فیصل آباد۔ انڈسٹری ڈوب رہی ہے
12 جولائی 2019 2019-07-12

اکتوبر 2011 ء میں مینار پاکستان والے تاریخی جلسے میں پاکستان تحریک انصاف پہلی بار ایک قومی جماعت بن کر اُبھری ۔ 2011 ء سے لے کر اب تک لاہور کے بعد پی ٹی آئی نے پاکستان کے جس شہر میں سب سے زیادہ جلسے کیے وہ فیصل آباد ہے ۔ اس کی دو وجوہات تھیں پہلی وجہ یہ تھی کہ فیصل آباد پاکستان مسلم لیگ ن کا گڑھ تھا خصوصاً اربن ایریا میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا کارپوریٹ طبقہ میاں نواز شریف کے ساتھ تھا دوسری وجہ یہ تھی کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل پروڈکشن میں پاکستان کا سب سے بڑا شہر تھا ۔ پاکستان کی سالانہ ایکسپورٹ میں سب سے زیادہ حصہ کپڑے کا ہے اور کپڑا سازی کے بڑے بڑے نام نواز شریف کے حامی تھے۔ کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ سے عمران خان نے یہ سیکھا تھا کہ کامیابی کے لیے دولت مند طبقے میں اثرو رسوخ ناگزیر ہے اس لیے فیصل آباد شروع دن سے ہی عمران خان کے دل میں کاٹنے کی طرح کھٹکتا تھا۔ 2011 ء سے 2013 ء کے الیکشن تک عمران خان اور ان کی جماعت نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر 2013 ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی وہاں سے ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی اور ن لیگ نے ایک دفعہ پھر وہاں سے کلین سویپ کیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ فیصل آباد کی لوکل سیاست میں ن لیگ کے دو دھڑے چوہدری شیر علی اور رانا ثناء اللہ ایک دوسرے کے کٹر مخالف تھے مگر اس کے با وجود وہ جیت جاتے تھے۔ 2018 ء کے الیکشن میں سب سے زیادہ حیران کن نتائج فیصل آباد سے آئے جہاں اربن ایریا سے ن لیگ کا مکمل صفایا ہو گیا اور شہری حلقوں کی آٹھ نشستیں پی ٹی آئی کو مل گئی صرف رانا ثناء اللہ اپنی قومی اسمبلی کی ایک سیٹ جیت سکے جبکہ صوبائی سیٹ سے ہار گئے۔ فیصل آباد پر قبضے کی جنگ عمران خان جیت چکے تھے۔

گزشتہ سال سے اب تک سیاسی معاملات سے قطع نظر صورت حال یہ ہے کہ شہر میں کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے ۔ ٹیکسٹائل پروڈکشن تقریباً بند ہے ۔ 17 فیصد سیلز ٹیکس اور شناختی کارڈ کی شرط کے خلاف روزانہ ہڑتالیں ہوتی ہیں۔ جن 8 بازاروں میں پی ٹی آئی کے پرچموں اور بینرز کی وجہ سے آسمان نظر نہیں آیا کرتا تھا وہاں کا عالم یہ ہے کہ ہڑتال ہوتی ہے تو کوئی چائے کا کھوکھا بھی کھلا نہیں ملتا۔ کاروبار ڈوب رہا ہے صنعت ڈوب رہی ہے فیصل آباد حکمرانوں سے فریاد کرتا نظر آتا ہے ۔

ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا

میں ڈوبنے والا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

ہر ظلم تیرا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں

اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں

گلوکار ساجد علی کے ان اشعار میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ 13 جولائی سے انجمن تاجران پاکستان میں ملک گیر شٹر ڈائون کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ کراچی میں تاجروں کو کسی بھی طرح کی کوئی رعایت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ معیشت پرانے طریقوں پر نہیں چلائی جا سکتی۔ تاجروں کے اجلاس میں وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا اور کرپٹ افراد کو سزا نہ دینے سے کرپشن بڑھ جائے گی اس طرح کے جملوں سے تاجروں کو یہ تاثر دیا گیا کہ جیسے آپ سب چور ہیں۔

کونسل آف پاور لومز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئر مین اور معروف صنعتکار وحید خالق رامے نے وزیر اعظم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاور لوم کی صنعت جو کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ملکی تاریخ کے بد ترین بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔ نئے سیٹ اپ میں ہمیں یارن یا دھاگہ دستیاب نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے سارا تانا بانا ختم ہو چکا ہے ۔ دوسری طرف پراسیسنگ ملز کی بندش کی وجہ سے ہمارے کپڑے کا کوئی خریدار نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارا کوئی بھی خریدار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں۔ وحید خالق رامے کا کہنا تھا کہ پاور لوم فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے وزیرا عظم سے اپیل کی کہ پاور لوم مالکان اور محنت کشوں کو معاشی قتل سے بچایا جائے۔ٹیکسٹائل کے شعبے کے پروڈکشن چین کو سسٹم میں لائے بغیر سیلز ٹیکس کا نظام کو آسان بنایا جائے۔

