جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بڑی کاروائی
12 جولائی 2019 (17:38) 2019-07-12

اسلام آباد : جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں کام کرنے سے روک دیا گیا ، ارشد ملک کو اپنے اصل ادارے لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ کریں ۔

تفصیلات کے مطابق مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ارشد ملک کیخلاف پہلی کاروائی کرتے ہوئے انہیں کام کرنے سے روک دیا گیا ،وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ارشد ملک کو اپنے اصل ادارے لاہور ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے ۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ کوئی مجرم ٹھہر گیااور سزا کاٹ رہا ہے تو سزا معطل نہیں ہو سکتی ، جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میںلکھا ہے کہ فیصلہ میرٹ پر دیا ،بغیر کسی دباﺅ کے فیصلہ کیا ، جج پر اگر دباﺅ ہوتا تو نواز شریف کو دونوں کیسز میں سزا ہوتی ۔واضح رہے نواز شریف کو ایک کیس میں بری کر دیا گیا تھا ۔

دوسری طر ف توجہ دلاتے ہوئے وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا انکوائری کے دوران جج پر اثر انداز ہونے کی سزا قانون میں موجود ہے،کوئی بھی فیصلے پر اثراندازہونے کی کوشش کرے اس کی سزاوجزا الگ ہے،سیکشن 331 اے کے تحت کیس پر اثراندازہونے کی سزا 10 سال ہے،اب جو بھی کرنا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرنا ہے ۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے واضح کیا کہ عدالتوں کو دباو¿ میں لانے کی اجازت نہیں دیں گے،ہم قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں، جج ارشد ملک کی ویڈیو کا نوازشریف کے خلاف کیس سے کوئی تعلق نہیں،ان دستاویزات پر تو جج صاحب پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔


ای پیپر