مناپن کا سحر… راکا پوشی اور مدہوشی
12 جولائی 2019 2019-07-12

بابوسر ٹاپ پرجولائی میں برفباری کے مزے لوٹ کر جب بابوسر چلاس روڈ پر سفر کا آغاز کیا تو اس کے خطرناک موڑ دیکھ کر ایک بار پھر اللہ یاد آگیا۔ یہاں پر ذرا سی لاپرواہی بہت بُرے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ شوہر نامدارمیاں شاہد محمود کار ڈرائیونگ میں بہت مہارت رکھتے ہیں اسلیے انہوں نے بڑی احتیاط سے گاڑی چلائی اور ہم اللہ کے فضل سے ایک گھنٹے میں چلاس پہنچ چکے تھے۔ وہاں کا موسم لاہور کی طرح گرم تھا اور اتنی ٹھنڈک دیکھنے کے بعد وہاں ایک گھنٹہ بھی رکنے کا یارا نہ ہوا اور ہم نے سیدھا قراقرم ہائی وے سے گلگت کی راہ لی۔ مگر سڑک کی حالت اتنی خراب تھی کہ پورے دن کے سفرکا مزا کرکرا ہوگیا ۔جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ،بڑے بڑے گڑھے،اونچے اونچے مختلف رنگوں کے خشک پہاڑ اورشورمچاتا دریائے سندھ ہماری بے چینی میں اضافہ کررہا تھا۔ قراقرم ہائی وے کا یہ حصہ اس جگہ سے خراب ہے جہاں پر دیامر بھاشا ڈیم بننے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہاں آکر ہمارا سلک روڈ ٹو چائنہ بارڈر والا خواب بڑا ڈرائونا لگ رہا تھا۔ اللہ اللہ کرکے ایک گھنٹہ بعد سلک روڈ کا آغاز ہوا تو ایسا لگا دوزخ سے سیدھا جنت میں آگئے ہیں اس راستے میں نانگا پربت ویو، اور تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں کے ویو بھی آتے ہیں۔ تقریباً اڑھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم گلگت پہنچ گئے وہاں بھی حسب لاہورگرمی تھی اور رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ وہاں کی گرمی کھانے کا بالکل ارادہ نہیں تھا اسلیے ہم نے اس سلسلے میں محمد عثمان صاحب سے مشاورت کی جو ماشاء اللہ پاکستان کے محب وطن شہری ہیں اپنا کاروبار ہے مگر سیاحت کے دلدادہ اورپاکستانی ثقافت کے رسیا ہیں۔

انہوں نے مشورہ دیاکہ آپ گلگت سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر واقع ضلع نگر کے گائوں مناپن میں قیام کریں اور اس کی خوبصورتی ،قدرتی حسن اور موسم سے لطف اندوزہوں۔سوا گھنٹے بعد ہم راکا پوشی ویو نگر کے پاس ایک گائوں مناپن میں ماسٹر ذاکر کے گیسٹ ہائوس میں پہنچ چکے تھے رات کافی ہوچکی تھی،ہم بھی اٹھارہ گھٹنے کے لگاتار سفر کے بعد نڈھال تھے۔شیف نے بہت مزیدارکڑاہی ،سلاد اور گرما گرم روٹیاں بنائی تھیں جسے ہم سب نے خوب انجوائے کیا۔ اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی بس یہ سکون تھا کہ بستر مل گیا موسم سردتھا ہم نے کمبل اوڑھا اور خواب خوگوش کے مزے لینے لگے۔

صبح کے چار ہی بجے تھے کہ کوئی ہمارے کمرے کی کھڑکیاں زور زور سے بجانے لگا ایک دم گھبرا گئے پتہ نہیں کون ہے جگہ بھی نئی لوگ بھی نئے ،ڈرتے ڈرتے پردہ ہٹایا تو دو ننھے ننھے رابن ہڈ نما پرندے تھے جو بار بار آکر اپنی چونچ کھڑکی میں مارتے تھے گویا نماز فجر کے لیے اٹھا رہے ہوں اور بات درست تھی کیونکہ جتنی تھکاوٹ تھی اگر وہ ہمیں نہ اٹھاتے تو نماز نکل جاتی۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو تقریباً روشنی تھی باہر چیری کے درختوں کی اوٹ سے دور راکا پوشی برف کا دوشالا لیے مسکرا رہی تھی ہم نے یہ منظر آنکھوں میں قید کیا اور پھرسو گئے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو بچے غائب تھے پریشان ہو کر باہر دیکھا تو وہ باغ میں لگے تازہ پھلوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ مناپن میں اس وقت چیری کا موسم تھا،سب درخت چیری سے لدے ہوئے تھے بچوں کو کوئی روک ٹوک نہ تھی انہوں نے جی بھر کر چیری کھائی یہاں کے لوگوں کا اخلاق بھی بہت اچھا تھا۔ماسٹر ذاکر بھی گلگت کالج میں لیکچرر ہیں اور ڈبل ایم اے کیا ہے۔ان کے مزاج میں سادگی اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ان کے گیسٹ ہائوس میں ہمیں بالکل گھر سا ماحول ملا۔ مناپن میں ہر چیزمیں ایک سکون ایک ترنم تھا۔ ماحول فطرت کے عین قریب تھا۔ تھوڑا باہر نکل کردیکھا تو چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں بغیر سرپرست کے سکول جا رہے تھے انہوں نے ہمیں دیکھ کر سلام کیا بچوں کے چہرے سرخ سفید تھے کوئی خوبانی لگی تو کوئی چیری۔

