سزا کرپشن میں اور آمد ہیرو کی مانند
12 جولائی 2018 2018-07-12

کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ نیب سے سزا یافتہ مجرم کیپٹن صفدر نے ریلی کی شکل میں گرفتاری پیش کی ۔ کچھ اسی انداز میں گرفتاریاں پیش کرنے کا ارادہ سابق وزیرِ اعظم اور ان کی صاحبزادی کی جانب سے بھی ظاہر کیا گیا ہے اور وہ بڑے فخر کے ساتھ واپسی کا فضائی شیڈول پیش کر کے کارکنوں کو والہانہ استقبال کا پیغام دے رہے ہیں۔ ایک نہایت سادہ کرپشن کے مقدمے کو قانونی ماہرین کے ذریعے الجھا کر ملزمان کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ شریف خاندان تقریباً گزشتہ 4دہائیوں سے ملک میں مختلف عہدوں پر فائز رہا ہے اور اچانک پانامہ لیکس میں آپ کے بہت سارے اثاثے منظرِ عام پر آ گئے۔ نیب قوانین کے مطابق ملزم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کے بارے میں ثبوت پیش کرے کہ وہ جائز اور قانونی ذرائع سے خریدے گئے ہیں۔ انہیں صفائی کا پورا موقع دیا گیا
لیکن نیب عدالت میں نو ماہ تک اپنے حق میں کوئی بھی ایسے شواہد پیش نہیں کر سکے جو ان کو بے گناہ ثابت کرتے لہٰذا سزا ہو گئی ہے۔ ان باتوں کو نظر انداز کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کے خلاف یہ مقدمات من گھڑت ہیں۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ شریف خاندان نے یہ فلیٹس کرپشن کی کمائی سے نہیں خریدے تو پھر بھی کیا یہ درست ہے کہ ایک غریب اور مسائل زدہ ملک کے تین بار تک منتخب ہونے والے وزیرِ اعظم نے کسی دوسرے ملک میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ وطنِ عزیز کے تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن شریف خاندان نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دیارِ غیر میں کی ہوئی ہے۔ اگر لوٹی ہوئی قومی دولت ریاست کے اندر رہتی تو اندرونی سرمایہ کاری سے عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے مگر 22کروڑ عوام کے ساتھ ظلم یہ ہوا کہ ان کا سرمایہ لوٹ کر پاکستان سے باہر منتقل کر دیا گیا۔
پاکستان میں فوجی جرنیل اقتدار پر قبضہ کرتے رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر سیاست دان عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر کروڑوں سے نہیں اربوں اور کھربوں سے اپنی تجوریاں بھرتے رہیں گے اور قومی ترجیحات سے رو گردانی کرتے رہیں گے تو پھر فوج کو مداخلت کا موقع ملے گا اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔اس وقت پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ جنرل کیانی سے لے کر جنرل باجوہ تک جتنے بھی آرمی چیف آئے ہیں انہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدلیہ نے بھی بارہا اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ کسی ایڈوینچر کے نتیجے میں آنے والے ماورائے جمہوریت کسی ماڈل کی ہر گز حمایت نہیں کرے گی۔ تاہم سیاست دان ہیں کہ اپنی کم عقلیوں سے ایسے مواقع پیدا کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ پانامہ لیکس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد جب مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کو ان کے مبینہ جرائم کی پاداش میں نا اہل کیا گیا تومسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا اور وزیرِ اعظم اور وزراء نے کبھی اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت پر زور دیاتو کبھی خلائی مخلوق جیسے القابات استعمال کرنا شروع کر دیے اور اب فوج کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی باتیں کھلے عام کی جا رہی ہیں۔ ڈان لیکس کے بعد یہ دوسری سازشیں ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں۔ امریکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کو سپانسر کرتا ہے، وہ خود دہشت گرد پیدا کرتا ہے اور پھر خود ہی ان سے دنیا کے سامنے لڑتا ہے اور اپنے مقاصد بھی بڑی آسانی سے حاصل کر لیتا ہے۔ پینٹا گون اور وائٹ ہاؤس میں اندرونی سطح پر بہت اختلافات ہوتے ہیں لیکن کبھی عالمی منظر نامے پر کسی نے آج تک اس نوعیت کی بیان بازی نہیں کی ۔ مگر ہم ہیں کہ ذاتی مفادات کی لت میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ ہمیں اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ عالمی سامراج کو ایشیا کے اندر جس مزحمت کا سامنا ہے اس میں ایک اہم کردار ہمارے اداروں کا بھی ہے، جب اپنے ملک کے اہم عہدوں پر فائز لوگ ایسے بیانات دیں گے تو ان کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف تاریخی اور دیگر وجوہات کی بناء پر قیامِ پاکستان کے وقت نہ ہمارے عوام تربیت یافتہ تھے اور نہ ہی سیاست دان جب کہ دشمنوں میں گھرا ہوا یہ نو زائیدا ملک طرح طرح کے غیر معمولی مسائل میں بھی مبتلا تھا۔ سو ہوا یہ کہ ایک طرف تو قیادت کا خلاء پیدا ہو گیا اور دوسری طرف ڈسپلن اور تربیت کا فقدان۔ عوام میں ایثار،قربانی، خدمت اور قناعت کی جگہ لالچ، بے بسی، تشدد اور نفسا نفسی کے رویوں نے راستہ بنا لیا اور سیاست میں تدبر اور امورِ مملکت چلانے کی مطلوبہ قابلیت کی کمی نے گٹھ جوڑ اور ایڈہاک ازم کو فروغ دیا اور سیاست کے میدان میں ایسے لوگ در آئے جو ہنگامی
صورتحال کی پیداوار تھے جس کے لئے وہ اہل نہیں تھے۔ پاکستان جب قائم ہوا تو کرپشن نہ ہونے کے برابر تھی اب 70سالوں کے بعد لگتا ہے کہ کرپشن کے سوا کچھ نہیں۔ جب بھی کہیں سے کوئی زرہ سا پردہ سرکتا ہے تو پیچھے کرپٹ لوگوں کے سر ہی سر نظر آنے لگتے ہیں۔ 80کی دہائی تک کرپشن اتنی عام نہیں تھی ، سیاسی چکر بہت چلتے تھے اور اس وجہ سے کسی سیاستدان سے اس کے ساتھی ڈرتے بھی تھے لیکن کوئی کسی پر الزام نہیں لگاتا تھا کہ وہ مال بنا رہا ہے۔ کرپشن کا زیادہ رواج جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہوا جب غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے اور عہدوں کے لئے یا تو رشوت پیش کی گئی یا پھر اراکینِ اسمبلی کو چھانگا مانگا ٹھرایا گیا۔ غضب خدا کا 3دہائیوں میں لوٹ مار کی تاریخ رقم کی گئی ہے اور ملکی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا۔ ایک وقت تھا سکندر مرزا جیسے دبنگ حکمران لندن جلا وطن ہوئے تو وہ لندن
کے ایک ہوٹل میں ملازم ہو گئے۔ لیکن آج یہ صورتحال ہے کہ جو بھی ہمارے ملک میں حکومت کرتا ہے اس کے باہر کے ممالک میں محل ہوتے ہیں اور خود سے جلاوطن ہو کر میاں نواز شریف کی طرح اپنے محلات میں جا ٹہرتا ہے۔ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد پاکستان میں با اثر افراد کے احتساب کا راستہ کھل گیا ہے۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ احتساب کا عمل آگے بڑھے گا اور انتخابات کے بعد جو بھی نئی حکومت آئے گی اس پر بھی احتساب کا بڑا دباؤ ہو گا۔ احتساب کے عمل سے رو گردانی کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس وقت قوم کو اپنی عدالتِ عظمیٰ پر اعتماد ہے، توقع یہی ہے کہ ہماری عدالتِ عظمیٰ وہ پیسہ واپس لائے گی جو ڈاکہ میں لوٹا گیا ہے۔ ہم دنیا میں جتنے بدنام ہوئے ہیں وہ ہیں ہی ، ہم اپنے آپ سے بھی شرمندہ ہیں اور عین ممکن ہے یہی شرمندگی ہمیں اصلاح پر آمادہ کر دے۔


ای پیپر