Loved ones, last days, Allah, Pakistan, Sajid Hussain Malik, pandemic
12 جنوری 2021 (12:52) 2021-01-12

پچھلے دنوں کتنے ہی پیارے اور عزیز لوگ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے رب کے حضور چلے گئے۔ ان میں محترم عبدالقادر حسن، جناب سعود ساحر اور محترم رؤف طاہر جیسی نابغہ روزگار شخصیات جن سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا لیکن مجھے ایسا ہی لگتا ہے جیسے میرے قریبی عزیز ہوں رخصت ہوئے تو میرا حقیقی بھانجا ملک غلام حسین جس کی عمر 50سال سے کچھ کم تھی اور جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اپنی معذور اور بوڑھی والدہ (میری سگی بہن) جن کی عمر 82سال کے لگ بھگ ہوگی اور اپنی بیوہ اور دیگر اہلِ خانہ کو روتے چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوا۔ ان کے علاوہ میرے ایک دیرینہ رفیقِ کار ، انتہائی عبادت گزار، صوم و صلوٰۃ کے پابند اور سادہ مزاج کی  مالک نیک نام شخصیت ڈاکٹر قاضی محمد عیاض بھی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ قاضی صاحب مرحوم ایک علم دوست دینی گھرانے سے تعلق رکھنے والی عالم فاضل شخصیت تھے۔ وہ علم کا ایک دریا تھے جنہوں نے ڈبل ایم اے (اسلامیات و اُردو) اور سندھ یونیورسٹی سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے رکھی تھی۔ میں اور وہ ایک ہی دن 29اکتوبر 1969ء کو سی بی سر سید کالج دی مال راولپنڈی (موجودہ ایف جی سر سید کالج و ایف جی سر سید سیکنڈری سکول راولپنڈی ) میں بطور سینئر ماسٹر تعینات ہوئے اور پھر ربع صدی  کا طویل عرصہ اکھٹے کام کیا۔ قاضی صاحب مرحوم اور میں 1967-1968کے سیشن کے دوران سینٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں بی ایڈ کے کلاس فیلو بھی تھے۔ ہاسٹل میں اُن کا اور میرا کمرہ ساتھ ساتھ تھے۔ قاضی صاحب مرحوم و مغفور سے وابستہ بہت سی یادیں ہیں۔ وہ راضی برضا اور متوکل شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک زود رنج بھی تھے جس بنا سے جلدی خفا ہو جاتے تھے۔ تاہم ہم دوست اُنہیں جلدی راضی کر لیا کرتے تھے۔ اللہ بھلا کرے ہمارے پرانے رفیقِ کار چودھری محمد اختر (ریٹائرڈ پرنسپل) کا جو اپنے بزرگ ساتھیوں جن میں میرے سمیت تین چار ہی باقی ہیں کا غمی خوشی میں کافی خیال رکھتے اور باہمی رابطے کی صورت بنائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے صبح ہی قاضی صاحب محتر م کے انتقال پرملال کی اطلاع دے دی۔قاضی صاحب اپنے رب کے حضور پہنچ گئے ہیں۔ اللہ کریم انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ان کے دونوں صاحبزادوں سمیت ان کے جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔ 

شروع میں میں نے اپنے بھانجے ملک غلام حسین اور محبان مکرم و محترم جناب سعود ساحر ، جناب عبدالقادر حسن اور جناب رؤف طاہر کی رحلت کا ذکر کیا ہے۔ پہلے تھوڑا سا ذکر ملک غلام حسین مرحوم کا اور بعد میں محبان مکرم و محترم کے بارے میں کچھ تاثرات اور دلی جذبات کا اظہار۔ ملک غلام حسین بھانجا پچھلے تقریباً ساڑھے تین برس سے گُردوں کی خرابی کے عارضے کا شکار تھا ۔ میرے ایک انتہائی عزیز شفیق اور پیارے شاگرد ڈاکٹر بدر الصالحین کی خصوصی توجہ ، شفقت اور عنایت کی بدولت پاکستان کڈنی ایسو سی ایشن کے تحت قائم کردہ ڈائیلاسیز سینٹر میں اس کے ہفتہ میں دو ڈائیلاسیز ہو نے کے ساتھ پوری دیکھ بھال ہو رہی تھی لیکن مشیت ایزدی میں کس کا دخل ہے۔ وہ دو دن ہسپتال میں رہنے کے بعد اللہ کو پیارا ہو گیا۔ اُس کی موت کا رنج اس لیے بھی سواہے کہ اُس کے چھوٹے بھائی ملک اکرام حسین جو کینسر کا مریض تھا کا پچھلے سال انتقال ہوا۔ اب دونوں بھائیوں کے نابالغ چھوٹے چھوٹے بچے ، بیوائیں اور ضعیف کمزور اور معذور والدہ ہے۔ اللہ کرے گا ان کا یہ کڑا وقت گزر جائے گا تاہم مجھے ذاتی طور پر یہ دُکھ ضرور ہے کہ میں شاید ان دونوں بھائیوں کے علاج معالجے کے بارے میں اتنا کچھ نہیں کر سکا جتنا کچھ کرنا چاہیے تھا۔ اللہ کریم سے دُعا ہے کہ وہ ان کی خطائیں اور لغزشیں معاف کرتے ہوئے ان کی آخرت کی منزلیں آسان کریں۔ 

