بدلتی ہوئی سیاست کے خدوخال
12 جولائی 2018 2018-07-12


یکہ توت میں ہوئے سانحہ نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں سوگواری کی کیفیت طاری کر دی ہے اور سیاسی و نظریاتی اختلافات اپنی جگہ پر لیکن معاشرتی عدم برداشت کا بوجھ دل پر بڑھتا جا رہا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے نظریات کی راہ میں دی گئی قربانیاں موجودہ مادیت پرست دور میں بہت معنی رکھتی ہیں۔ میاں افتخار کے بیٹے اور بشیر بلور اور اب ان کے بیٹے بیرسٹر ہارون بلور پچھلے آٹھ سال میں یہ اے این پی کے صف اول کے لوگ تھے جن کے نظریات سے آپ اختلاف رکھ سکتے ہیں مگر ان کی قربانیوں سے انکار نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی ایک ایسے معاشرے میں جہاں قانون شکنی فخر و مباہات کا باعث ہو اور قانون کی عمل داری پر یقین رکھنے والوں کو بے وقوف اور کمزور سمجھا جاتا ہو وہاں نظریات کی بات کرنا اور نظریات کے لیے جان دینا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ دہشت گردی کی ہر شکل و صورت میں مذمت ہونی چاہیے خواہ وہ کسی بھی جماعت، طبقے یا مخصوص گروہ کے خلاف ہو۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں موجود ہیں جہاں میاں شہباز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ کسی نہ کسی مقدمہ میں نامزد ہیں یا ملوث ہیں۔ سعد رفیق، شاہ محمود قریشی، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، خواجہ آصف، حنیف عباسی، طلال چوہدری، عابد شیر علی، جمشید دستی کے ساتھ ساتھ پرویز خٹک پر بھی قانون شکنی کے الزامات ہیں۔ حمزہ شہباز، ارباب غلام رحیم، رائے حسن نواز سمیت سو سے زائد امیدوار ہیں جنہوں نے کاغذات نامزدگی میں اپنے خلاف مقدمات کا ذکر کیا ہے اور اعجاز الحق سمیت ہر قسم کے امیدوار ان میں شامل ہیں۔ یہ سیاسی اشرافیہ جو قانون ساز اور حکمران بننے کے لیے جمہور کے ووٹ کی محتاج ہے یقینی طور پر خود کو جمہور سے برتر اور قانون سے بالادست سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہے۔ اپنے ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات کے حصو ل کے لیے قانون تو کیا ہم ارض وطن کو بھی پرکاہ جتنی اہمیت بھی دینے کو تیار نہیں۔
ہمارے سابق وزرائے اعظم کرپشن اور وسائل سے بڑھ کر زندگی گزارنے کے الزامات پرقائم مقدمات کی سماعت سے باہر نکل کر فخریہ انداز میں دو انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتے ہیں جیسے انہوں نے قانون ، انصاف اور ریاست پر مکمل فتح حاصل کر رکھی ہو اور ان مفتوحہ اور مقبوضہ علاقوں میں ہم پرانے زمانے کی رعایا سے بدتر حالات میں ان کے احکام کی بجا آوری کے لیے مجبور ہیں، ویسے تو یہ اگر دو انگلیوں کے بجائے صرف ایک انگلی بھی دکھا دیا کریں تو ان کا مفہوم ہم پر واضح ہو جائے گا!
