سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشوراور نواز شریف کی وطن واپسی
12 جولائی 2018 2018-07-12

ملکی سیاسی صورتحال دن بدن بڑی تیز سے تبدیل ہو ر ہی ہے۔چند دن قبل مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف ، پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری ’’کو چیئرمین‘‘ آصف علی زرداری اور پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان نے اپنی اپنی پارٹیوں کے انتخابی منشور قوم کے سامنے پیش کئے ہیں ۔ انتخابی منشور در حقیقت کسی بھی سیاسی پارٹی کے بر سر اقتدار آکر عوام کی فلاح و بہبود سمیت خدمت خلق کے ایجنڈے کی تکمیل کو سمجھنے کا اہم ذریعہ سمجھاجاتا ہے ۔ اگرموجودہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یوں محسوس ہو تا ہے کہ یہ منشور انتخابی سے زیادہ خلائی ہیں
کیونکہ ان میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ملتی جو وطن عزیز کو درپیش مسائل اور زمینی حقائق سے مناسبت رکھتی ہو۔یہ ہمارا المیہ رہا ہے کہ بحیثیت قوم ہم نے ہر شعبدہ باز کی شعبد بازیوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔اور ان پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کیا ۔ 2013کے انتخابات میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے ۔قوم جب ووٹ کی پرچی کا استعمال کرے تو یہ بات ضرور ذہین نشین کر لے کہ اس کے ووٹ کے نتیجہ میں بننے والی حکومت کے سیاہ و سفید کاموں میں وہ بھی برابر کے شریک ہے۔لہذا بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا وقت ہے ۔ہمیں ہر قسم کے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا ۔
اب بات کرتے ہیں گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفورکی جانب سے کی جانے والی اہم پریس کانفر نس کی ۔پریس کا نفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال پر میجر صاحب نے کہا کہ ’’ پاکستان کے عوام جس کو بھی ووٹ کے ذریعے اپنا وزیر اعظم چنتے ہیں وہ عوام اور ہمارے وزیر اعظم ہیں۔‘‘ اس پریس کا نفرنس نے الیکشن کے التوا ء بارے بہت سارے شک و شہبات کو دور کر دیا ہے ۔وہ طبقہ جو تاحال ملک میں عام انتخابات بارے غیر یقینی کا شکار تھا اسکے تحفظات اور خدشات اب ختم ہو جانے چاہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے بہت سارے سیاسی نوعیت کے سوالات کے جوابات خندہ پیشانی سے دیئے ۔اور واضح کیا کہ آرمی کا کسی پولیٹیکل پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔فوج کا کام انتخابات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانا اور اس سارے عمل میں تعاؤن کرنا ہے
قبل ازیں مسلم لیگ(ن ) کے قائد میاں محمد نواز شریف ، انکی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو بالترتیب گیارہ سال،آٹھ سال اور ایک سال کی قید با مشقت احتساب عدالت کی جانب سے سنا دی گئی ہے ۔ اس سزا کو لے کر مسلم لیگ (ن ) کے سیاسی مخالفین خوش دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب سے مسلم لیگ ( نواز ) کے رہنما اس پر کڑی تنقید کررہے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ میاں صاحب کو سزا کرپشن پر نہیں ہوئی ۔ان پر کسی قسم کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی ۔عوامی حلقوں کا خیال اور رحجان اس کے برعکس معلوم ہو تا ہے ۔لوگ ملک میں تبدیلی چاہے ہیں ۔اور اس خلاء کو پی ٹی آئی کافی حد تک پر کرتی نظر آتی ہے ۔عوام کا یہ تاثر دیکھ کر خود مسلم لیگ کے انتخابی امیدوار بھی پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔جس کا ثبوت ایاز صادق کی سٹیٹمنٹ سے ملتا ہے جس میں ا ن کا کہنا تھا کہ ’’ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا نقصان مسلم لیگ ن کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کو بھی ہو گا ‘‘یہ بیان سمجھنے سمجھانے والوں کے لئے بہت کچھ واضح کر گیا ہے ۔اب جب کہ نواز شریف ملک واپس آنے کا اعلان کر چکے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ انکی واپسی سے ۔۔ انکی اپنی ہی پارٹی کے کچھ لوگ۔۔ جو نہیں چاہتے تھے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان واپس آئیں اور یہاں انکی انتخابی مہم میں مسائل پیدا کریں یقینی طور پرفکرمند ضرور ہونگے ۔بہر کیف نواز شریف نے وطن واپسی کا بر وقت اعلان کر کے ایک اچھا سیاسی فیصلہ کیا ہے ۔ یہ مستقبل کی سیاست پر اثرات مرتب کرے گا ۔موجودہ حالات دن
بدن بڑی تیزی سے تبد یل ہو رہے ہیں۔35ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری انکی بہن فریال تالپور سمیت دیگر ملوث افراد کے نام ’’ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ‘‘ میں ڈالنے کی استدعا کا منظور ہونا، پیپلز پارٹی کی صفوں میں ہلچل مچا گیا ہے ۔وہ زرداری جو چند دن پہلے بڑے پر اعتماد نظر آتے تھے اور انتخابی مہم میں بلند و بانگ دعوے کرتے سنائی دیتے تھے اچانک فرنٹ فٹ سے بیک فٹ پر چلے گئے ہیں۔کچھ سنجیدہ حلقے اس اہم تبدیلی کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ان کا خیا ل ہے کہ نواز شریف اور زرداری دونوں مکافات عمل کا شکار ہو چکے ہیں ۔اور وہی کاٹنے جا رہے ہیں جو انھوں نے بویا تھا ۔


ای پیپر