صحافی کالونی: قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی
12 جولائی 2018 2018-07-12

چند روز قبل لاہور کی صحافی کالونی جانے کا اتفاق ہوا۔ ہربنس پورہ پل کے فوری بعد نہر کے سر سبز و شاداب کنارے پر لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سکیم نامی یہ بستی دیکھ کر دل خوش ہوا۔۔۔ اور سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے لیے دل سے دعائیں نکلیں جنہوں نے لاہور کے صحافیوں کو چھت فراہم کرنے کا نیک کام کیا۔ کالونی کی کشادہ سڑکیں، بنیادی سہولیات کی موجودگی، وسیع و عریض پارک، پر فضا و پر سکون ماحول اور خوبصورت پر شکوہ مسجد دیکھ کر مزید خوشی ہوئی ۔ اہل علم کی اس بستی کے قیام ،اور یہاں ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ چوہدری پرویز الٰہی کو جاتا ہے جنہوں نے ذاتی دلچسپی لے کر اس منصوبے کو مکمل کرایا۔ ملکی سیاستدانوں میں سب سے طویل اور قابل ذکر سیاسی کیریئر رکھنے والے چوہدری پرویز الٰہی 2002ء میں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو اس وقت صحافی تنظیموں کے صرف دو دھڑے تھے ۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے دونوں دھڑوں نے نئے وزیراعلیٰ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ اور لاہور کے صحافیوں کے
لیے کالونی بنانے کا مطالبہ کیا۔ یہی مطالبہ لاہور پریس کلب کی جانب سے بھی اٹھایا جارہا تھا چنانچہ وزیراعلیٰ نے لاہور کے چیدہ چیدہ صحافیوں کا ایک اجلاس بلایا اور صحافی کالونی بنانے کا اعلان کر دیا۔ اس کالونی کے لیے انہوں نے پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی۔ جس کے ارکان میں لاہور پریس کلب نے اس وقت کے صدر ارشد انصاری،پی یو جے (برنا) کے صدر بخت گیر چوہدری، پی یو جے دستور کے صدر (راقم الحروف) پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے صدر خواجہ فرخ سعید اور فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال چوہدری شامل تھے۔ جبکہ بزرگ صحافی انور قدوائی مرحوم کو وزیراعلیٰ نے کمیٹی میں خصوصی طور پر شامل کیا۔۔۔ یہ کمیٹی تو بوجوہ زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ لیکن اس وقت کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان کی معاونت سے چوہدری پرویز الٰہی اور ارشد انصاری نے صحافی کالونی کے لیے زمین کی تلاش و انتقال ، فنڈز کی فراہمی، ترقیاتی کاموں کے آغاز اور صحافیوں کو الاٹمنٹ لیٹرز کی تقسیم کا کام تیزی سے مکمل کیا جبکہ کلب کے موجودہ صدر اعظم چوہدری اوجنرل ر سیکرٹری عبدالمجید ساجد نے قبضہ مافیا سے صحافیوں کے 200 کے قریب پلاٹوں کو واگزار کرایا اور ایف بلاک کے الاٹیوں کے لیے 2013ء میں جو متصل اراضی حاصل کی گئی تھی، اس پر چار دیواری کروا کر یہ پلاٹ صحافی مالکان کے حوالے کر دیئے ہیں۔ اس وقت صحافی کالونی کا بڑا حصہ آباد ہو چکا ہے۔ جدید طرز کے مکانات خوش کن منظر پیش کر رہے ہیں۔ کمیونٹی سنٹر اور اسلامک ریسرچ سنٹر کے قیام سے یہ فضا مزید خوبصورت ہو جائے گی۔
اس خوش کن منظر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کالونی کے کئی مکین تو یہاں منتقل ہونے سے قبل ہی اگلے جہاں کو سدھار گئے جبکہ کچھ کو بہت کم وقت اپنے خوابوں کی اس بستی میں گزارنے کا موقع ملا۔ کالونی میں داخل ہوتے ہی پی ٹی وی کے ضیاء الرحمن امجد کا زیر تعمیر گھر نظر آتا ہے۔ جس کی تعمیر اُن کی وفات کے بعد اُن کے ورثاء نے شروع کی ہے۔ چند قدم پر سید عباس اطہر کا گھر ہے وہ گھر تو اپنی زندگی ہی میں تعمیر کرا چکے تھے لیکن انہیں یہاں منتقل ہونے کا موقع نہ مل سکا۔ ذرا آگے اختر حیات مرحوم کا گھر ایک اور داستان کے ساتھ موجود ہے۔ اُن کی اہلیہ نے جمع پونجی اکٹھی کی اور خود کھڑے ہو کر مکان تعمیر کرایا۔ نئے گھر میں منتقل ہونے کا دن اور تاریخ بھی مقرر ہو گئی کہ اللہ کے ہاں سے اُن کا بلاوا آ گیا اور اسی آبائی سسرالی گھر سے اُن کا جنازہ اٹھا جہاں وہ ڈولی میں آئی تھیں۔ سال ڈیڑھ سال بعد اختر حیات بھی ایک ٹریفک حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اُن کا جنازہ اُسی نو تعمیر شدہ گھر سے اُٹھا۔ صحافی کالونی سے اٹھنے والا کسی صحافی کا یہ پہلا جنازہ تھا۔ اگرچہ اس سے قبل نوائے وقت کے ارشد حسین باصر کالونی میں اپنے زیر تعمیر مکان میں انتقال کر چکے تھے لیکن اُن کا جنازہ کہیں اور سے اُٹھا۔ ان دونوں گھروں کے پڑوس میں جناب اسرار بخاری کا گھر ہے۔ اُن کی اہلیہ کوئی دو سال کالونی میں مقیم رہنے کے بعد اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ قریب ہی فاخر ملک کا گھر ان کی اہلیہ کے انتقال کے بعد سے خالی پڑا ہے۔ البتہ شیخ آفتاب حنیف اہلیہ کے انتقال کے بعد بچوں کے ساتھ اسی کالونی میں آباد ہیں۔ دو سال قبل جس وقت رمضان کا چاند طلوع ہو رہا تھا لاہور کے صحافی اپنے ساتھی، بہترین مترجم اور کئی کتابوں کے مصنف نعیم اللہ ملک کو صحافی کالونی کے قبرستان کی ایک لحد میں اتارہے تھے۔ پھر چند ہفتوں بعد فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدراظہر جعفری کی اسی قبرستان کے سامنے والے چوک میں نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی اور ابھی رمضان سے چند روز قبل شریف النفس اور محنتی صحافی اور دنیا نیوز کے سینئر پروڈیوسر سہیل جاوید کا جنازہ ادا کیا گیا جو ایک ماہ قبل ہی اپنا مکان تعمیر کر کے صحافی کالونی میں منتقل ہوئے تھے۔ اس عرصے میں بہت سے ایسے صحافی بھی تھے جو کالونی شفٹ ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ ان کا بلاوا آگیا۔ ان میں سید انور قدوائی، منو بھائی، آئی ایچ راشد، سعادت خیالی،عزیز مظہر، محمود زمان، طارق جاوید، طلعت محمود، ذوالقرنین، منصور طیب، زاہد علی خان، مرزا شفیق، رؤف شیخ ، ادریس بٹ، آصف شیخ اور کئی دیگر شامل تھے۔ اللہ ان کی روحوں کو آسودہ رکھے۔ اب یہ کالونی امتیاز راشد، اسرار بخاری، تجمل گورمانی، اعجاز حفیظ، انتخاب حنیف،شاہد شیخ، شعیب چاچو، ایم بی شاہد، ساجد ضیاء، جواد جعفری، طیبہ ضیاء، رانا غلام قادر، وسیم نیاز اور دیگر کے دم قدم سے آباد ہے۔
صحافی کالونی کی ابتدائی شکل و صورت کے نکل آنے کے بعد الاٹمنٹ لیٹرز کی تقسیم شروع ہوئی تو کچھ صحافیوں نے ایک اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے پلاٹ لینے سے معذرت کر لی۔ علیم عثمان کا مؤقف تھا کہ صحافی کا کام حکومتوں اور حکمرانوں پر تنقید کرنا ہے۔ اس لیے اُن ہی حکمرانوں سے پلاٹ لینے کا اخلاقی جواز نہیں ہے۔یہ کام حکومت نہیں آجر کریں۔دی نیشن کے خاور ملک کا کہنا تھا کہ وہ کسی آمرانہ حکومت سے پلاٹ نہیں لیں گے۔ یاد رہے کہ یہ جنرل پرویز مشرف کا دورِ اقتدار تھا۔ جناب ایم اے نیازی کی رائے میں چونکہ اُن کے پاس پہلے سے ایک گھر موجود تھا، اس لیے وہ دوسرے گھر کی عیاشی کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ جناب حسین نقی اور آئی اے رحمن نے یہ کہہ کر اپنے پلاٹ سرنڈر کر دیئے کہ اُن کے پاس بھی گھر ہیں، اُن کے پلاٹ دوسرے حقدار صحافیوں کو دے دیئے جائیں،چاچا رفیق میر نے نہ صرف اسے صحافتی اقدار کے منافی قرار دیا بلکہ اس معاملہ میں اصرار کرنے والے ایک سرکاری افسر کی طبیعت بھی صاف کردی،،،خوشی ہوتی ہے کہ
’’ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں ہے‘‘
صحافی کالونی کے قیام اور تعمیر و ترقی میں جس جس کا کوئی کردار ہے لاہور کی صحافی برادری ان کے لیے ہمیشہدعا گورہے گی،، دعا کریں کہ یہ بستی لاہور کی ایک مثالی بستی بن جائے اور اقبالؒ کے ان اشعار کی تعبیر نظر آنے لگے کہ
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
میری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
یہ مدرسہ، یہ جواں، یہ سرور و رعنائی
انہیں کے دم سے ہے مے خانۂ فرنگ آباد


ای پیپر