پری پول رگنگ
12 جولائی 2018 2018-07-12

اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو جمہوریت کا لفظ پہلی مرتبہ 507 قبل مسیح میں قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں استعمال ہوا۔ اس جمہوریت کا بانیCleisthenes تھا۔یہ براہ راست جمہوریت تھی۔ اس جمہوریت میں عوام ہی قانون دان تھی اور عوام براہ راست سرکاری عہدیداروں اور ججوں کا انتخاب کرتی تھی۔ عورتوں، 20 سال سے کم عمر بچوں، غلاموں اور غیر ملکیوں کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل نہیں تھا۔ یہ جمہوریت کی کمزور ترین شکل تھی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جمہوری نظام میں بھی جدت آتی گئی اور ووٹنگ کا نظام بھی پہلے سے زیادہ صاف اور شفاف ہوتا گیا۔ لیکن جدید دور کے مسائل بھی جدید ہی ہوتے ہیں۔ پہلے پہل الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کو تبدیل کرنا، جعلی ووٹ ڈلوانا، ووٹ چوری کرنا جیسے معملات زیر غور رہتے تھے اور ایسا کرنے کے عمل کو الیکشن ریگنگ کہا جاتا تھا۔ پھر نئی دنیا میں ایک نئی ٹرم استعمال ہوئی پری پول ریگنگ۔یعنی الیکشن سے پہلے دھاندلی کرنا۔ اس میں الیکشن کروانے والے عملے کو ساتھ ملانا اور اپنی مرضی کے حلقے میں عوام کے ووٹ بنوانا اور الیکشن سے پہلے ہی بیلٹ باکسز میں ووٹ ڈال دینا جیسے اقدامات شامل تھے۔اس طرح کی ریگنگ کو روکنے کے لیے باقاعدہ سزائیں متعین کی گئیں۔ اور انھیں قانون کا حصہ بھی بنا دیا گیا۔لیکن اکیسویں صدی میں ان تمام پری پول ریگنگ میں ایک نئی ریگنگ کا اضافہ ہو گیا ہے اور اس ریگنگ کو ایجاد کرنے کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔اس ریگنگ کا نام ہے عدالتی پری پول ریگنگ۔آئیے پاکستان میں عدالتی پری پول ریگنگ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
ملک پاکستان میں پچھلے دس سالوں سے جمہوری نظام تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ2013 میں کسی جمہوری سیاسی جماعت نے اپنی مدت پوری کی اور اب 2018 میں ن لیگ نے اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کیے ہیں۔ گو کہ جمہوری نظام چل رہا ہے لیکن الیکشن والے سال میں برسراقتدار پارٹیوں کے وزیراعظم کو عدالتوں کے ذریعے نااہل کرنے اور اپوزیشن جماعت کے کاموں کی تعریف کرنے کی روایت بھی قائم ہوئی ہے۔جس کا براہ راست اثر الیکشن پر پڑتا ہے اور برسراقتدار پارٹی الیکشن ہار جاتی ہے۔ الیکشن سے چند ماہ پہلے برسر اقتدار پارٹیوں کی عدالتوں کے ذریعے کردار کشی اور اپوزیشن پارٹیوں کی حوصلہ افزائی پری پول ریگنگ کی جدید شکل ہے اور پوری دنیا میں شاید پاکستان وہ واحد ملک ہے جو عدالتی پری پول ریگنگ کا شکار ہو گیاہے۔
پاکستان میں عدالتیں کس طرح پری پول ریگنگ کا حصہ بن رہی ہیں اس کی تازہ مثال الیکشن سے پچیس دن پہلے چیف جسٹس پاکستان کا شیخ رشید کے راولپنڈی زچہ بچہ ہسپتال کا دورہ ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے 01 جولائی 2018 کو شیخ رشید کے شروع کیے ہوئے نامکمل منصوبے راولپنڈی زچہ بچہ ہسپتال کا دورہ کیا۔ اس دورے کے موقع پر شیخ رشید چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔ شیخ صاحب انتہائی سنجیدگی اور پھرتیوں کے ساتھ چیف جسٹس صاحب کو ہسپتال کے بارے میں بتاتے رہے اورچیف صاحب بھی انتہائی سنجیدگی سے ان کی باتوں پر رسپانس کرتے رہے۔ چیف جسٹس صاحب نے سائٹ پرہی حکم دیا کہ ہسپتال کا کام جلد مکمل کیا جائے۔ چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ ہسپتال کے لیے فنڈز فوری جاری کیے جائیں گے اور عدالت اس معاملے پر ہر طرح سے تعاون کرنے کو تیار ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ پوری دنیا کی عدالتی تاریخ کی یہ واحداورانوکھی مثال ہے۔
