’’ بر7۔۔۔‘‘
12 جولائی 2018 2018-07-12

دوستو،’’بر‘‘ اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور 'حرف ربط' مستعمل ہے ،عام طور پر ترکیبات میں بطور سابقہ مستعمل ہے، جیسے۔۔: برافروختہ، برآمد، برحق برآور وغیرہ۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے۔۔اگر آکسفورڈ ڈکشنری میں ’’بر‘‘ کے معنی تلاش کئے جائیں تو سو سے زائد معنی ملیں گے۔۔ لیکن ہم یہاں آپ کو اردو کی ٹیوشن پڑھانے سے گریز کریں گے اور سیدھی سادی ’’بر7‘‘ یعنی برسات سے متعلق کچھ باتیں کریں گے۔۔محکمہ موسمیات نے آج یعنی جمعہ کے روز لاہور میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔ گزشتہ کئی روز سے باغوں کے شہر میں گرمی کی شدت کا یہ حال تھا کہ ۔۔ غریب آدمی کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے بھی پسینے کی وجہ سے کڑک کاٹن کے بن جاتے ہیں۔کپڑوں پر بارش پہلے ہوتی ہے ان پر بادل بعد میں نظر آتے ہیں۔جبین نیاز پسینوں سے زمین پر سجدے کے نشان چھوڑ کر بندگی کا حق ادا کرتی ہے۔ مومن ہو یا کافر اس موسم میں ہمہ وقت باوضو رہتا ہے۔کافر نگاہیں ٹھنڈی ٹھنڈی زلفوں کی چھاؤں تلاش کرنے لگتی ہیں۔

یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بعض فصلوں کے لیے یہ بارش آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے مگر یہ بھی مستند حقیقت ہے کہ حشرات الارض خاص طورپر مچھروں کے لیے بھی یہ اکسیر کا حکم رکھتی ہے گویا دونوں فصلوں کی پیداواراسی بارش کا فیضان ہے۔بارشوں سے گلیا ں تو جل تھل ہو ہی جاتی ہیں ، سڑکیں بھی سیلابی نظر آتی ہیں۔ پیدل، (عقل سے نہیں) چلنے ولا بہ امر مجبوری سڑکوں پر چلے گا کیونکہ فٹ پاتھ تو پہلی ہی بارش میں گدے کے سرسے سینگ کی طرح غائب ہوجاتی ہیں۔ اب ہوتا یہی ہے کہ ہر پیدل چلنے ولا آنے جانے والے ٹریفک کو بھی راستہ دیتا ہے اور خود بھی زبانی ہارن دے کر پاس کرتا ہے۔ بارش کے موسم میں متوسط طبقہ جلدی جلدی گھر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے کہ دیکھیں کمرے کی چھت سے کتنے آبشار بہہ رہے ہیں۔ رہ گئے امراء تو فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ گھر سے نکلے تو کار، دفتر سے نکلے تو کار، اگر خراب ہوگئی تو بے کار، عموماً اس طبقے کے لوگ بارش میں بھیگنے کو ترستے ہیں۔

سنا ہے استاد علی اکبر خان کے گائے ہوئے راگ ملہار نے دہلی میں بارش کا سماں باندھ دیا تھا اسی طرح تان سین کے بعد کئی چوٹی کے فنکاروں نے میگھ ملہار اور میاں کی ملہار میں فن کی آخری سرحدوں کو چھو لیا تھا۔دہلی میں قائم جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے فارسی شعبے کے سربراہ پروفیسر اظہر کا تعلق دہلی کے قدیم خاندان سے ہے۔وہ دہلی میں برسات کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں، بارش کی پہلی پھوہار کے ساتھ ہی سیر سپاٹے اور تفریح کا آغاز ہو جاتا تھا۔ بیل گاڑیوں پر پکوان کا سامان لادے سارا گھرانہ مہرولی میں قطب مینار پہنچ جاتا۔ پیڑوں پر جھولے اور اینٹوں کے چولہے دہک اٹھتے۔ برسات کی ٹپ ٹپ کے ساتھ گرم گرم گلگلے اور مال پوڑے کھانے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ بالٹیوں میں رسیلے آم، دلفریب سماں کے درمیان وقت تیزی سے گزر جاتا۔۔ناصر کاظمی ،احمد فراز ،پرانے شعراء جیساکہ نظیر اکبر آبادی اور دیگر نے برسات پر بہت کچھ لکھا ہے۔نظیر اکبر آبادی نے تو بعض جگہ اس موسم کا مضحکہ بھی اڑایا ہے۔ہمارے ہاں جو موسم پسند کیا جاتا ہے مغرب والے اس سے نفرت کرتے ہیں اور ہمارے ہاں برسات ،بادل اور بارش کا سن کر حیران ہوتے ہیں کیوں کہ وہاں کے لوگ سورج کی روشنی کو ترستے ہیں اس لیے اس موسم میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جب کہ ہمارے ہاں اس موسم میں رومانس کا احساس جاگتا ہے۔ہجرو فراق اور مسرت و شادمانی کے شعر کہے جاتے ہیں۔پچھلے دنوں لاہور میں اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ پیرس دھل گیا اور نیچے سے لاہور نکل آیا۔۔یہ پوسٹ بھی بارشوں کے دوران بڑی وائرل ہوئی تھی۔

