نگران حکمران!
12 جون 2018

نگران حکمرانوں پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے نہ ہونے پر یوں محسوس ہو رہا تھا اِس بار الیکشن نگران حکومتوں کے بغیر ہی ہو جائیں گے۔ویسے جِس طرح کے نگران حکمران مقرر کئے گئے ہیں اُس سے بھی یہی لگتا ہے الیکشن نگران حکمرانوں کے بغیر بھی ہو جائیں گے۔ میں حیران ہوں نگران حکمرانوں کے طور پر ہمیشہ ” بوڑھے طوطوں“ کا انتخاب ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ جو خود صحیح طرح نہیں چل سکتے اُنہیں ملک چلانے کی ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں۔ اور وہ بے چارے بھی یہ سوچ کر یہ ذمہ داریاں قبول کر لیتے ہیں کہ فارغ بھی رہنا ہے تو کیوں نہ نگران وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ بن کر فارغ رہ لیا جائے۔ نگران دور میں اصل حکمرانی ہمیشہ وہی قوتیں کرتی ہیں جو سمجھتی ہیں وہ کِسی کو دِکھائی نہیں دے رہیں حالانکہ یہ اُن کی ایسی غلط فہمی ہے جِس کا خود بھی اُنہیں اندازہ ہوتا ہے۔ البتہ اکثر نگران وزیر اعظم یاوزرائے اعلیٰ وغیرہ خود کو اِس حوالے سے ضرورخوش قسمت تصور کر سکتے ہیں کہ چار دِن چار لوگ اُن کے آگے پیچھے پھرتے ہیں، اِس کے علاوہ تھوڑا بہت پروٹو کول وغیرہ اُنہیں مِل جاتا ہے۔ یا تاریخ میں نگران وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے طور پر اُن کا نام وغیرہ لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے ہمارے ہاں لوگوں کو آج کی تاریخ یاد نہیں رہتی برسوں پرانی تاریخ کیسے یاد رہ سکتی ہے؟۔ اِس ملک میں سب سے بے وقعت چیز اگر کوئی ہے وہ ” تاریخ“ ہے۔ البتہ عدالتوں کی جانب سے دی گئی تاریخ پہ تاریخ سے کچھ لوگ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کچھ کو اِس کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ ہمارے محترم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار خود کو واقعی تاریخ میں تھوڑا بہت زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو عدلیہ کے روایتی تاریخ پہ تاریخ کے کلچر پر اُنہیں گہری زد لگانا پڑے گی۔ اصل کام لوگوں کو فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔ فنکاریاں تو سیاستدان بھی بہت دِکھاتے ہیں جِن کا ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا.... نگران حکمرانوں کے حوالے سے لکھے گئے اپنے گذشتہ کالم میں بھی میں نے عرض کیا تھا” جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے نگران وزیر اعظم یا وزرائے اعلیٰ کے طور پر وہ کسی سیاسی شخصیت کا انتخاب کرنے کے بجائے ریٹائرڈ ججز یا ٹیکنوکریٹس وغیرہ کو ہی اہمیت یا ترجیح دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے سیاستدان اپنی برادری میں کِسی کو اِس قابل ہی نہیں سمجھتے اُسے بطور نگران وزیر اعظم یا وزیر اعلی نامزد کر دیں۔ ممکن ہے اُن کا یہ خیال ہوتا ہو سیاست میں چونکہ اُنہی کی طرح کے دھوکے باز ہوتے ہیں لہٰذا ہوسکتا ہے جس سیاسی شخصیت کو وہ اپنا سمجھ کر نگران وزیر اعظم یا نگران وزیر اعلیٰ نامزد کریں بعد میں وہ کِسی اور کا نکل آئے۔ جیسے کئی بار ہمارے کچھ حکمران سیاستدان اپنے آرمی چیف ، چیف جسٹس آف پاکستان یا چیئرمین نیب وغیرہ کی تقرریاں اُنہیں اپنا خاص آدمی سمجھ کر کرتے ہیں بعد میں وہ کِسی اور کے ” خاص آدمی“ نکل آتا ہے۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ جِسے اپنا خاص آدمی سمجھ کر بطور وزیر اعظم اُوپر لے کر آتی ہے بعد میں وہ کسی اور کا ” خاص آدمی“ نکل آتا ہے۔ اِس ملک کا المیہ یہ ہے یہاں ہر کوئی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے اِس ملک میں سب سے زیادہ طاقتور وہی ہے یا اِس ملک کا مالک صرف وہی ہے۔ اِن حالات میں کچھ ادارے یا شخصیات ضرور طاقتور ثابت ہو جاتی ہیں مگر ملک جِن کمزوریوں سے دو چار ہوتا جا رہا ہے اُس کا کِسی کو احساس ہی نہیں ہے.... بہر حال نگران وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے گزشتہ ہفتے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے۔ کیا کام شروع کر دیا ہے؟ شاید اُنہیں خود بھی معلوم نہیں۔ ویسے وہ اگر واقعی اِس ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کچھ نہ کریں۔ البتہ نگران وزیر اعظم بن کر اپنے آبائی علاقے میں جانا اور اپنے مرحوم بزرگوں کی قبروں پر حاضری وغیرہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اِسی بہانے اُن کے مرحوم بزرگوں کی قبروں کو اُن کے دیدار کا موقع مل جائے گا۔ ایک اور بات اُن کے لئے بڑی اہم ہے جِس ” قوم “ کا اُنہیں نگران وزیر اعظم مقرر کیا گیا ہے وہ بھی تقریباً ” مرحوم “ ہی ہے۔ جس کا ثبوت 25 جولائی 2018 کو ہونے والے الیکشن میں ایک بار پھر وہ دینے والی ہے۔ فی الحال تو یہ بھی پورے وثوق سے نہیں کہا جاسکتا الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے۔ گو کہ چیف جسٹس آف پاکستان اِس حوالے سے بڑے پُر عزم دِکھائی دیتے ہیں مگر کچھ ” متوقع مسائل “ کی وجہ سے اُن کے عزم میں خلل بھی آسکتا ہے۔ نگران وزیر اعظم نے فرمایا ہے 25جولائی کو الیکشن نہ کرواسکا تو گھر چلا جاﺅں گا۔ میرے خیال میں یہ بات اُنہوں نے ایسے ہی کہہ دی ہے۔ گھر تو وہ روز جاتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے اپنی اہلیت کے مطابق وہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ماہ تک ہی وزیر اعظم رہ سکتے ہیں۔ کیونکہ ڈیڑھ دو ماہ تک کچھ سمجھ میں نہیں آتا.... نگران حکمرانوں کی بے اختیاریوں پر مجھے بے اختیار اپنے ایک مرحوم نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد یاد آگئے۔ اُن کا شمار پاکستان کے اُن چند سیاستدانوں میں ہوتا تھا جو بے شمار اہم عہدوں پر تعینات رہے مگر کرپشن یا اِس قسم کی دوسری لعنتوں کا ایک داغ بھی اُن کے دامن پر نہیں تھا۔ اُن میں زیادہ سے زیادہ خراب عادت یہ تھی وہ سگریٹ بہت پیتے تھے۔ ایک بار میں نے سگریٹ کے نقصانات پر اُنہیں لمبا چوڑا لیکچر دیا۔ میری باتیں وہ غور سے سنتے رہے۔ کچھ دیر بعد میں نے اُن سے پوچھا ” ملک صاحب آپ پچاسی برسوں کے ہوگئے ہیں۔ آپ کی اتنی اچھی صحت کا راز کیا ہے؟۔ وہ بولے ” سگریٹ“ .... لوگ اپنے جائز ناجائز کاموں کے لئے اُن سے سفارش یا گذارش کرتے وہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ” میرے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہے“.... بطور نگران وزیر اعظم لوگ جب اُن سے کہتے ” فلاں محکمے میں میرا فلاں کام کروا دیں‘ وہ سوچ میں پڑ جاتے کہ اُس محکمے میں اُن کا واقف کون ہے؟“.... ایک بار میں اور لالہ اجمل نیازی اُن کے پاس بیٹھے تھے۔ ایک صاحب اُن کے پاس آئے اور کہنے لگے ” میرا ایک کام بہت عرصے سے واپڈا میں رکا ہوا ہے۔ آپ اگر کروا دیں میں آپ کا بہت ممنون ہوں گا “.... نگران وزیر اعظم اُن کی بات سُن کر پہلے تو حسبِ معمول گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر اشارے سے اپنے پرانے خدمت گزار بابے اقبال کو پاس بلایا اور اُس سے کہنے لگے ” میری ذرا علاقے کے لائن مین رفیق سے بات کرواﺅ ” وہ صاحب بولے“ وزیر اعظم صاحب میرا کام علاقے کے لائن مین نے نہیں چیئرمین واپڈا نے کرنا ہے “۔ اِس پر وہ فرمانے لگے ” چیئرمین واپڈا کون ہے ؟ میرا تو وہ واقف نہیں ہے“.... وہ وفاقی وزیر قانون ، وزیر اعلیٰ پنجاب، سپیکر قومی اسمبلی اور پھر نگران وزیر اعظم بنے۔ اِن تمام حیثیتوں میں وہ ہال روڈ لاہور کے لکشمی مینشن میں تین مرلے کے گھر میں رہے۔ اُن کی بیگم اور خود وہ بھی ویگنوں اور بسوں میں سفر کرتے تھے۔ ایک بار ایک قلم کار نے مجھ سے کہا ” آپ اُن کی سادگی کا اپنے کالموں میں اتنا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اُن کی سادگی کا ملک و قوم کو کیا فائدہ ہوا؟ “ میں نے عرض کیا ” اُن کی سادگی کا ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا۔ ” ورنہ کتنے لوگ ہیں جو اتنے اہم عہدوں پر رہے ہوں اور ملک کا کوئی نہ کوئی نقصان انہوں نے نہ کیا ہو؟ .... موجودہ نگران وزیر اعظم سے بھی ہم یہی توقع کرتے ہیں وہ ملک کا کوئی فائدہ نہ کر سکے تو نقصان بھی نہیں کریں گے!


ای پیپر