں کے سوا کچھ نہیں کیا۔ آج آصف زرداری اگر نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں تو یہ مقدمات عمران نے ان پر نہیں بنائے بلکہ یہ مقدمات مسلم لیگ نون نے ان کی کرپشن پر بنائے تھے جس پر عمل درآمد آج ہورہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے یہ مقدمات درج کرائے آج وہی پیپلزپارٹی کی حلیف ہے بلکہ آصف زرداری کی گرفتاری کی مذمت کررہی ہے۔ بات انتہائی سادہ ہے کہ اگر کسی شخص یا جماعت کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے تو اسے احتساب کا سامنا کرنا چاہیے کہ آئین سے کوئی بھی شخص بالا نہیں۔ اگر فوج اپنے افسران کو سزادے سکتی ہے تو سول ادارے بھی اپنے کرپٹ افراد کا احتساب کرسکتے ہیں۔ عدالتیں آزاد ہیں۔ حتیٰ کہ نیب کا سربراہ بھی انہی دونوں سیاسی جماعتوں کا لگایا ہوا ہے۔یوں اگر کسی کا دامن صاف ہے تو وہ عدالتوں میں بتاسکتا ہے۔ جو سوالات عدالت پوچھتی ہے اس کا تسلی بخش جواب دے کر سرخرو ہوا جاسکتا ہے۔

لیکن دونوں سیاسی جماعتوں کی ”لوٹ مار“ کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور ان کے پارٹی لیڈر اپنے آپ کو کلیئر کرانے کے بجائے سڑکوں پر آکر احتجاج کی باتیں کرتے ہیں۔ اب ایسی حکومت کو ہٹانے کے لیے گٹھ جوڑ کی خبریں بھی ہیں جو صرف کرپشن کرنے والوں کا احتساب کررہی ہے۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد کچھ اور لوگ بھی یقیناً کٹہرے میں لائے جائیں گے کم ازکم وہ قوم کو اپنے اثاثوں کا بتادیں کہ اتنی دولت انہوں نے کہاں سے کمائی اور یہ کہ ان کے اپنے ملازمین کے نام کھلوائے گئے اکاﺅنٹ میں سے برآمد کیوں ہورہی ہے۔ آصف زرداری ہوں یا میاں نواز شریف کی پارٹی سب کو احتساب سے گزرنا ہے یہی نہیں ججز ہوں، صحافی، جرنیل یا بیوروکریٹس سب کو اپنا اپنا حساب دینا چاہیے اس میں آخر کیا قباحت ہے؟ اب زرداری اور میاں صاحب ایک درجے پر ہیں دونوں حساب دیں اور سرخرو ہوں تاکہ قوم بے یقینی کی اس صورت حال سے باہر آئے۔ بجٹ کی آمد آمد ہے اپوزیشن کو بجٹ پر توجہ دینی چاہیے لیکن لگتا یہی ہے کہ بجٹ سیشن میں بھی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کی باتیں ہوں گی۔ اس شدید گرمی میں اپنی پارٹی ورکروں کو سڑکوں پر لانا ظلم کے مترادف ہے۔ اول تو عوام، خود بھی سخت گرمی اور مہنگائی سے بیزار ہیں۔ اب سڑکوں پر کون آئے گا ؟ کچھ دن کے لیے ” زرداری سب پر بھاری“ کا نعرہ بھلا دیا جائے گا لیکن عمران خان بھی توکچھ کریں۔ انصاف کا اونٹ کس کروٹ تو بیٹھے۔ عدالتوں کو جلد فیصلے دے کر قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے۔


ای پیپر