زرداری کے خلاف اقدام کیوں؟
12 جولائی 2018 2018-07-12

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کہ ہمشیرہ کے خلاف اچانک جعلی بینک اکاؤنٹس اور ان کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات سامنے آئی ہے۔ معاملہ تین سال پرانا ہے۔ جس کا دو سال قبل سٹیٹ بینک نے بھی نوٹس لیا تھا۔ ایف آئی نے بھی کچھ تحقیقات کی تھی لیکن مزید کارروائی کے بغیر بات وہیں پر رک گئی۔ اب انتخابات چند گز کے فاصلے پر ہیں تو یہ تحقیقات سامنے آئی ہے۔ اس صورتحال میںیہ سب کچھ معنی خیز لگتا ہے۔ اس اقدام پر جتنے سوالات ہیں اس سے زیادہ اس کے اثرات ہیں۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف نیب اور عدالتی حالیہ کارروائیوں سے پیپلزپارٹی پر اخلاقی دباؤ پڑے گا ۔جبکہ اس سے عمران خان کے بیانیہ کو تقویت ملے گی۔ سابق وزیراعظم کو سزا سنانے کے بعد سابق صدر کے خلاف کارروائی سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ کارروائی صرف ایک شخص یا ایک پارٹی کے خلاف نہیں۔ لہٰذا ا کسی حد تک نواز شریف کی دلیل کو کمزور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
سندھ میں اس وقت خودکش بمبار کی طرح موبائل بردار نوجوان پھٹ پڑتے ہیں۔گزشتہ دور حکومت کے اراکین اسمبلی سے جواب طلبی کرتے ہیں۔ان سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ میں خراب حکمرانی کی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں بلدیاتی نظام سے لیکر تھر میں نومولود بچوں کی ہلاکت اور پینے کے پانی کی عدم فراہم کے معاملات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے کئی پر عدالتیں کمیشن بھی بنا جاچکی ہیں۔حالیہ ’’ اسکینڈل ‘‘سے مخالفین اور حلقہ انتخاب میں جواب طلبی کرنے والوں کی ہمت افزائی ہوگی۔لامحالہ انتخابی مہم متاثر ہوگی۔
بظاہر یہ معاملہ اچانک سامنے آیا۔ ابھی تک جوتفصیلات سامنے آئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش ایک عرصے سے ہو رہی تھی۔واقعات، ان کی ٹائمنگ اور ترتیب بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ پہلے نواز شریف کو سزا سنائی گئی اب آصف علی زرداری کے گرد گھیراؤ تنگ کیا جارہا ہے۔ احتساب کے نام پر کی کئے جانے والے ان اقدامات میں عدلیہ کا رول نمایاں نظر آرہا ہے۔ اہل فکر ونظر کوخدشہ ہے کہ جب انتخابات چند روز کی بات ہیں، اس طرح کے اقدامات انتخابات کی شفافیت اور ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ڈال دیں گے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی واپس وطن لوٹ رہے ہیں۔ اس وقت ایک اور بڑی پارٹی کے لیڈر کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے۔ ابھی دو اہم مرحلے باقی ہیں ایک انتخابات کا انعقاد، دوسرا ہنگ پارلیمنٹ کی صورت میں نئی حکومتوں کی تشکیل۔ سوال یہ ہے اسٹبلشمنٹ اور نگراں حکومت کس طرح سے جمہوری عمل کا منتقلی والا حصہ مکمل کرپائے گی؟ تحقیقات سامنے آنے سے پہلے یہ زرداری اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ڈیل کے قصے عام تھے ۔حالات و واقعات سے ان کہانیوں میں صداقت بھی لگتی ہے۔ زرداری اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان قربت گزشتہ سال بڑھنا شروع ہوئی۔ دیکھنے میں آیا کہ گزشتہ سال اسٹبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی کے قریبی لوگوں پر اہاتھ ہولا رکھا۔اس ڈیل نے پیپلزپارٹی کو نواز شریف کے ساتھ اتحاد کرنے سے روک دیا۔