” بااعتماد حکومت“
12 جون 2019 2019-06-12

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ’ بااعتماد حکومت‘ نے قومی اسمبلی میں اپنی حکومت کا تیار کردہ ایک اور بجٹ پیش کر دیا ہے، اسے حکومت کا پہلا بجٹ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ موجودہ حکومت اس سے پہلے بھی ایک سے زائد وسط مدتی بجٹ پیش کر چکی ہے مگر اس بجٹ کی اہمیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ صرف ایک روز پہلے حکومت سابق صدر مملکت ،ایک صوبے کی حکمران اور تیسری بڑی پارلیمانی قوت کے سربراہ کو گرفتار کر لیتی ہے اور عین بجٹ کے روز ملک کے سب سے بڑے صوبے کے قائد حزب اختلاف اورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے صاحبزادے کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ ا س کے ساتھ ساتھ لندن میں ایک ایسا شخص بھی گرفتار ہوجاتا ہے جس کے لئے حکومت میں شامل ایک جماعت کی ہمدردیاں ہوسکتی ہیںیا لاتعلقی کے تمام تر اعلانات کے باوجود اس جماعت کو اپنے ووٹروں میں اس گرفتاری کے حوالے سے جواب دینا پڑ سکتا ہے، یقینی طور پر آپ نہ منی لانڈرنگ کی حمایت کر سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے بارے میں دئیے گئے اس شخص کے بیانات کی مگر بات تو حکومت کے ’اعتماد‘ کی ہے۔

جی ہاں، یہ ایک ’ بااعتماد حکومت‘ ہے جوایک طویل عرصے کے بعد قائم ہوئی ہے، میری نظر میں آخری ،ا تنی ہی بااعتماد حکومت شوکت عزیز کی تھی ورنہ میر ظفر اللہ جمالی اور چودھری شجاعت حسین بھی اتنے بااعتماد نہ تھے جتنے اس وقت وزیراعظم عمران خان ہیں ۔ جہاں میں قطعیت کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ ایک بااعتماد حکومت ہے وہاں اس کی آن دی ریکارڈ وضاحت میںا تنا ہی کنفیوژ ڈ ہوں ۔ کیا حکومت خود اتنی پرا عتماد ہے کہ وہ جو چاہے کہہ سکتی ہے، کر سکتی ہے، کیا یہ حکومت کااعتماد کسی اور پر ہے کہ جو چاہے کر لے اسے ’ستے ای خیراں‘ ہیں یا یہ حکومت پرکسی اور کا اعتماد ہے کہ وہ صراط مستقیم سے ہر گز دائیں بائیں نہیں ہوسکتی۔عمران خان اتنے بااعتماد ہیں کہ نہ ان کے ماضی کے دئیے ہوئے بیانات اور اقدامات بھی ان کے اعتماد میں دراڑ ڈال پا ئے اور نہ ہی موجودہ دور کے اقدامات جن کے نتیجے میںا یک طویل عرصے کے بعد ہمیںاپنا دفاعی بجٹ منجمد کرنا پڑا ہے جبکہ دوسری طرف ہمارے بدترین دشمن نے ایک انتہا پسند کو ایک مرتبہ پھر اپنا وزیراعظم بنا لیا ہے اور وہ اپنے جارحیت کے بجٹ میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے۔

جب درجہ حرارت پینتالیس ڈگری کو چھو رہا ہو تو اس میں ہر شے ٹھنڈی اچھی لگتی ہے چاہے وہ سیاست ہی کیوں نہ ہوکہ ٹھنڈے ٹھنڈے کمروں میں گرم گرم بیانات دئیے جا رہے ہوں مگر کیا اس بجٹ اور گرفتاریوں کے بعد قومی اسمبلی بھی اتنی ہی ٹھنڈی رہے گی جب ایک پارٹی کے سربراہ کا باپ اور دوسری پارٹی کے سربراہ کا بیٹا عین بجٹ سے ایک روز پہلے اندر کر دیا گیا ہو۔ یہ بجٹ جناب حفیظ شیخ کا تیار کر دہ ہے، میں نے بجٹ تقریر دیکھی تو مجھے پنجاب کے سابق گورنر جناب میاں محمد اظہر کے صاحبزادے حما د اظہر نظر آئے، یہ بات اچھی ہے کہ پی ٹی آئی نے اس بجٹ کو اپنا چہرہ دے دیا ہے لہٰذا اب وہ اس بجٹ کے اچھے اور برے پہلووں سے دامن نہیں چھڑوا سکیں گے ورنہ حکومتی جماعت کے بہت سارے ذمہ داروں نے ’ آف دی ریکارڈ‘ وہی باتیں کرنا شروع کر دی تھیں جو پارٹی اور حکومت کے سابق ترجمان جناب فواد چودھری ’ آن دی ریکارڈ‘ کرنے لگے ہیں۔یہ آن دی ریکارڈ کی طرح آف دی ریکارڈ باتیں بھلا کب چھپی رہتی ہیں کہ پرویز ررشید سابق دور حکومت میں آن دی ریکارڈ بولنے میں انتہائی محتاط تھے مگر سننے والوں نے ان کی آف دی ریکارڈ باتیں تو ایک طرف رہیں، سوچیں تک سن لی تھیں اور پھر وہی ہوا تھا جوہمارے ہاں اس طرح کے کاموں میں ہوتا ہے۔ جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ جہاں آپ بہت سارے معاملات میں برا نہ دیکھیں، برا نہ سنیں اور برا نہ بولیں، وہاں برا نہ سوچنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

