روہنگیا مسلمان! دنیا کی مظلوم ترین اقلیت
12 جولائی 2019 2019-07-12

سات صوبوں پر مشتمل جنوب مشرقی ایشیاکا ملک میانمار جسے پرانے نام برما سے بھی جانا جاتا ہے، جس نے برطانیہ سے جنوری 1948کو آزادی حاصل کی ،جس کی بنگلہ دیش ، بھارت ، تھائی لینڈ ، لاؤس اور چین کے ساتھ سرحدیں لگتی ہیں ، جہاں پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفرکی قبر بھی ہے، تقریباََ 6کروڑ کی آبادی پر مشتمل اس ملک میں89%بودھ سمیت دوسری اقلیتوں کے علاوہ مسلمان بھی بستے ہیںجو میانمار کی سب سے بڑی اقلیت ہیں،خود کو عرب مسلمان جہازرانوں کی نسل سے بتانے والے 1050ء میں یہاں تجارت کی غرض سے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔ سب سے زیادہ مسلمان راکھائن (اراکان اسٹیٹ )میں آبادہیں جن کی تعداد چھ لاکھ ہے جنہیں ’’ روہنگیا ‘‘ مسلمان کہا جاتا ہے۔ جب تحریک آزادی اپنے زوروں پر تھی تب روہنگیا مسلمانوں نے اپنے صوبے کو مشرقی پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے زبردست تحریک بھی چلائی تھی ۔ پاکستان نے برمی مسلمانوں کو شہریت دینے کے ساتھ ساتھ تمام بنیادی حقوق دے کراپنے یہاں آباد کیا ۔ پاکستان کے بعد سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جس نے ان مجبور و لاچار برمی مسلمانوں کو شہریت دے کر اس کارخیر میں حصہ ڈالاہے ۔

میانمار میں مسلمانوں کے قتل وغارت گری کی ایک طویل تاریخ ہے ۔لیکن 2012میں مہذب دور کے ترقی یافتہ کہلانے والی قوموں کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات نے انسانیت کے سر بھی شرم سے جھکا دیے ۔حتیٰ کہ اقوام متحدہ بھی روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دینے پر مجبو ہو گئی۔ اس دوران برمی حکومت کے زیرسرپرستی بودھ انتہا پسندوںنے مسلمانوں کے3 ہزارسے زائد گھر جلا دیے،مختلف علاقوں سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب مسلمان بے گھر ہوئے، پانچ لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بنگلہ دیشی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لی، جہاں پانی ، راشن اور بجلی تو دور ، جانوروں سے بھی بدتر زندگی ، خواتین کا گینگ ریپ ،اجتماعی طور پرعورتوں ، بچوں اور مردوں کا

قتل عام، مسلمانوں کے مکانات ، مساجد اور دکانوں کا نذر آتش کرنا روز کا معمول بن چکا تھا۔ وہ کونسا ظلم تھا جو ان پر روا نہیں رکھا گیا ۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان فسادات کے دوران برما کی سیکورٹی فورسز نہ صرف خاموش تماشائی کا کردارادا کرتی رہی بلکہ بعض مواقع پر وہ اس قتل عام میں خود بھی شریک ہوئی۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ سینکڑوں سالوں سے وہاں بسنے کے باوجود ان کو شہریت سے محروم کر دیا گیا ۔ جنہیں نہ تو سرکاری تعلیم کی سہولت میسرنہ ہی سرکاری ملازمت اور نہ ہی عام شہریوں کی طرح آزادانہ گھوم پھر نے کی اجازت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ میانمار کے مسلمانوں کے مسئلے کو شروع دن سے ہی میڈیا میںایک خاص اینگل سے پیش کیا گیا، لیکن افسوس !مسلمانوں کی اس نسل کشی کے سلسلے کی تہہ تک پہنچنے کی کسی نے بھی کوشش نہیں کی ،تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جہاں وافر مقدار میں قیمتی دھاتوں سمیت2ارب مکعب میٹر سے زائد تیل اور 12کھرب مکعب میٹرقدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں ۔ جس پر استعماری طاقتیں عرصہ دراز سے لالچائی نظریںگاڑھے بیٹھی تھیں ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شروع دن سے ہی میانمار کی سیاست میں فوج کو فیصلہ کن بالادستی حاصل ہے ۔ جس کے پیچھے چین کھڑا ہے جو فوج کے ذریعے براہ راست میانمار کی اندرونی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتا چلا آرہا ہے ۔

