12 جولائی 2019 (19:01) 2019-07-12

لاہور :جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پر کاروائی کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ فیصلے دباﺅ کے فیصلے ہیں ،جب حکومت عدالتوں کو خریدنا اور دبانا شروع کر دے تو پھر کچھ نہیں رہتا ۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پورے ملک میں انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ،کیا معلوم ہر جج بلیک میل ہو رہا ہے ،جب حکومت بلیک میل کرنا شروع کر دے تو انصاف کا نظام کیسے چلے گا ؟نام نہاد احتساب کے بارے بھی کہا حقیقی احتساب چاہتے ہیں،مسلم لیگی رہنما نے کہا آج ثبوت کے ساتھ ثابت ہوگیا ہے ان عدالتوں کے فیصلے احترام کے قابل نہیں،یہ فیصلے دباو کے فیصلے ہیں،حکومت نے عدالتوں کو خریدنا اور دبانا شروع کردیاہے ،انہوں نے کہا جب عدلیہ بک جائے تو پھر کچھ نہیں رہتا۔

رانا ثناءاللہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کا ایک دن کا جسمانی ریمانڈ بھی اے این ایف نے حاصل نہیں کیا، اے این ایف کو رانا ثنا اللہ کاجسمانی ریمانڈ لے کر تفتیش کرنی چاہئے تھی،ایک سینئر پارلیمنٹیرین کو ہیروئن کے کیس میں گرفتار کیا گیا،پاکستان کا ہر شخص کہتا ہے یہ جھوٹا کیس ہے،انہوں نے کہا حکومت بتاتے اے این ایف نے فیصل آباد سے کتنے لوگ گرفتار کئے ہیں جو منشیات اسمگل کر رہے تھے،اس کیس کو آج کوئی شخص تسلیم نہیں کرتا،یہ کیس صرف رانا ثنا اللہ کی آواز کو دبانے کی سازش ہے،اس کیس کی حقیقت بھی بہت جلد سامنے آ جائے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے عدلیہ سے متعلق با ت کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے ہمیشہ عدالتوں کااحترام کیا،انتقام نہیں احتساب ہوناچاہیے،نوازشریف کےخلاف مقدمے کی حقیقت بھی سب جان چکے ہیں،اب اعلیٰ عدلیہ کا امتحان ہے کہ وہ معاملات کو کیسے چلاتی ہے ۔

نئے چیئرمین سینٹ کیلئے حاصل بزنجو کے نام پر تمام اتحادی متفق ہیں ،حاصل بزنجو سے بڑا کوئی جمہوریت پسند انسان نہیں ،انہوں نے چیئرمین سینٹ کیلئے حاصل بزنجو کو حاصل نمبروں سے متعلق بتا تے ہوئے کہا کہ اب تک 67ارکان نے اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔


ای پیپر