ٹیکس مرے ہرساہ دے اُتّے
12 جولائی 2019 2019-07-12

ایک صاحب اپنا کتا بیچنے بازار گئے۔ ایک گاہک نے قیمت پوچھی تو کتے کے مالک نے کہا : بیس ہزار روپے (گاہک گھبرا کر) وہ کیوں بھئی یہ کتااتنا مہنگا کیوں ہے؟

کتے کا مالک : جناب اس کتے میں یہ خاصیت ہے کہ آپ اس سے کہیں پانی پلاﺅ تو یہ پانی پلاتا ہے۔ اس سے کہو کھانا لاﺅ تو کھانا لاتا ہے۔

گاہک : تو آپ یہ اتنا اچھا کتا بیچ کیوں رہے ہیں؟

کتے کا مالک : ”صاحب کل ہمارے گھر میں چورگھس آئے تھے تو یہ ان کو چوری کروارہا تھا۔“

ان دنوں ٹیکس ٹیکس کی آوازیں آرہی ہیں۔ حکومت کو گھڑے مچھیاں ( سرکاری ملازم) چھوڑ کر ان کاروباری حضرات تاجروں، ہوٹلوں، پلازوں اور بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز سے بھی ٹیکس اکٹھا کرنا چاہیے آپ لاہور میں شام کو کسی بھی ”کھابے کے اڈے“ پر چلے جائیں آپ کو نشست نہیں ملتی۔ کیا یہ سب لوگ حقیقی ٹیکس دیتے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں یہ صرف انکم ٹیکس افسران کو راضی رکھتے ہیں۔ حکومت کو ان سرکاری اہل کاروں کا احتساب بھی کرنا چاہیے جو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے رشوت خور بلکہ بھتہ خور بھی اوپر بیان کردہ لطیفے کی طرح ہیں جو خود اپنے گھر میں چوری کراتے ہیں۔ ایسے سرکاری اہل کاروں سے نجات کے لیے سب سے پہلے بندوبست ہونا چاہیے۔

اگر بات احتساب کی کی جائے تو سب سے پہلے الیکٹرانک میڈیا کے ان اینکرز اور لفافہ صحافیوںکا احتساب کیا جائے جو دس پندرہ برس قبل اخبار کے معمولی رپورٹر یا کالم نگار تھے۔ جیسے ہی ٹی وی چینلز کا دور آیا یہ سارے لوگ نام نہاد دانشور بن گئے۔ یہ ہرروز شام ہوتے ہی نہ صرف قوم کو بھاشن دیتے ہیں بلکہ سیاستدانوں اور ممبران پارلیمنٹ کو اپنے ٹاک شوز میں مرغوں کی طرح لڑاتے بھی ہیں۔ عام صحافی کارکن رپورٹر کیمرہ مین تو نہایت معمولی مشاہرے پر فرائض ادا کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں کئی کئی ماہ کی تنخواہیں بھی قسطوں میں ادا کی جاتی ہیں جبکہ یہ اینکرز حضرات لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور اینکر اپنی اپنی من پسند سیاسی پارٹی کے ”بھونپو“ کا کردار بھی ادا کرتا ہے اس فرض کے عوض وہ سیاسی جماعتوں سے بھی مراعات حاصل کرتے ہیں یہ پہلی حکومت آئی ہے جس نے انہیں زیادہ منہ نہیں لگایا۔ اور یہ حضرات بھی جمہوریت کا بھاشن دیتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف زہراگل رہے ہیں بعض تو سمگلروں چوروں کے نقاب میں سیاستدانوں کی حمایت میں بھی حدسے گزر جاتے ہیں ۔سو بیورو کریٹس، سیاستدانوں ، ججز اور دیگر کرپٹ افراد کے ساتھ ساتھ میڈیا کی اس ”بااثر مخلوق“ کا احتساب بھی کیا جائے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین بھی کی جائے وہ جو کل تک موٹرسائیکل پر پھراکرتے تھے اب ان میں سے بعض کا پانی بھی بیرون ملک سے آتا ہے۔ ایسے حضرات ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔

عزیز قارئین!آج ہم ادبی کالم لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر تمہید طویل ہوگئی۔ اگلے روز بہت دنوں بعد ہم ادبی بیٹھک گئے۔ جہاں خوبصورت شاعرہ رقیہ غزل کے ساتھ ایک شام منائی جارہی تھی۔ سہیل بخاری اور اعظم منیر اس سے قبل ہمیں ایک مشاعرے میں صدارت کے لیے مدعو کرچکے تھے مگر طبیعت کی ناسازی کے باعث ہم شریک نہ ہوسکے۔ انہوں نے محبت سے دوبارہ مدعو کیا تو انکار نہ کیا جاسکا۔ اصل میں ہم نے نئے لکھنے والوں کا کبھی راستہ نہیں روکا۔ نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے سو نوجوان شعراءکی پذیرائی کے لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ ان کی تقریبات میں شرکت ضرور کی جائے۔ مشاعرہ اچھا تھا۔ رقیہ غزل کے احباب نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ باقی احمد پوری اور ان کے کویت سے آئے ہوئے صاحبزادے نوجوان شاعر حماد بخاری بھی ہمارے ساتھ تھے۔ کینال روڈ بلاک تھی ہم گلبرگ کے راستے سے الحمرا پہنچے۔ بہت سے نئے لکھنے والوں سے ملاقات ہوئی۔ لیکن ادبی بیٹھک کی صورت حال دیکھ کر افسوس ہوا۔ گرمی تو ویسے بھی زوروں پر ہے اوپر سے ایئرکنڈیشنڈ نہ ہونے کے برابر ۔ ہم مشاعرے کے آخرتک پسینے میں شرابور ہوچکے تھے۔ اطہرعلی صاحب الحمرا آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ مجھے یقین ہے وہ نہایت اعلیٰ ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ انہیں اہل قلم کے اس واحد”گوشہ ”عافیت“ پر خصوصی کرم فرمائی کرنی چاہیے اور ادبی بیٹھک ایئرکنڈیشنڈز کو درست رکھنے کا حکم صادر کرنا چاہیے۔ اصغر گیلانی صاحب نے ادبی بیٹھک قائم کرنے اور اسے سنوارنے سجانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جنہیں اہل قلم آج بھی محبت سے یاد کرتے ہیں۔ اطہر صاحب الحمرا آرٹس کی رونقیں بحال کرنے میں جہاں دیگر اقدامات کررہے ہیں ادیبوں شاعروں کے بیٹھنے کے لیے بھی اچھا ماحول عطا فرمائیں۔ مشاعرے میں سے ایک شعر قارئین کی نذر۔ بی اے شاکر کی غزل کا یہ شعر حاصل مشاعرہ تھا۔

پاکستان دا شہری آں میں

ٹیکس مرے ہر ساہ دے اُتّے

اپنا ایک شعر بھی بلاتبصرہ آپ کی نذر ہے :

ڈوہل نہ دیویں حُسن جوانی

ایس بوتل دا ڈھکن کوئی نئیں


ای پیپر