نواز شریف کو ناہل قرار دینا، تھا، وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کرنا اور ان پر مقدمہ چلانا تھا۔ اسٹبلشمنٹ کو لہٰذا پیپلزپارٹی کی ضرورت تھی۔ تین سال پہلے تحریک انصاف کے دھرنے کے موقعہ پر پیپلزپارٹی نے نواز لیگ کا ساتھ دیا تو اس کی حکومت بچ گئی تھی۔ لہٰذا اس مرتبہ پیپلزپارٹی کو نواز لیگ سے دور رکھنا ضروری تھا۔دوسری طرف یہ بھی تھا کہ خود پر اور اپنے دوستوں پر پریشر کم کرانا زرداری کی مجبوری تھی۔ لہٰذاپیپلزپارٹی نے نہ صرف نواز شریف کی برطرفی کو قبول کیا بلکہ کرپشن کے الزامات پر مقدمہ چلانے کی بھی حمایت کی ۔
آصف زرداری کو خوش فہمی ہوئی اور کچھ خوش فہمی دلائی بھی گئی کہ جب نواز لیگ کو تنگ گلی میں لے جایا جائے گا تو پیپلزپارٹی کا رول اور اہمیت بڑھ جائے گی۔ زرداری خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سرگرم ہوئے۔ بلوچستان میں بھی انجیئرنگ میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ا س خوش فہمی یا آسرے کی بنیاد پر دعوے کرتے رہے کہ ان کی پارٹی انتخابات کے بعد حکومت بھی بنائے گی۔ان کا منصوبہ یہ تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی کامیابی یقینی ہے جہاں آرام سے قومی اسمبلی کی چالیس سے زائد نشستیں حاصل کر لے گی۔ وہ ہنگ پارلیمنٹ میں کنگ میکر کا کردار ادا کریں گے۔ سینیٹ کا ڈپٹی چیئرمین پیپلزپارٹی کا آنے پر ان کو مزیدحوصلہ ملا۔ نئی صف بندی کے تمام فریقین اس پر متفق تھے کہ ایوان بالا میں نواز لیگ کنٹرول حاصل نہ کر سکے۔اس تمام کھیل کی کامیابی کا سہرہ زرداری کو پہنایا گیا، اور زرداری کی خوب واہ واہ ہوئی۔
خود کوجوڑ توڑ کا مہا گرو سمجھنے والے زرداری یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ ’’ اگلی باری پھر زرداری ‘‘ ۔ احتساب کا کلہاڑا ان سے بھی مضبوط شخص پر چل چکا تھا۔وہ بھی اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ صرف وقت کا انتظار کیا جارہا تھا۔ زرداری جیسے ہوشیار باخبر شخص کے لئے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ اس کے خلاف مواد کٹھا کیا جارہا ہے، جو آتش فشا کی طرح کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
نیب کے حوالے سے میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں ان کے مطابق منی لانڈرنگ والی رقم اربوں کھربوں میں ہے۔ رقم کی منتقلی درجنوں جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی۔ ان میں بیشتر کا رخ ان کی طرف یا ان کی ہمشیرہ، اور کاروباری دوستوں کی طرف ہے۔ اکثر منتقلی ایک ایسے بینک کے ذریعے کی گئی جس کا سربراہ ان کا دوست ہے۔ اس پر دو رائے نہیں کہ الزامات سنگین ہیں ان کو منطقی نیتجے تک لے جانا چاہئے۔
تکلیف دہ امر یہ ہے کہ تحقیقات کئی سال پہلے شروع کی گئی۔ اس میں سے کچھ معلومات زرداری کے قریبی ساتھیوں سے بھی ملی ہوگی جنہیں 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اور جو ایجنسیوں کی تحویل میں رہے۔ لیکن زرداری اور ان کے دوستوں کے خلاف کوئی کیس داخل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی قدم اٹھایا گیا۔ یہ شبہ یقین جیسا ہو رہا ہے کہ سیاسی مصلحت کی بناء پر کوئی قانونی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس طرح اس تصور کو وزن ملتا ہے کہ مالی کرپشن کے الزامات سیاستدانوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ مقدمات دبے رہے یا التوا میں ڈال دیئے گئے۔ جب ضرورت پڑی تو دوبارہ نکال کر سامنے لائے گئے۔ کرپشن کے الزامات پر زرداری کئی سال جیل میں رہے۔ لیکن انہیں سزا نہیں ہوئی۔ یہ ثابت ہونا ابھی باقی ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کا کیس ہے یا کرپشن کا؟