اورتو اور گائوں کے ماحول میں رہ کر ہمارے بچوں کے چہروں پر بھی رونق آگئی تھی۔ بچے یہاں بہت مطمئن تھے یہاں آکراحساس ہوا کہ فطرت میں کتنا سکون ہے ۔یہ لوگ بناوٹ سے پاک سادہ زندگی گزارتے ہیں اور ان کے لہجوں ،رویوں میں کوئی منافقت نہیں تھی۔ گائوں میں ہربچہ سکول جاتا ہے پرائیویٹ اورکمیونٹی دونوں طرح کے سکو ل ہیں اور کوئی استاد ایم اے ایم ایس سی سے کم نہیں تھا۔بچوں سے بھی بات چیت کی تو ان میں وطن اور ثقافت سے محبت کا جذبہ عیاں تھا۔ ناشتے میں گائے کا دودھ دوپہر میں پھل صاف ستھرا پانی اور سادہ دال روٹی اور اپنی اگائی ہوئی سبزی کھاتے ہیں اور تو اورخوردنی تیل بھی خود بناتے ہیں اخروٹ اور خوبانی کا ۔یہاں پر کوئی بندہ بیمار نظر نہیں آرہا تھا اور سو سو سال کے بوڑھے بھی کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر آرہے تھے مگر کسی کا سانس پھولا نہ ٹانگوں نے جواب دیا جبکہ ہم ہر دس منٹ بعد چل کر پانچ منٹ کو سستا لیتے۔ مناپن کی خوبصورت صبح تازہ آب ہوا خوشگوار موسم دلفریب نظارے خدا کی قدرت یاد دلا رہے تھی۔ تازہ اور ٹھنڈی تازہ ہوا گویا زمین پر جنت کا سماں۔ یہ دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اللہ کی بنائی ہوئی یہ عارضی خوبصورتی انسان کو اپنے بس میں کر لیتی ہے تواللہ کی بنائی ہوئی جنت کتنی خوبصورت ہو گی؟

جب نظر اٹھائو توکبھی چیری کے خوبصورت باغ اپنی طرف کھینچ لیتے کبھی برف کا آنچل اوڑھے پہاڑ اپنا جلوہ دکھاتے اور پھر بادلوں کی پہاڑوں اور دھوپ کے ساتھ آنکھ مچولی۔ کوئی ایک منظر بھی ایسا نہ تھا جسے نظر انداز کیاجاسکے۔ایک دم نیچے نظر گئی توصدیوں سے بہتی آبشارشور مچاتی اپنے ہونے کا احساس جگارہی تھی، مناپن کہنے کوایک چھوٹاسا گائوں پریہ زمین پر سیاحوں کی جنت ہے۔ اس گاؤں سے راکاپوشی اور دیران پیک کے بیس کیمپ کو راستہ جاتا ہے اس راستہ پردوسوسال پرانی آٹے کی چکی دیکھنے کو ملی جو پانی سے چلتی تھی،اس پر کمال یہ کہ مناپن کے قدرتی گلیشئر سے ایک ڈیم بنا یا گیا ہے جو اس گائوں کے لیے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ لوگ خوراک اور تعلیم کے بعد بجلی کے معاملے میں بھی خود کفیل ہیں۔

میں یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ ہم کتنی مصنوعی اور غیر فطری زندگی گزار رہے ہیں۔ زہریلی کھاد والی سبزیاں، پانی اور کیمیکل ملا دودھ، ناقص خوردنی تیل،سپرے والے فروٹ،بیماری والا چکن مصنوعی اے سی یا کولر کی ٹھنڈک،دوائوں کے سہارے نیند، غیر معیاری تعلیم،انٹرنیٹ اور موبائیل کی تربیت یافتہ پیزا برگر شوارما کی رسیا ممی ڈیڈی نسل اور پھر مصنوعی اور خود غرض رشتے اور تعلقات۔ فطرت سے دور ہو کر ہم نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا ہے!

مناپن میں ابھی بہت کچھ دیکھنے کو باقی تھا لیکن آج ہمارا ارادہ بارڈر دیکھنے کا تھا اسلیے بادل ناخواستہ اس سے پھر ملنے کا وعدہ کر کے ہم بارڈر کی طرف روانہ ہوگئے جو یہاں سے چارگھنٹے کی مسافت پر تھا۔ (جاری ہے)


ای پیپر