اپوزیشن جماعتیں چاہتی تھیں کہ سرکارخود اپنے ہی بوجھ سے گر جائے اور انہیں کوئی دھکا نہ لگانا پڑے توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ اگراپوزیشن نے دھکا لگایا تو نااہلی ایکسپوز نہیں ہوگی۔ کسی حد تک یہ بات درست ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں میں کم و بیش نصف کو ابھی تک عمران خان صاحب سے امیدیں ہیں اور وہ ذہنی طور پر اس حد تک تیار کر دئیے گئے ہیں کہ اگر پٹرول دو سو روپے لٹر بھی ہوجاتا ہے اوراس کے ساتھ نواز شریف او ر آصف زرداری کو کڑی سزا دی جاتی ہے تو وہ سمجھیں گے کہ ان کے سیاسی شعور اور حمایت کا حق ادا ہو گیا، وہ جناب عمران خان پر اندھا یقین رکھتے ہیں اور ان کی کہی ہوئی کسی بھی بات کو غلط سمجھنے کے لئے تیار نہیں، یہی سپورٹرز عمران خان کی دوسری بڑی طاقت ہیں۔ وہ عمرا ن خان کے اعداد و شمار پر یقین رکھتے ہیں چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں جیسے انہوں نے بجٹ سے ایک روز پہلے کہا کہ دس برس پہلے پاکستان کے کل قرضے چھ ہزار ارب تھے جو دس برسوں میں بڑھ کے تیس ہزار ارب ہو گئے اور یہی فگرزفیڈرل منسٹر ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک ہزار کے اضافے کے ساتھ بیان کئے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا تیس جون 2018 کو کل قرض24 ہزار952 تھا اور دس برسوں میں پاکستان کے قرضوں میں عملی طور پر سترہ ہزار ار ب کا اضافہ ہوا، ان میں سے آٹھ ارب کا اضافہ پیپلزپارٹی اور نو ارب کا اضافہ مسلم لیگ نون کے دور میں ہوا، مسلم لیگ نون کے دور میں اسی قرض سے موٹرویز کاجال بچھا اور انفراسٹرکچر بنا، اسی دور میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور اسی دور میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کاخاتمہ ہوااور ٹیکس کلیکشن میں بھی دو ہزار ارب کا اضافہ ہوا۔ کیا دلچسپ صورتحال ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں جتنا قرض لیا گیا، تحریک انصاف کی ناتجربہ کار حکومت نے صرف ڈالر کی قیمت اور شرح سود میں اضافے سے ملکی معیشت پر اس سے زیادہ بوجھ ڈال دیا یعنی نہ کھایا نہ پیا اور گلاس توڑا بار ہ آنے۔

حکومت نے درآمدات پر اتنی پابندیاں لگائیں کہ مڈل کلاس کی زندگی اجیرن ہو گئی جو ساڑھے چھ سو سی سی کی امپورٹڈ گاڑی خرید کر خود کو امیر، امیر محسوس کر رہا تھے مگر گزشتہ روز علم ہوا ہر قسم کی امپورٹس پر پابندی لگانے اور صرف گاڑیوں کی امپورٹس پر ایک سو ارب کے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کانقصان کرنے کے بعد حکومت صرف چار سو ارب کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں کامیاب ہوئی اور ابھی اس میں سمگلنگ کے ذریعے ہونے والے نقصانات شامل نہیں ہیں، بہرحال، یہ ایک بااعتماد حکومت ہے جسے بجٹ سے پہلے اہم ترین سیاسی رہنماوں کی گرفتاریوں کے ردعمل سے ہی کوئی خوف نہیں بلکہ اربوں روپوں کے نئے ٹیکس عائد کرنے اوراس سے بھی کہیں زیادہ کی سب سڈیز واپس لینے پر عوامی ردعمل کا کوئی ڈر نہیں۔مجھے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حامیوں کی طرف سے واہ، واہ کے ڈونگرے برسانوں والوں کی فہم و فراست پر تبصرہ نہیں کرنا مگر اتنا ضرور کہنا ہے کہ حکومت نے ایک ساتھ دو اونچی دیواریں عبور کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت خودکو ہرن سمجھتے ہوئے بااعتماد ہے کہ وہ اونچی چھلانگیں لگا سکتی ہے ،مگر سیاست ہو یا معیشت، مجھے آنے والے دن ا چھے نہیں لگ رہے، ہاں، ابھی جسٹس فائز عیسی کیس پر وکلا کا ردعمل الگ ہے۔


ای پیپر