یہ درست ہے کہ بعض لوگ ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیں گے۔ لیکن بات میں وزن اپنی جگہ پر موجود ہے۔ستم ظریفی دیکھیئے سنگین الزامات والا شخص ملک کا صدر بھی ہو گیا۔کیاہمارا نظام عدل اور تحقیقات ایسا ہے جس میں الٹ پھیر کی جاسکتی ہے؟
حالیہ اقدام کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ جس کے سیاسی اثرات کے ساتھ سیاسی نتائج بھی برآمد ہونگے۔ اس تاثر کو تقیت ملے گی کہ انتخابات کے موقعہ پر سیاستدانوں کو نشانہ بنا کے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جارہے ہیں۔ واقعات کی ترتیب نے شبہات میں اضافہ کر دیا ہے۔
آصف زرادری اور فریال تالپور خود نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے وکیل کے ذریعے جواب داخل کیا ہے۔ اس بیان میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2014ء کا کیس ہے اور ہمیں جولائی 2018ء میں طلب کیا گیا ہے، 2014ء کے معاملے پر ایک دن میں جواب دینا ممکن نہیں ہے۔ مزید کہا ہے کہ آصف زرداری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 213 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، وہ انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے مصروف ہیں۔ انہیں اس وقت طلب کیا جارہا ہے جب دو ہفتوں بعد انتخابات ہیں، کلائنٹ کو مقدمات میں مصروف رکھنے سے الیکشن مہم متاثر ہوسکتی ہے۔
سیاسی طور پر اگر ہم دیکھیں تو اگر یہ اقدام ایک ماہ پہلے سامنے آتا تو پیپلز پارٹی سیاسی نقصان پہنچ سکتا تھا، موجودہ وقت الیکٹ ایبلز کی ایک بڑی تعداد پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکی ہے جبکہ جو ناراض تھے وہ دیگر جماعتوں میں جاچکے ہیں، ان الیکٹ ایبل کو اگرپہلے اندازہ ہوتا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر برا وقت قریب ہے تووہ اس طرح سے شامل نہیں ہوتے۔
پیپلز پارٹی کے لیے یہ خدشہ ضرور ہوگا کہ کامیابی کے بعد یہ الیکٹ ایبل پلٹا کھاسکتے ہیں، کیونکہ کسی سیاسی نظریے کے تحت نہیں بلکہ ذاتی مفاد اور خاص طور پر اقتدار و اختیار کے تحت ان کی سیاست ہے۔ پیپلزپارٹی بعض صورتوں میں انکے لئے کوئی ترجیحی چوائیس نہیں کیونکہ وہ کمزور حکومتی ادوار میں مضبوط پوزیشن میں رہتے تھے۔
اب اگر نیب اور عدالت آصف زرادری اور فریال کی درخواستیں نہیں مانتی۔ان دونوں کا وقت مقدمات کا سامنا کرنے میں گذرے گا، انہیں سیاسی انجینئرنگ کا وقت نہیں مل سکے گا، جو مرحلے انتخابات کے بعد آنا ہے۔ چند ماہ قبل آصف علی زرداری اظہار کرچکے ہیں کہ اگلی حکومت ان کی ہو گی تو یقیناًیہ سیاسی نقصان انہیں ہونا ہے۔ زرداری کو سمجھنا چاہئے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ان کی انجینئرنگ کی اب ضرورت نہیں۔ وہ اپنی اینٹیں سنبھالیں، جن کو بجانے کا انہوں نے تین سال پہلے ذکر کیا تھا۔
بینظیر بھٹو کے دور میں جب ایسے مقدمات دائر ہوتے تھے تو پیپلز پارٹی کی قیادت یہ باور کراتی تھی کہ یہ انتقامی کارروائی ہے لیکن کافی عرصے سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی ٹکر نہیں لی، اور نہ ہی یہ معاملہ مخالف حکومت میں سامنے آیا ہے اس بنیاد پر عوامی ہمدریاں لینا دشوار ہے۔ بہرحال احتساب کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، انتخابات کے چند ہفتے بعد بھی۔انتخابات پانچ سال بعد یا مقررہ مدت پر ہوتے ہیں۔لہٰذا انتخابات کو فوقیت حاصل ہے۔


ای پیپر