اداروں کی آزادی کیلئے آخری دم تک لڑتا رہوں گا:بلاول بھٹو
12 جولائی 2019 (23:20) 2019-07-12

سکھر:پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاق صوبوں کا معاشی قتل کررہاہے اور سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اداروں کی آزادی تک آخری دم تک لڑتا رہوں گا،کارکنان سخت گرمی کے باوجودکٹھ پتلی حکومت اور وفاقی بجٹ کا مقابل کرنے کے لئے پرجوش ہیں ۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پہلے صوبے میں دل کا علاج مفت ہوتا تھالیکن اب سندھ حکومت کی کاوشوں سے ہر ضلع میں دل کے مریضوں کا علاج مفت ہورہا ہے سرجری اور بائی پاس مہنگے علاج تھے جو 100 فیصد مفت ہورے ہیں اس کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے اسپتال بھی چلارہے ہیں جہاں انفرااسٹرکچر کا خاص خیال رکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایس آئی یو ٹی کومضبوط کیا ہے اور اس کو پورے صوبے میں پھیلارہے ہیں جس سے براہ راست عوام مستفید ہونگے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت ڈاکٹرز اور نرسوں کی اشد ضرورت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ان ڈاکٹرز اور نرسوں کو سندھ صوبے سے لیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں اور نوجوانوں کو روزگار مل سکے بڑے تعلیمی ادارے اس لیے بنارہے ہیں کہ غریب نوجوان پڑھ لکھ کر اپنا بہترروزگار حاصل کرسکیں ہمیں پتا ہے کہ وفاق صوبوں کا معاشی قتل عام کررہا ہے پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی طرح سندھ پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے سندھ کو 116 ارب روپے نہیںملے جس کا اثر بجٹ اور معیشت پر پڑا ہے جو حشر وفاق نے سندھ میں معیشت کے ساتھ کیا ہے اس کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہورہے ہیں اس کے باوجود پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کم خرچ اورمحنت کےساتھ تمام منصوبے مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بھرپور فوائد حاصل ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اداروں کی آزادی کے لیے آخرسانس تک لڑتا رہوں گا ہم چاہتے ہیں کہ ادارے آزادی کے ساتھ فیصلے سنائیں نہ کہ کسی کے دباﺅ میں آکر۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک نظریاتی پارٹی ہے ہمیشہ سے مظلوموں ککے ساتھ رہی ہے اوران کی ہی پارٹی ہے جبکہ اکثریت اور اقلیت کا فرق نہیں کیا تمام کو برابری کی حیثیت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ جس نے کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی کی ہے جس پر پولیس بھی سختی سے عمل درآمد کررہی ہے اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی ۔

اس سے قبل رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غلام محمد مہر میڈیکل کالج پر 5 بلین کی لاگت سے کام جاری ہے جبکہ 2.8 بلن روپے خرچ ہوچکے ہیں اور ایک سال کے اندر اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ مکمل ہوجائے گا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے انہوں نے بتایا کہ چار سال قبل سول اسپتال کا بجٹ 6 کروڑ روپے تھا جو سندھ حکومت نے بڑھا کر 21 کروڑ روپے کردیا ہے جہاں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین بلا معاوضہ کیا جاتا ہے جو پیپلزپارٹی کی عوام خدمت کی اعلیٰ مثال ہے۔


ای پیپر