وحید خالق رامے نے یہ ساری باتیں چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی کے سامنے دہرائیں جب وہ وزیر اعظم کے دورہ کراچی سے ایک دن قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس میں تاجروں کو مسائل کے حل کی یقین دھانی کروا رہے تھے۔ مگر جیسے ہی وزیر اعظم نے کراچی کے تاجروں کو جھنڈی دکھائی شبر زیدی بھی اپنے بیان سے منحرف ہو کر فرمانے لگے کہ ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ تاجروں کی ان ہڑتالوں کے پیچھے کون ہے ان کا صاف مطلب یہ تھا کہ اپوزیشن تاجروں کو ہڑتال پر اکسا رہی ہے ۔ اس الزام کی حقیقت سازش تھیوری سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ ہڑتالیں کرانے والے لوگ وہی ہیں جو متاثر ہو رہے ہیں۔ اب شبر زیدی صاحب کو کون پوچھ سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خا ن کی ریٹنگ 55 فیصد سے 45 فیصد پر آ گئی ہے تو اس کے پیچھے کون ہیں۔ یقینا وہی لوگ ہیں جنہوں نے ووٹ دیا تھا مگر حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے وہ اتنے تنگ ہیں کہ انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا ہے ۔

ہمارے ٹیکس نظام کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ صرف 2 فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں نان فائلر طبقہ فائلرز سے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے بلکہ غریب طبقے امراء کی نسبت زیادہ ٹیکس دیتے ہیں پاکستان میں پہلے عوام 44 قسم کے ٹیکس دیتے تھے اب یہ تعداد 60 ہو چکی ہے ۔ ہمارا 80 فیصد ٹیکس ریونیو ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں نان فائیلر کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے ۔

پٹرول کے ایک لیٹر کی خریداری پر ہم 45 روپے ٹیکس دیتے ہیں یہ وہی رقم ہے گزشتہ دور میں جس پر اسد عمر بہت زیادہ اعتراض کیا کرتے تھے ۔ ہم موٹروے پر سفر کریں تو تقریباً 2 روپے فی کلو میٹر فی کار کے حساب سے ٹیکس ہے جو دنیا بھر میں ظالمانہ حد تک زیادہ ہے ۔ بجلی پر ٹیکس گیس پر ٹیکس اور موبائل فون کا ٹیکس تو بہت بڑا مذاق ہے 100 روپے کے لوڈ پر 26 روپے ٹیکس تو فوراً کٹ جاتا ہے لیکن ہم میں سے کتنے لوگوں کو پتہ ہے کہ بقیہ 74 روپے کے بیلنس میں ٹاک ٹائم کے دوران ہمارے 14 روپے اور کاٹ لیے جاتے ہیں اور ہم صرف 60 روپے استعمال کرتے ہیں یہ Hidden Tax ہے جسے ہر آدمی نہیں جانتا۔ اب تو موبائل فون سیٹ اگر آپ کو کوئی باہر سے تحفہ میں یا مفت بھی دے تو اس میں سم ڈالنے کی غلطی نہ کریں آپ کو ایف بی آر سے کال آ جاتی ہے کہ اپنی انکم ٹیکس کا حساب دیں۔ تاریخ میں پہلی بار قربانی کے بکرے کی خریداری پر ٹیکس متعارف کروایا جا رہا ہے ۔

جنرل سیلز ٹیکس یا GST کی خوبصورتی ہماری جمہوریت کے حسن سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس کی چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ جس جس چیز پر GST لاگو کیا گیا ہے تاجروں اور دوکانداروں نے وہ پورے کا پورا ٹیکس صارفین پر منتقل کر دیا ہے ۔ مثلاً اگر کوئی سوٹ کسی برانڈ پر 5000 روپے کا تھا تو اس کی نئی قیمت 5850 لکھ کر اس میں واضح کیا گیا ہے کہ اس میں 850 روپے GST ہے ۔ حکومت کو پتہ ہے کہ تاجروں پر جو ٹیکس لگایا گیا تھا وہ انہوں نے 100 فیصد End user پر ڈال دیا گیا ہے مگر حکام کو اس سے کوئی غرض نہیں۔

پنجاب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو مغلیہ سلطنت اور رنجیت سنگھ دونوں حکومتوں کے زوال کے اسباب میں قدر مشترک یہ تھی کہ ٹیکس کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی تھی اس لیے عوام ہر نئے آنے والے کو اس لیے خوش آمدید کہتے تھے کہ شاید وہ ٹیکس میں رحمدلی کا ثبوت دے گا۔

شاعر مشرق علامہ اقبال کا زمانہ اشتراکیت اور کیمونزم کے عروج کا دور تھا مگر انہوں نے خبر دار کیا تھا کہ اگر ریاست میں کسی مزدور کو بھی حکمران بنا دیں تو وہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ماضی بھول جائے گا اور وہ وہی کچھ کرے گا جو اس سے پہلے بادشاہ کرتے آئے ہیں بقول اقبالؒ

طریق کو ہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

نیا پاکستان بنانے والوں نے قوم ملک سلطنت کے ساتھ یہی کیا ہے جس کا علامہ صاحب کو خدشہ تھا۔


ای پیپر