عالمی سلامتی مگر کیسے
12 جولائی 2018 2018-07-12

جب انسان غلطی کرتا ہے تو اس کو اپنی کوتاہی کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ وہ غلطی چھوٹی ہو یا بڑی۔ لیکن یہ غلطی اس آدمی کے لئے معمولی یا شدید خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے بعد انسان اس پر غور و فکر کرتا ہے کہ یہ غلطی کیسے سر زد ہوئی اور اس کی کیسے تلافی ہو گی ۔ اس کے بعدوہ اپنے آپ سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ آنے والے وقت میں ایسی خطا نہیں کرے گا ۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہی آدمی وہی فعل سرانجام دیتا ہے جوکہ اس کے لئے تکلیف کا باعث بناتو ایسی صورت میں وہ ایسے جال میں پھنس سکتا ہے جہاں سے نکلنا اس کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔
اسی طرح جب ہم لیگ آف نیشنز (مجلس اقوام )کا ذکر کرتے ہیں تو فوری طور پر پہلی جنگ عظیم ہمارے ذہنوں میں آجاتی ہے اور یہی جنگ مجلس اقوام کے ادارے کو وجود میں لانے کا با عث بنی ۔پہلی عالمی جنگ 1914ء میں شروع ہوئی اور جب یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تو ایک عالمی انجمن کی ضرورت محسوس ہونے لگی جو بین الاقوامی اتحاد اور اجتماعی تحفظ کی ضامن ہو ۔چنانچہ امریکی صدر ولسن کی جدوجہد کی بدولت مجلس اقوام تشکیل دے دی گئی ۔
مجلس اقوام کے ادارے کا سب سے اہم مقصد دنیامیں امن و امان قائم رکھنا تھا۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سب سے اہم ضرورت اس بات کی تھی کہ دنیا کے تمام ممالک اس کی رکنیت حاصل کریں لیکن ایسا نہ ہوا ۔ مجلس اقوام کا ادارہ امریکہ کے کہنے پر وجود میں آیالیکن امریکہ خود اس کا باقاعدہ ممبر نہ بن سکاکیونکہ امریکی پارلیمنٹ نے مجلس اقوام میں شمولیت کی قرار داد کو نامنظور کر دیا تھا۔اس ادارے کی ناکامی اسی وقت شروع ہو گئی تھی جس وقت امریکہ نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔
سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ مجلس اقوام کا ادارہ معاہد ہ ورسیلز کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ یہ معاہد ہ خود ایک انتقام سے بھرا ہوا معاہد ہ تھا۔ معاہدہ ورسیلز حقیقت میں اتحادیوں برطانیہ ، فرانس وغیرہ کے باالمقابل شکست خوردہ محوری طاقتوں جرمنی وغیرہ کے خلا ف ایک انتقامی کاروائی پر مشتمل تھا۔جرمنی کی اس حد تک تذلیل کی گئی اور اس کو یہاں تک مجبور کر دیا گیاکہ اتحادیوں نے اپنی مرضی کی شرائط عائد کرکے جرمنی کو دھمکی دی کہ جرمنی نے اس معاہدے پر دستخط نہ کئے تو تمام اتحادی ممالک اس پر حملہ کر دے گے۔
نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جرمنی نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے اور اس معاہدے کی رو سے جرمنی کو اپنے بہت سے علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔اس کی فوج میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی فوجی کاروائیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔جرمنی وقتی طور پر اپنی تذلیل برداشت کر گیا لیکن اس کا رد عمل یہ ہوا کہ جرمنی انتقام کی آگ میں سلگنے لگا۔
ان زیادیوں کی وجہ سے جرمنی کی عوام کے اندر انتقام کی آگ بھڑکنے لگی اور جرمنی کی قیادت ہٹلر کے ہاتھ میں آگئی ۔جرمنی کی قوم اپنی تذلیل کا بدلہ لینے کے لئے تیا رہو گئی۔جنگ عظیم اول میں جرمنی کا ساتھ دینے والے ملکوں سے بھی تذلیل آمیز سلوک کیا گیا۔ ان ملکوں میں بھی انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ ممالک بھی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے تیا ر ہو گئے۔
یہ پہلو بڑا توجہ طلب ہے کہ مجلس اقوام میں زیادہ تر بڑی طاقتیں شامل تھیں جو اپنی من مرضی کرتی رہتی تھیں جس کی وجہ سے دن بدن دنیا میں انتشار اور بے چینی بڑھتی گئی ۔بڑی طاقتوں نے چھوٹے ملکوں پر رعب جمانا شروع کر دیاجس کے باعث چھوٹی اور پسماندہ ریاستوں میں عدم تحفظ کا احساس پید ا ہو گیا۔بڑے ملک ہونے کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ جو فیصلے بھی کرتے تھے وہ چھوٹی طاقتوں کو اپنی کمزوری کا احساس دلاتے تھے ۔کیونکہ ان فیصلوں میں نہ تو انصاف کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا اور نہ ہی چھوٹی طاقتوں کے مفادات کو سامنے رکھا جاتا تھا۔بڑے ملکوں کی اجارہ داری ہی مجلس اقوام کی ناکامی کا باعث بنی۔
مجلس اقوام نے جو قوانین بنائے تھے ان پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی۔جن ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کئے تھے وہ بھی اس کی خلاف ورزی کرنے لگے ۔ جب یہ ادارہ اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین پر عمل درآمد نہ کر اسکا۔ جس کی وجہ سے اس ادارے کا مقصد بالکل ہی ختم ہو گیا۔
اس ادارے کی ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی ناکامی کے باعث 1939ء کو دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی اور اس جنگ میں پہلی جنگ عظیم کے مقابلے میں بہت زیادہ تباہی ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم میں حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے ۔ جس کی وجہ سے بہت زیادہ تباہی ہوئی۔
دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں سے متاثر ہو کر دنیا کے ممالک اکٹھے ہوئے اور انہوں نے دنیا میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ۔جس کے تحت 1945ء میں اقوام متحدہ کے ادارے کا قیام عمل میں آیا۔
مجلس اقوام اور اقوام متحدہ دونوں ادارے امریکہ کی کوششوں سے وجود میں آئے لیکن دونوں میں فرق یہ تھا کہ مجلس اقوام میں امریکہ نے شمولیت اختیار نہیں کی جبکہ اقوام متحدہ کا امریکہ باقاعدہ رکن بنا۔اقوام متحدہ کا اصل مقصدیہ ہے کہ وہ دنیا میں امن و امان قائم رکھے اور ایسے قوانین اور اصول بنائے تا کہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پید ا نہ ہو سکے۔


ای پیپر