سوال تو اُٹھیں گے ؟
12 جولائی 2018 2018-07-12

انتخابات متنازع ہو رہے ہیں وضاحتیں آ رہی ہیں، بار بار آ رہی ہیں۔ خلائی مخلوق کی وضاحت آئی پارٹیاں بدلنے والوں کی وضاحت آئی۔چیف الیکشن کمیشن بار بار کہہ رہا ہے کہ انتخابات غیر جانب دار ہوں گے ، سب کو ایک جیسے مواقع ملیں گے ۔ ایک پارٹی جس کے بارے میں یہ تاثر پھیلایا گیا کہ وہ حکومت میں آ رہی ہے وہ کردار کشی سے بھرے اشتہارات جاری کر رہی ہے ، نام لے لے کر چور اور ڈاکو کہا جا رہا ہے۔ دوسری جانب نیب کا ادارہ ایک جماعت کی انتخابی مہم متاثر کر رہا ہے۔ سارا زور نواز شریف کے امیدواروں کی زیر کرنے کے لیے لگ رہا ہے۔ پنجاب کی پوری انتظامی مشینری ایک جماعت کو کھڈے لائن لگا رہی ہے۔ کونسلروں سے لے کر 25 جولائی کے امیدواروں تک کے گھروں میں چھاپے پڑ رہے ہیں۔ پورے لاہور کو ہی نہیں بلکہ ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والے کارکنوں کو آج لاہور میں جمع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ ہے چیف الیکشن کمیشن کا برابری کا موقع۔۔۔ سپریم کورٹ کی طرف سے نیب اور احتساب عدالتون کی طرف سے جو فیصلے آ رہے ہیں اس سے ایک جماعت کی کامیابی کا راستہ مشکل نظر آ رہا ہے۔
اب تو سوال اٹھ رہاہے کہ ’’ کس سے منصفی چاہیں‘‘ شیخ رشید کے مد مقابل حنیف عباسی کے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ بھی آنے والا ہے۔ ایسے ہی کیس ہیں ماخوذمخدوم شہاب الدین، موسیٰ گیلانی اور بیورو کریسی بھی شامل ہے۔ فیصلہ عباسی کے بارے میں آ رہا ہے۔ فیصلہ جو بھی ہو نقصان تو حنیف عباسی کا ہو گا ، حنیف عباسی سزا کی صورت میں الیکشن لڑنے کے لئے نا اہل ہو جائیں ، فیصلہ سنانے کے لیے ایسی تاریخ رکھی گئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کچھ بھی نہ کر سکے ، انتخابی مہم ختم ہو جائے گی۔ حنیف عباسی جس نے پورے 5 سال تک عوام میں رہ کر اپنا نام اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کی ہیں۔ ان کو شکست دینا کافی مشکل ہے۔یہ سارا سازش کا کھیل ہے، سازش ہوتیں بھی نظر آ رہی ہیں۔ دوسری جانب بلور خاندان کے لیے قیامت ٹوٹی بھٹو خاندان کے بعد غلام احمد بلور کا صدمہ کافی گہرا ہے اس خاندان نے اپنے خاندان کی قربانی نہیں دی۔ ان کے سینکڑوں ورکر بھی شہید ہوئے۔ جب الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کہہ رہے تھے کہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا حملہ ہے بیورو کریسی اور پولیس کی ساری کارکردگی ہی کھل کر سامنے آئی ہے۔ ہارون بلور کو ختم کرنا ایک ایجنڈا ہے۔ اس کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو طالبان کی کھل کر حمایت کرتے رہے ۔ ان کا دفتر پاکستان میں کھولنے کا مطالبہ ہوتا رہا
سچ بات تو یہی ہے دہشت گردی کی پوری پوری قیمت تو پختونوں نے ہی ادا کی ہے ’’ہند کو ‘‘ بولنے والا بلور خاندان نشانے پر ہے۔ اسفند یار ولی نے درست کہا کہ بلور خاندان کو پشاور کی سیاست سے نہیں نکالا جا سکتا 1997 ء کے ضمنی انتخاب میں غلام بلور کا اکلوتا بیٹا اس دنیا سے چلا گیا پولنگ اسٹیشن کے باہر نشانہ تاک کر مارا گیا۔ بشیر احمد بلور جو پرانے پارلیمنٹرین 2008 ء کی پی پی پی اور اے این پی کی مخلوط حکومت میں سینئر وزیر موقع ملنے کے باوجود وزیر اعلیٰ کی قربانی دی، پورے 5 سال تک سینئر وزیر کی حیثیت سے دشمنوں کو للکارتے رہے، 2013 ء میں دہشت گردوں نے ان کا قصہ ہی صاف کر
دیا۔ اے این پی کو 2013 ء میں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہ دی گئی۔ نگران تماشا دیکھتے رہے، امن و امان قائم کرنے والے ادارے بھی سیاسی تشدد کو روکنے میں نا کام رہے۔ اے این پی کے سربراہ اسنفد یار ولی نے اپنے بچے کچھے قافلے کے جانثاروں کو بچانے کے لیے انتخابی مہم ہی بند کر دی ۔ تہہ و بالا تو وہ پہلے ہی ہو چکے تھے۔ وہ جماعت جو کے پی کی نمبرون جماعت تھی ان کا راستہ 2013 ء میں بھی روکا گیا۔ مگر اب اسفند یار ولی ماضی کے جبر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں یہ کہا ہے کہ وہ 25 جولائی نے انتخاب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے ۔ وہاں انہوں نے فوج، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے لیے یہ سوال چھوڑا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ دھاندلی نہیں تو اور کیا ہے۔ انتخاب کو ایک ہی پلڑیمیں جھکا دیا گیا ہے اور میدان بھی ایک ہی پارٹی کو دینا ہو تو کے پی کے کے چیف سیکرٹری اور آئی جی ایسے ہی لگائے جاتے ہیں جو سیاسی کلچر تباہ و برباد ہوتا ہوا دیکھیں مگر وہ کچھ کرنے کے لیے تیار نیہں ہوتے ہارون بلور کی شہادت کے واقعہ میں غفلت برتی گئی ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے ذمہ دار چیف سیکرٹری اور آئی جی کے پی کے کو ٹھہرایا ہے۔ مگر نگران وزیراعلیٰ جو اعلیٰ عدلیہ کے جج رہے ہیں ان کا فرض ہے کہ ان کو تبدیل کرنا ہی کافی نہیں ان پر مقدمہ بھی چلنا ضروری ہے۔نامزد ملزموں میں ان کا نام بھی آنا چاہیے کیونکہ اس ایک واقعہ نے سیاسی قیادت کو خوفزدہ کر دیاہے۔ خوف زدہ کرنا ہی اصل مقصد ہے ایسے رنجیدہ اور خوف کے ماحول میں میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی لاہور آمد ہے وہ آج شام لاہور ایئر پورٹ پر اتریں گے ۔ تاکہ وہ ان سزاؤں کا مقابلہ گرفتاری دے کر کریں۔ آنے سے ایک روز قبل نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اداروں کے بارے مین کافی سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ انہوں نے انتخابی عمل کے بارے میں چیف الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ شفاف انتخابات کا عمل انہوں نے کسی اور کے ہاتھ میں دے دیا ہے ۔ یاد رہے اس سے پہلے بھی نواز شریف یہ کہتے آئے ہیں کہ ان کے امیدواروں کو ٹکٹ واپس کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف کے اس خدشہ میں حقیقت نظر آتی ہے۔
ماضی میں ایسا کم ہی ہواہے جیسا کہ سینٹ کے انتخاب میں صادق سنجرانی کو ایک خاص مشق کے ذریعے چیئر مین بنایا گیا پھر اچانک جنوبی صوبہ محاذ کا ایک فورم بن جائے اس میں (ن) لیگ کے ایم این ایز شامل ہوں پھر ان کو قومی اسمبلی کے ٹکٹ ملے بلکہ اس کے نیچے صوبائی ممبران بھی ان کا انتخاب تھے۔ پھر بلوچستان میں الگ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ ) کے نام پر قائم ہوئی ہو۔ ایسا بلوچستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ پھر سب سے بڑھ کر نواز شریف نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جیب والے کدگے سے آگئے نواز شریف کے ان تمام سوالوں کی تسلی بخش و ضاحتوں کے باوجود بہت سے سوالات اپنی جگہ موجود سب سے ہیں، اہم سوال یہ ہے کہ کوئی منے یا نہ مانے جو کچھ ہو رہا ہے یا ہوتا نظر آ رہا ہے انتخاب میں برابری کے مواقع نہیں ہے۔ پوری ریاستی مشینری نواز شریف کی گرفتاری کے لیے نہیں وہ نواز شریف کی حمایت میں ہونے والے طاقت کے مظاہرے سے خوف زدہ ہے۔ سیاست میں نئی ٹرائیکا قائم ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو تقریباً 43 دن پہلے وزیر اعظم تھے۔ ان کے انتخابی بینرز لگتے ہیں۔ اگلے دن اتار دیے جاتے ہیں۔ اب تو پیپلز پارٹی نے ان کی پارٹی کی قیادت آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ پر ہونے والے اقدامات کو پری پول بکنگ قرار دے دیا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے الیکشن کو مانیٹر کرنے والی ٹیمیں دیکھ رہی ہیں۔ کہ انتخابی ماحول کس طرح کنٹرول ہو رہا ہے۔ اور انتظامات پر سوالیہ نشان لگ گئے صرف عمران خان کے علاوہ تمام جماعتیں الزام لگانے کی طرف جا رہی ہیں۔ کہ انتخاب متنازعہ ہو رہے ہیں۔ یہ بد قسمتی کی بات ہو گی عمران خان کے لانگ مارچ سے شروع ہونے والا اسکرپٹ جس کی نشاندہی جاوید ہاشمی نے کی تھی کہ عدلیہ کے ذریعے نواز شریف جمہوریت کا نظام پلٹا جائے گا یہ الزام جاوید ہاشمی نے 2014 ء میں ہی تین لگایا تھا بلکہ نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے بعد بھی لگایا دلچسپ بات یہ ہے عدالت عظمیٰ جو چھوٹے معاملات پر لوگوں پر سیاست کے دروازے بند کر رہی ہے۔ جاوید ہاشمی نے عدالت کو متنازعہ بھی بنایا، سیکنڈائز بھی کیا۔عدالت کی توہیں تھی کہ ان پر توہین عدالت کیوں نہیں لگی ؟ نواز شریف کو ان لوگون نے مریم نواز کے سمدھی میاں منیر کے زریعے پیغام بھیجا کہ وہ لندن میں ہی رہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نواز شریف نے پیغام دیا اور اگلے روز پریس کانفرنس کر کے 13 جولائی کو پاکستان آنے کا اعلان کر دیا۔ سیاسی بحران تو اب شروع ہوا ہے۔


ای پیپر