تماشا دیکھ
12 جولائی 2019 2019-07-12

مداری نے اپنا جھولا کندھے سے اتار کر نیچے رکھا ۔ دیوار سے ٹیک لگائی اور پاؤں پسار کر بیٹھ گیا ۔گرمی سے ہلکان ، پسینے سے شرابور بچے جمورے نے بھی استاد کو سائے میں بیٹھتے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا ۔ تھوڑی دیر بعد دھونکنی کی طرح چلتاسانس اپنی رفتار پر آیاتو بچے جمورے نے ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا۔ استاد !کتنے ہی دن ہوگئے ، تم بس اٹھتے ، بیٹھتے ، چلتے پھرتے لوگوں کے چہرے تکتے رہتے ہو۔کبھی ہنس دیتے ہوکبھی سرجھٹک دیتے ہو۔ کتنے ہی دن گزرگئے آخر کب تماشا دکھاؤگے ؟ بہت بھوک لگ رہی ہے کچھ کرونہ استاد۔ دیوار سے ٹیک لگائے،خلا میں گھورتے، تھکے ہوئے چہرے پرخشک ہوتے ہونٹوں سے بے زاری سے آواز آئی ۔ بھوک کا کیا ہے ؟ کسی بھی دسترخوان پرچلے جاؤ۔ بھوک کے ماروں نے اپنی بھوک مٹانے کے بعد تیرے میرے جیسے بھوکوں کے لیے بھی دکانیں کھول دی ہیں ۔ چل جا ۔ صرف غربت ہی مسئلہ نہیں ، امارت بھی ایک امتحان ہے ۔ غریبوں کی جائیدادیں ہڑپ کرنے والے ، فائلوں کو پہیے لگانے والے ، نقل مار کے پاس ہونے والے بھی اب عزت چاہتے ہیں ۔ آخ تھو ۔

بچہ جمورا کچھ دیر چپ چاپ استاد کو تکتا رہاپھر دل میں کوئی ارادہ باندھا ، اٹھا اور استاد کے قدموں میں پڑے جھولے میںہاتھ ڈال کر اس میں سے چیزیں نکال کر باہرترتیب سے رکھنے لگا۔ مداری نے خالی نظروں سے اسے دیکھا اور کچھ نہ بولا ۔ بچے جمورے نے ایک دائرہ کھینچا اور میلی سی چادر زمین پر بچھادی ۔ تماشے کے لیے تیاری مکمل ہوچکی تھی ۔ بچہ جمورا تماشائی اکھٹے کرنے کے لیے آواز یں لگانے لگا ۔ ساتھ ہی ساتھ کن انکھیوں سے وہ استاد کو بھی دیکھ لیتا تھا ۔ مداری کے ہونٹ بھنچ گئے ۔وہ جانتا تھا ، بچہ جمہورا کمائے گا تو کھائے گا ، کسی دسترخوان پر نہیں جائے گا۔ بھیک مانگتے اس یتیم بچے کو اپنے آغوش میں لیتے ہوئے یہ سبق خوداسی نے توپڑھائے تھے ۔ اپنے جیسوں سے بھیک مانگنا چھوڑ دے، روٹی کے نام پرہستی کھودے گا، پستی مل جائے گی ۔چل دعا مانگنا چھوڑ ، خود دعا بن جا۔ میرے ساتھ آ، تجھے نگر نگر کی سیرکرادوں ، پہاڑوں ، صحراؤں ، وادیوں ، بستیوں کابنجارہ بنادوں ۔ بچے کوایک بھی بات سمجھ نہ آئی لیکن برسوں بعد کسی نے پیار سے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا ۔ اس نے اپنا پھیلایا ہوا ہاتھ جھٹک کر نیچے کیا۔ زمین پرپڑے بھیک میں ملے پیسوں کو ایک نظر دیکھااور چپ چاپ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چل پڑا ۔