میانمار کے مسلمانوں پر ڈھائے گئے انسانیت سوز مظالم کو سمجھنے کے لیے اس پہلو کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جس طرح چین نے کاشغر سے گوادر تک تجارتی راہداری بنائی ہے اسی طرح چین نے برما کے راستے سے بھی ایک اورراہداری شروع کر رکھی ہے ۔ جوچین کے شہرکونمنگ سے خلیج بنگال تک ہے جہاں کونمنگ کے جنوب میں برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان کے ساحل پر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تیل اور گیس کی علیحدہ علیحدہ گیس پائپ لائنز بچھائی گئی ہیں ۔اراکان سی پورٹ اور اس پر تعمیران لائنوں کی اہمیت کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں سے چین کو روزانہ ساڑھے چار لاکھ بیرل خام تیل کونمنگ منتقل ہوتا ہے۔ جہاں سے خلیج بنگال کا فاصلہ محض 2000کلومیٹر ہے ۔ ان راہداریوں کی تکمیل کے بعد ان کو مکمل آپریشنل رکھنے کے لیے علاقائی امن کی شدید ضرورت ہے۔

چونکہ یہ راہداریاں چین کی بقاء اور معیشت کے لیے آکیسجن کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کے بند ہوتے ہی چین کی معیشت منٹوں میں زمین بوس ہو جائے گئی، لہذا چین نے برمی فورسز کی مدد سے اس سارے علاقے کو ملٹری زون میں تبدیل کر دیا ہے ۔ زمینی حقائق کے تناظر میں چینی حکومت کی اندرون خانہ خواہش سے محسوس ہو رہا ہے کہ اس علاقے کے مسلمانوں کو یا تو بنگلہ دیش منتقل کر دیا جائے یا پھر ختم کر دیا جائے ۔ جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے پانگ پی لی پہلے ہی یہ انتباہ کر چکے ہیں کہ برمی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو مکمل طور پر ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ پچھلے سات سال سے مسلم نسل کشی کے پیچھے یہی وہ خوفناک حقائق ہیں جن کو دنیا کے سامنے بہت کم لایا جارہا ہے ۔ کیونکہ دوسری جانب جمہوری دعویدار سوچی کو پوری منصوبہ بندی سے برسراقتدار لانے کے بعد امریکہ اور یورپ نے بھی مسلمانوں کے ذخائر پر ہاتھ صاف کرنے کے لیے جنوری 2017تک ان علاقوں میں 70ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ لہذا چین ، روس اورامریکہ سمیت یورپ کبھی بھی نہیں چاہے گاکہ اراکان کے مسلم نسل کشی کے اندوہناک واقعات کو بین الاقوامی میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کر کے اصلی حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں ۔صاف نظر آرہا ہے کہ مہذب کہلانے والی استعماری طاقتیں بے گناہ خون مسلم کو بہنے سے کبھی بھی نہیں روکیں گی۔ کیونکہ اس وقت برما میں مذہبی بنیادوں پر 969چھوٹی بڑی دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ کے تمام طبقے ، خاص کر میڈیا روہنگی مسلمانوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی سطح پر لابنگ کریںاور ان کی قتل وغارت گری کو روکنے ،حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مفاد پرست استعماری طاقتوں سمیت بودھ مت کے دہشت گردوں کے اصلی مکروہ چہروں کو بھی بے نقاب کریں۔


ای پیپر