میاں نواز شریف اور مریم نواز لندن سے پاکستان آنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں کیا عجب وہ روانہ تو ہوں لیکن راستے میں کوئی پرانی خبر انہیں نئی بنا کر سنائی جائے اور انہیں آدھے راستے سے واپس جانا پڑے۔ میرے ایک دوست کے بقول میاں نواز شریف عالمی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد کے بغیر وطن واپسی کی ہمت نہیں رکھتے اور اس حوالے سے جو تھیوری قائم کی جا رہی ہے اس کے مطابق مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی ، اے این پی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، ایم کیو ایم اور ان کے جملہ اتحادی اگر اکٹھے ہو کر آئندہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں اور ماضی کے ”شریف حکمرانوں“ کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کر دیں جس کے نتیجہ میں ملک بھر میں فسادات اور ہنگامے پھوٹ پڑیں اور مشرقی و مغربی سرحدوں سے دشمن دباﺅ بڑھانا شروع کر دیں جبکہ ہنگاموں اور فسادات کی آڑ میں شرپسند اور نان اسٹیٹ ایکٹر بھی روبہ عمل آ جائیں تو ایسے میں مقامی اسٹیبلشمنٹ کے پاس گھٹنے ٹیکنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ میری رائے میں یہ بہت دور کی کوڑی ہے اور امریکن سی آئی اے، برطانوی ایم آئی سِکس، بھارتی ”را “اور اسرائیلی موساد کے ساتھ افغان خفیہ ایجنسیوں کو مل کر ایک ایسے شخص جس پر منی لانڈرنگ اور وضاحت طلب اثاثہ جات بنائے جانے کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں ، کو سزا سے محفوظ رکھنے میں تو کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی ہاں مگر خدانخواستہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور نقصان پہنچانے کی خواہش ضرور اکٹھا کر سکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا میاں نواز شریف پاکستان کے خلاف ایک عالمی سازش میں آلہ کار کا کردار ادا کرنے پر تیار ہو سکتے ہیں؟
ویسے تو دولت اور اقتدار بچانے یا قائم کرنے کے لیے ماضی میں میر جعفر اور میر صادق جیسے کرداروں سے ہمارا واسطہ پڑ چکا ہے لیکن مجھے یقین نہیں کہ ہمارے تین دفعہ کے وزیراعظم اس حد تک نیچے گرنے کو آمادہ ہو سکتے ہیں۔
پچھلے دنوں مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل اور سوشل میڈیا نے لندن میں موجود ایک پاکستانی صحافی کے ذریعے یہ خبر پھیلائی ہے کہ میاں نواز شریف کے غیر لچکدار رویے اور پنجاب میں مبینہ طور پر افواج پاکستان کی غیر مقبولیت بڑھنے کے خدشے کے تحت مقتدر قوتیں میاں نواز شریف کی شرائط پر انہیں ”ڈیل“ دینے پر آمادہ ہو گئی ہیں اور اب جلد فواد حسن فواد اوراحدچیمہ جیسے کرپٹ اورمصیبت کی جڑ کرداروں کو ریلیف مل جائے گا جبکہ مستقبل میں تمام تبادلے بھی میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کی مرضی کے مطابق کئے جائیں گے حتمی تجزیہ میں اسے صرف ”ڈس انفارمیشن“ پر مبنی پراپیگنڈہ ہی قرار دیا جائے گا جس کا واحد مقصد میاں نواز شریف اور مریم نواز کی آمد اور آئندہ عام انتخابات میں اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کا حوصلہ بڑھانے اور انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں گھروں سے باہر نکالنے کے لیے غلط اطلاعات کے ذریعے حوصلہ افزائی ہی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن کیا مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کی طرف سے افواج پاکستان سمیت دیگر قومی اداروں کے خلاف جھوٹے سکینڈل اور پراپیگنڈہ کے ذریعے محب وطن پاکستانیوں کو بدظن کرنے کی یہ سازش کامیاب ہو سکے گی؟
خبر یہ ہے کہ الیکشن کے فوری بعد یا اگست، ستمبر میں کرپشن کے الزامات میں گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج میں شدت آ جائے گی اور پاکستان تحریک انصاف کے بعض اہم رہنما بھی احتساب کے لپیٹے میں آنے والے ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی معاملات چلانے اور مستقبل کے سیاسی فیصلوں کا اختیار حاصل ہونے والا ہے، دونوں معاملات کی تفصیل اگلے کالمز میں بیان کروں گا!


ای پیپر