تب اس کا استاد مداری نہیں تھا۔ وہ خود کو بنجارہ بتاتالیکن اس کا قبیلہ کہاں تھا ، کب چھوڑا ، کبھی نہ بتایا ۔ ہاں !وہ اسے لوگوں کے چہرے دیکھ کر بتادیتا ۔ اس بستی پر رحمان کا سایہ ہے یا شیطان کا ۔ پیسے چاہیے ہوتے تو کہیں مزدوری کرلیتا ۔ طے شدہ مزدوری مل جاتی تویہ کہتے ہوئے کچھ پیسوں سے کسی کو کھانا کھلادیتا ۔تونے مجھے دیا میں نے تیرے بندے کو ۔حساب برابر۔ کم مزدوری ملتی تو آسمان کو تک کر ہنس دیتا ۔ تیرے بندے کا حصہ تو پہلے ہی کاٹ لیا گیا اب تو جان اور تیرا یہ ساہوکار ۔ سالہا سال گزرگئے ۔ اچانک ایک دن اس نے جھولا اٹھالیااور مداری بن گیا ۔پوچھا خود تو مداری بن گیا اور اب میں کون ؟جواب ملا ۔ بچہ جمورا ۔بس پھر وہ جہاں ہجوم دیکھتا ۔ تماشا شروع ہوجاتا۔ بات کرنے کا فن تو اسے آتا ہی تھا ، اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے مجمع لگ جاتا ۔ عجیب بات یہ تھی ۔ وہ ہنستے ہنستے انتہائی سفاکی سے تماش بینوں کو ہی نشانہ بناتا ۔ بچے جمورے کوہربار لگتا،اب کی بار تو استاد پٹے گا لیکن تماشائی ہنستے ہنستے دہرے ہوجاتے ۔ایک دن استاد نے بتایا ۔ جب بے ایمانی کو ایمان مان لیا جائے تو انسان بے حس ہوجاتا ہے ۔ تب کتنا ہی آئینہ دکھاؤ ۔ اسے اپنا آپ نظر نہیں آتا،صرف دوسروں کے ہی کرتوت نظرآتے ہیں۔پیٹھ پیچھے برائی کرتے ، سامنے آنے پر گلے لگاتے یہ پارسا بنے منافق اب خود سے بھی منافقت کرنے لگے ہیں ۔ اپنی اپنی خواہشوں کے مارے بت پرست ہیں یہ سارے اور بت شکن بنے پھرتے ہیں ۔ اصل میں ضرورت مند ، دکھانے کو غیرت مند ۔ مداری ویسے تو چپ رہتا تھا ۔ لاپروا ، انجان ،کم آمیز، مردم بیزار لیکن جب بولنے پر آتا توخاموشی پناہ مانگنے لگتی ۔ یہ سچائی ہے یا تلخی ۔بچہ جمہورا سوچتا رہ جاتا۔

آج کتنے ہی دن ہوگئے مداری بستی بستی چکر کاٹ رہا تھا لیکن کہیں رکتا نہیں تھا ۔ وہ کہتا تھا۔ یہ بستیاں نہیں قبرستان ہیں ۔ یہ چلتے پھرتے مردے ہیں جو اپنے وقت پر قبر وں میں جالیٹیں گے ۔ ان کے ہاتھ تو دیکھو!ناخنوں سے لہو ٹپک رہا ہے ۔ان کی زبانیں دیکھو جنہیں لاف زنی ،عیب جوئی اور ناشکری نے سیاہ کردیا ہے ۔ اعتبار ، اعتماد ، خلوص ، احساس کی نعمتیں کسی بستی سے اٹھ جائیں تو وہاں کتنا ہی ہجوم ہو، وہ کبھی قوم نہیں بن پاتا ۔جو مقام شکر کو نہیں پالیتا وہ مقام صبرپر کیسے ٹھہرسکتا ہے؟ بچے جمورے کو اب استاد کی یہ بہکی بہکی باتیں کچھ کچھ سمجھ آنے لگی تھیں ۔ اس کے چہرے پر کرب پھیلتا دیکھ کر مداری بے چین ہوکر کہتا ۔ بچے ، سچ کی بھٹی میں جھلس کر میں تو غارت ہوا ، تیرا بھی ستیاناس کردیا ۔ جا، کہیں اور چلاجا۔ پوچھا ، کہاں جاؤں ؟جا انسانوں کے اس جنگل میں گم ہوجا ۔ جھوٹ بول ، مکروفریب کر ،سیاہ کار ہوجا ۔جھوٹے خواب بیچ ۔ لوگوں کو لوٹ پھر لوٹ کے مال سے چند روپے لوگوں پر لگا ۔ دھن وان بن جا ۔ دیکھنا ، یہ تجھے تخت پر بٹھائیں گے یہ تجھے تاج پہنائیں گے ۔ یہ ایسے ہی ظالم لوگ ہیں ۔ دھوکے باز کو سر پہ بٹھاتے ہیں اور سچے کو دار پہ ۔ جھوٹ کو سچ مانتے ہیںاورسچ کو جھوٹ ۔ اپنا اپنا سچ ہے سب کا۔کوئی سنے نہ سنے یہ بولے جاتے ہیں ۔جھوٹے ، پھٹکار مارے لوگ ۔ بچہ جمورا گھبرا کر استاد کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتا کسی نے سن لیا تو۔میرا تیرے سوا اور ہے کون ؟اس سوال پر مداری شہادت کی انگلی اوپر اٹھادیتا۔ استاد کے بار بار کہنے کے باوجود وہ اسے چھوڑ کر نہیں گیاکیونکہ اب اس کے باطن کی آنکھ بھی کھلتی جارہی تھی ۔

استاد کا سچ اس پر آشکار ہونے لگا۔ سچ کیوںکڑوا ہوتا ہے ؟ اسے سمجھ آرہی تھی ۔ بغیر پوچھے ہی وہ جانتا تھا ، اب استاد تماشا کیوں نہیں دکھا رہا ۔جب بستی کی بستی مداری بن جائے ۔ ہر کوئی دوسرے کو بچہ جمہورا سمجھ لے اور اپنی اپنی وال پر تماشا دکھانے لگے ۔ ایسے میں مداری چاہے بھی تو تماشا کیسے دکھائے ؟ بچہ جمہورے کو جیسی ہی بات سمجھ آئی اس نے زمین پر بچھائی چادر تہہ کرکے دوبارہ جھولے میں ڈال لی ۔ مداری نے لمحہ بھر کو اسے دیکھا، تلخی سے مسکرایا اور آتے جاتے چہرے تکنے لگا۔ مداری خود تماشائی بن گیا۔


ای پیپر