آپ چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس دورے کو سامنے رکھیں اور غور کریں کہ الیکشن سے ایک ماہ قبل ایک سیاسی امیدوار کے ساتھ جا کر اس کے ہسپتال کا دورہ کرنا کیا چیف جسٹس صاحب کو زیب دیتا ہے؟ چیف جسٹس صاحب کے جانے سے کیا حلقے کی عوام یہ تاثر نہیں لے گی کہ جج صاحب شیخ رشید کو سپورٹ کر رہے ہیں؟ شیخ رشید کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر چلنے سے کیا چیف جسٹس صاحب نیوٹرل دکھائی دے سکتے ہیں؟ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ چیف جسٹس صاحب نے ہسپتال کی تعمیر کا حکم دے کر بہت اچھا کیا ہے۔ اس فیصلے سے یقیناًعوام کو بہت فائدہ ہو گا اور جو لوگ اس ہسپتال سے مستفید ہوں گے وہ چیف جسٹس صاحب کو ہمیشہ دعائیں دیں گے۔ لیکن اچھا کام کرنے کا بھی وقت ہوتا ہے۔ ہر اچھا کام کسی بھی وقت نہیں کیا جا سکتا۔نماز ، روزہ، حج اور زکوت جیسے نیک اور اچھے اعمال سے مستفید ہونے کے لیے بھی انھیں مقرر کیے گے اوقات پر ادا کرنا ضروری ہے ورنہ چاہے آپ کی نیت کتنی ہی صاف کیوں نہ ہو آپ ان نیک اعمال کا ثواب نہیں کما سکتے بلکہ غلط اوقات میں یہ اعمال ادا کرنے سے گناہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔چیف جسٹس صاحب نے بلاشبہ بہت اچھا کام کیا ہے لیکن اس کام کو کرنے کے لیے غلط وقت کا انتخاب کیا ہے۔ جو کام چیف جسٹس نے الیکشن سے پچیس دن قبل کیا ہے وہی کام الیکشن کے فوری بعد چھبیس یا ستائیس جولائی کو بھی ہو سکتا تھا۔ جہاں یہ ہسپتال دس سال سے التوا کا شکار ہے وہاں بچیس دن مزید تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔ میں چیف جسٹس صاحب کی نیت پر شک نہیں کر رہا لیکن اگر چیف جسٹس صاحب قسمیں کھا کر بھی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کریں کہ میرا مقصد شیخ رشید کو سپورٹ کرنا نہیں تھا تو عوام اسے سچ نہیں مانیں گے۔ کیونکہ چاہے جانے انجانے میں ہی سہی لیکن چیف صاحب کے جانے سے شیخ رشید کو عوام کی سپورٹ تو حاصل ہو گئی ہے اور سیاسی حلقوں میں یہ پیغام بھی پہنچ گیا ہے کہ ملک پاکستان کی سب سے بڑی اور طاقتور عدالت کا چیف شیخ رشید کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان سے گزارش ہے کہ کسی دن فرصت کے لمحات میں آپ خود کا احتساب کریں اور خود سے سوال کریں کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ پری پول ریگنگ ہے یا نہیں؟ آپ خود سے پوچھیں کہ کیا آپ کو شیخ رشید کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہیے تھا؟ آپ جائزہ لیں کہ کیا آپ نے جانے انجانے میں شیخ رشید کی الیکشن مہم میں جان نہیں ڈالی؟ مجھے یقین ہے کہ آپ جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ آپ عدالتی پری پول ریگنگ کا حصہ بنے ہیں اور جس دن آپ خود کو قصوروار ٹہرانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس دن خود کو سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سامنے پیش کردیں اور عدالت جو سزا دے اسے قبول کریں۔ میرا ایمان ہے جس دن آپ نے یہ کام کر دیا وہ دن پاکستان میں عدالتی پری پول ریگنگ کا آخری دن ہو گا اور پاکستانی عوام جسم کی آخری سانس تک آپ کا یہ احسان نہیں بھولے گی اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو پاکستانی عوام آپ کو عدالتی پری پول ریگنگ کے موجد کے طور پر یاد رکھے گی اور ہماری آنے والی نسلیں آپ کا نام لینا بھی پسند نہیں کریں گی۔


ای پیپر