اللہ کرے ہم سب کے بارہ بج جائیں!
12 جون 2018 2018-06-12

واہگرو جی کا خالصہ واہگرو جی کی فتح
اسلام و علیکم! میرا نام سردار گوپال سنگھ چاولہ ہے، پاکستان میں گردوارہ پر بندکمیٹی کا جنرل سیکرٹری ہوں اور پنجابی سکھ سنگت کا چیئرمین ہوں آج ایک سکھ رہنما کی حیثیت سے اپنے پاکستانی بہنوں بھائیوں سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں، مجھے عام طور پر بھارت کی مخالفت کی وجہ سے جانا جاتا ہے لیکن میں سب کچھ پاکستان کی محبت میں کرتا ہوں اور صرف حق اور سچ کا ساتھ دیتا ہوں، گردوارہ جنم استھان میں کھڑا ہو کر قسم کھاتا ہوں کہ آج جو بات کرنا چاہتا ہوں وہ صرف اور صرف پاکستان کی محبت میں کر رہا ہوں کہ پاکستان کی معیشت کا دارو مدار زراعت پر ہے لیکن ہم خشک سالی کے شکار ممالک میں پہلے تین نمبروں میں موجود ہیں ہمارے دشمن کی سازش یہ ہے کہ2025ءتک پاکستان کے دریا اور نہریں مکمل خشک کر دیئے جائیں گے اور اس کی ابتداءکر دی گئی ہے۔ میں ہاتھ جوڑ کر اپنے ہم وطن تمام پاکستانیوں سے بنتی کرتا ہوں کہ ووٹ اس جماعت کو دینا جو ڈیم بنائے پانی کے ذخیرے بنائے، اپنی بہنوں کو اپنی ماﺅں کو، بیٹوں اور بھائیوں کو جھولی پھیلا کر ریکوئسٹ کرتا ہوں کہ سچ کا ساتھ دو اور ووٹ اس کو دو جو ہمیں ڈیم بنا کر دے، سڑکیں، موٹرویز اور دیگر منصوبے ہوتے رہیں گے، ذات برادری اور مسلک کو بھول کر صرف پاکستان کے لیے سوچ کر ووٹ کا فیصلہ کریں، واہگرو جی کا خالصہ، واہگرو جی کی فتح اسلام علیکم
قارئین! یہ ایک ویڈیو پیغام ہے جو مجھے گزشتہ روز موصول ہوا ایک خوبصورت کڑیل پنجابی جوان پاکستان کے لیے ہاتھ جوڑ کر اور جھولی پھیلا کر ہم سے پاکستان کے نام پر کچھ مانگ رہا ہے۔ ویسے تو ہمارے ہاں زیادہ تر سکھوں کے لطیفے ہی مشہور کئے جاتے ہیں لیکن یہ ویڈیو پیغام دیکھ کر میرا دل چاہا کہ ماسٹر تاراسنگھ کو بھول جاﺅں اور صرف اس خوبصورت دل رکھنے والے ”سردار“ کو دیکھتا رہوں۔ جس کو پانی کی اہمیت کا پتہ ہے جس کو پاکستان سے محبت ہے اور جس کے لہجے سے یہ محبت چھلک رہی ہے۔ ایک طرف یہ محبت کا زمزم بہہ رہا ہے تو دوسری جانب ڈیم مخالف وطن دشمن لابیز بھی حرکت میں آ چکی ہیں اسفند یار ولی فرماتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا، کبھی کہتے ہیں کوئی مائی کا لعل ڈیم نہیں بنا سکتا، پھر میں نے ان کو کہتے سنا کہ ہم نے ڈیم کو ایسے دفن کیا کہ جیسے انہوں نے جناح کو کیا ہو گا۔ اسفند یار ولی صاحب لبرل ازم کے پردے میں چھپی وطن اور جناح دشمنی باہر آ ہی جاتی ہے کب تک آپ پختونوں کو گمراہ کرو گے؟
سرحدی گاندھی کہلائے جانے والے خاندان کے لیے بھارت اور افغانستان ہی سب کچھ ہے تو یہ سیاست بھی وہاں جا کر کیوں نہیں کرتے؟
جب پاکستان اور اہل پاکستان سے آپ کو اتنی نفرت ہے تو صرف آپ کی خاطر بیس کروڑ کلمہ گو مسلمان جن میں پٹھان بھی شامل ہیں ان کو خشک سالی اور قحط کے حوالے صرف اس لیے کر دیں کہ آپ کے بزرگوں نے ستر، اسی سال پہلے سے دشمنوں سے ساز باز کر کے رقوم اور مراعات لینا شروع کر دی تھیں!
ایک اور صاحب ہیں جو بلوچ کارڈ کے نام پر وزارتیں اور مراعات ”اچکتے“ ہیں، آخر کیا قیمت ہوتی ہے کسی کاز کی، کسی مقصد کی، کسی شخص کی، روپیہ پیسہ، وزارتیں، زمینیں ، جائیدادیں، فیکٹریاں، ملیں، فلیٹ، پیلس، انسانی حرص کا پیٹ نہیں بھرتا نہ دنیا کا مہنگا ترین کپڑا اور ڈیزائنر اس کا تن ڈھانپ سکتا ہے لیکن یہ غلط فہمی بھی آخر ایک روز دور ہو جاتی ہے جب صرف دو گز زمین اور چند گز لٹھا آپ کا سب کچھ قرار پاتا ہے ایسے میں قبر کی مٹی آپ کے ساتھ آپ کی حرص کو بھی ختم کر دیتی ہے۔
یہ قوم پرستی کی آڑ میں ایک دوسرے کی مخالفت کے نام پر سیاست کرنے والے یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیاست کو کاروبار بنایا اور اس کاروبار میں اپنے ذاتی مفادکو ملکی مفاد سے بالاتر رکھا، شیعہ، سنی کے نام پر بھائی کو بھائی سے لڑایا، پھر فوج اور پنجاب کو بدنام کرنے کے لیے اپنی عقل اور ذہانت کا عیاری سے استعمال کیا، بلوچستان میں کلبھوشن دندناتا رہا جبکہ ہزارہ برادری اپنے ملک میں راندہ درگاہ قرار پائی، حالات کی سنگینی تو دیکھئے ملک آگے بڑھ رہا تھا اوراس سب کے باوجود شیعہ ، بریلوی، دیوبندی کی نظریاتی سختی دلوں پر حاوی نہیں ہوئی تھی ، سب صحابہ کرام اور ان کے ناموس پر یکساں ایمان رکھنے والے ” دم درود والے“ مسلمان اکثریت میں تھے ان کو بھی ”بم بارود“ والے کام پر لگا دیا گیا ہے۔ بات شروع ہوئی تھی کہ سردار گوپال سنگھ چاولہ کس طرح سے معاملات کو دیکھتا اور میرے یہ مہربان پاکستان کے بارے میں کس طرح سوچتے اور محسوس کرتے ہیں۔ گوپال سنگھ چاولہ اگر سکھ ہے تو مجھے ان نام نہاد مسلمانوں سے زیادہ پسند ہے کہ منافق نہیں ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر اس کے جذبات سارے پاکستانیوں کے دل میں پیدا ہو جائیں تو پاکستان زمین پر جنت بن جائے۔ اللہ کرے ہم سب کے بارہ بج جائیں اور ہم سب کالے یا سفید باغ کے نام پر لڑنے کے بجائے، سبز باغوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے پاکستان کے پیچھے لگ جائیں !


ای پیپر