لیجنڈ مزاح نگار مشتاق یوسفی ’’موسموں کا شہر‘‘ میں فرماتے ہیں۔۔کراچی کے باشندوں کو غیر ملکی سیاحت پر اْکسانے میں آب و ہوا کا بڑا دخل ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انگلستان کا موسم اگر اتنا ظالم نہ ہوتا تو انگریز دوسرے ملکوں کو فتح کرنے ہر گز نہ نکلتے۔ مقامی چڑیا گھر میں جو بھی نیا جانور آتا ہے کچھ دن یہاں کی بہار جانفزا دیکھ کر کارپو ریشن کو پیارا ہوجاتا ہے اور جو جانور بچ جاتے ہیں ان کا تعلق اس مخلوق سے ہوتا ہے جس کو طبعی موت مرتے کم از کم میں نے نہیں دیکھا۔ مثلاً مگر مچھ ، ہاتھی، میونسپلٹی کا عملہ۔۔ہم نے کراچی کے ایک قدیم باشندے سے پوچھا کہ یہاں مون سون کا موسم کب آتا ہے؟ اس بزرگ باراں دیدہ نے نیلے آسمان کو تکتے ہوئے جواب دیا کہ چار سال پہلے بدھ کو آیا تھا۔یہ کہنا تو غلط ہوگا کہ کراچی میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ اسکا کوئی وقت اورپیمانہ معین نہیں لیکن جب ہوتی ہے تو اس انداز سے گویا کسی مست ہاتھی کو زکام ہوگیا ہے۔ سال کا بیشتر حصہ میں بادلوں سے ریت برستی رہتی ہے لیکن چھٹے چھ ماہے دو چار چھینٹے پڑ جائیں تو چٹیل میدانوں میں بہو بیٹیاں ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے نکل پڑتی ہیں۔ اس قسم کا موسم بے تحاشا ‘‘رش’’ لیتا ہے۔وہ انگریزی فلمیں جن میں بارش کے مناظر ہوتے ہیں کراچی میں خوب کامیاب ہوتی ہیں۔ جغرافیہ پڑھنے والے بچے انہیں خود دیکھتے اور والدین کو دکھاتے ہیں۔ صاحب استطاعت والدین اپنے بچوں کو بارش کا مطلب سمجھانے کے لیے راولپنڈی لے جاتے ہیں اور انہیں وہ ہرے بھرے لان بھی دکھاتے ہیں جن پر پانی ‘‘روپیہ’’ کی طرح بہا یا جاتا ہے۔۔۔

یادگار کے پاس ایک لہوری دوست اپنے دوست کو اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔ میں نے بیس سال میں ایک بات نوٹ کی ہے۔۔ دوست نے پوچھا ، وہ کیا؟؟۔۔ پہلا دوست کہنے لگا۔۔ جب بھی لاہور میں سیاہ بادل آتے ہیں ، برستے ضرور ہیں۔۔یہ تجربہ تو خیرپچھلے دو برس سے ہمیں بھی کافی ہوا ہے، لاہور میں رہتے ہیں جتنی برسات ہم نے دیکھی ہے کراچی میں چالیس سال رہتے ہوئے شاید کبھی اتنی برسات نہ دیکھ پائے۔۔ وہاں تو کبھی ’’اتفاق‘‘ سے سیاہ بادل آبھی جائیں تو صرف ’’غرارے‘‘ کرکے چلے جاتے ہیں۔۔یا پھر ’’نامعلوم افراد‘‘ کی طرح مشرق سے آکر مغرب کی طرف ’’روپوش‘‘ ہوجاتے ہیں۔۔گزشتہ ہفتے کی برسات کو جس طرح ’’سیاسی‘‘ کیش کیاگیا اس پر ہمیں بھی افسوس ہوا، جتنی برسات لاہور میں ہوتی ہے اگر اس کا عشرعشیر کراچی میں ہوجائے تو کئی ہفتوں تک کراچی میں معمولات زندگی معمول پر نہیں آسکتے۔۔ الیکشن بھی سر پر ہیں، گلی گلی انتخابی مہم چل رہی ہے، محلوں میں ٹینٹ،قناتیں اور تنبو لگ گئے ہیں ، جہاں دن رات پارٹی ترانے بج رہے ہیں۔۔ایک ایسے ہی انتخابی کیمپ میں کسی نون لیگی کارکن نے ایک بچے سے پوچھا۔۔ یہ بتاؤ، سانحہ اور نقصان میں کیا فرق ہوتا ہے؟۔۔ بچے نے بڑے ادب سے کہا۔۔ اگر شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب آجائے، سڑکیں بہہ جائیں، جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہوجائے۔۔سب کچھ تباہ ہوجائے ،تو یہ ہمارا قومی نقصان ہوگا۔۔ن لیگی کارکن نے اسے تھپکی دی اور کہا۔۔شاباش، اب یہ بتاؤ ، سانحہ کسے کہتے ہیں؟؟۔۔بچے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔ اگر آپ کی حکومت دوبارہ آجائے،تو یہ سانحہ ہوگا۔۔اسی لئے کہتے ہیں، بچے غیرسیاسی ہوتے ہیں۔۔۔

اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔کتے کو اپنی دْم نظر نہیں آتی جبکہ وہ سب کی دیکھ لیتا ہے۔ کچھ ایسے ہی تو بعض انسان ہوتے ہیں؛ دوسروں کو نصیحتیں کریں گے، مذمتیں کریں گے، مشورے دیں گے، فیصلے سْنائیں گے۔ ایک نہیں ہو پائے گا ان سے تو بس اپنے گریبان میں جھانکنا نہیں ہو پائے گا۔اس لئے اپنے گریبان میں جھانکنا سیکھئے۔۔زندگی آسان ہوجائے گی۔


ای پیپر