اب مکرم و محترم مرحومین  جناب عبدالقادر حسن، جناب سعود صاحب اور جناب رؤف طاہر کا کچھ تذکرہ کر لیتے ہیں۔ جیسا میں نے اُوپر کہا ان مرحومین سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا لیکن یہ میرے لیے محبان، مکرم و محترم کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کے دنیا سے اُٹھ جانے کا مجھے ایسے ہی دُکھ ہے جیسے کسی قریبی عزیز کے انتقال کا ہو سکتا ہے۔ محترم عبدالقادر حسن مرحوم سے تو میری نیاز مندی بہت پرانی پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں سے چلی آرہی تھی جب اُنہوں نے نوائے وقت میں تازہ تازہ "غیر سیاسی باتیں" کے عنوان سے کالم لکھنے کا آغاز کیا۔ پھر کیا ہوا وہ نوائے وقت سے وابستہ رہے یا کسی اور اخبار یا جریدے سے منسلک ہوئے۔ جہاں کہیں اُن کا "غیر سیاسی باتیں" کا کالم چھپا میں نے اسے پڑھنے کی کوشش کی یا ضرور پڑھا۔ بلاشبہ وہ میرے سب سے زیادہ پسندیدہ کالم نگار تھے ۔انہیں جدید اُردو کالم نگاری کا بانی یا موجد سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ "غیر سیاسی باتیں"کے عنوان سے چھپنے والے ان کے کالم اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کے کالموں میں اُن کے خاندانی اور علاقائی پس منظر ، ان کے مولانا عبدالغفار حسن اور غازی عبدالجبار  جیسی اپنے دور کی انتہائی قابلِ قدر اور نابغہ روزگار شخصیات سے کسب فیض کرتے ہوئے عربی اور انگریزی علوم کی تعلیم حاصل کرنے اور سب سے بڑھ کر جماعت اسلامی کے بانی  مفکر اسلام حضرت سید ابو الا مودودی کی پاکیزہ صحبت سے بہرہ مند ہونے اور ان سے عقیدت بھرا لگاؤ رکھنے کی جھلک جہاں نظر آتی ہے وہاں پروگریسو پیپرز کے ایک دور کے معروف ہفت روزہ جریدے "لیل و نہار" میں کام کرتے ہوئے سید سبط حسن اور فیض احمد فیض جیسے اعلیٰ پائے کے قلم کاروں اور نظریاتی ایڈیٹروں سے کسب فیض کرنے اور "نوائے وقت"جیسے نظریاتی اخبار میں طویل عرصے تک اپنے اُصولوں اور نظریات پر سمجھوتا نہ کرنے والے سکہ بند ایڈیٹر مجید نظامی مرحوم کی صحبت اور رہنمائی سے فیض یاب ہونے کا عکس بھی ان کے کالموں میں دکھائی دیتا ہے۔ میرے لیے ان کے وہ کالم زیادہ دلچسپی اور پسند کے حامل ہوتے تھے جن میں لاہور میں بیٹھے وہ اپنے آبائی علاقے سون سکیسر کی سونا اُگلتی پتھریلی اور نا ہموار زمینوں ، نیلے اور صاف پانی کی جھیلوں، کھیتی باڑی کرنے والے کسانوں اور سردیوں کی جھڑی نما بارشوں اور کبھی کبھار اپنی بیتی زندگی کے واقعات اور دین کی روشنی پھیلانے والے اپنے بزرگوں کا تذکرہ کرتے تھے۔ میں ان ہی کی طرح اعوان قبیلے سے تعلق رکھنے کی بنا پر ان سے کبھی نہ ملنے کے باوجود غائبانہ طور پر ان  سے ایک طرح کا ذاتی تعلق اور لگاؤ محسوس کرتا تھا سون سکیسر جہاں سے ان کا تعلق تھا اسے ہمارے ہاں اعوان کاری (اعوان قبیلے یا قوم کا مرکز یا گڑھ ) سمجھا جاتا ہے اور بچپن سے میں نے سن رکھا تھا کہ ہمارے آباو اجداد  یا بزرگ جو قطب شاہی اعوان ہیںسون سکیسر سے آکر اس علاقے میں آباد ہوئے۔ غرضیکہ کئی حوالوں سے ان سے ذاتی عقیدت ، احترام اور اپنائیت کا رشتہ میرے دل میں ہمیشہ موجود رہا۔ 

محترم عبدالقادر حسن مرحوم سے ذاتی تعلق اور اپنائیت کا رشتہ اپنی جگہ پر لیکن سچی بات ہے کہ اُن کے کالم پڑھ کر جو لطف ، ملکی و قومی حالات اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پیش منظر اور پس منظر سے جو آگاہی اور قومی سیاستدانوں پر جو ہلکا پھلکا طنز اور ان کے مقام و مرتبے اور سیاسی خدمات سے جو آشنائی ملتی تھی وہ کہیں اور سے حاصل نہیں ہوتی تھی۔ میں طویل عرصہ قبل ان کے لکھے ہوئے اپنے پسندیدہ کالموں جن کے الفاظ ، کلمات اور عبارات  میں بھول چکا ہوں لیکن ان کا نفس مضمون  میرے ذہن میں موجود ہے کو یاد کروںتو میرا دل چاہتا ہے کہ کاش وہ کالم اور اخبار کے وہ شمارے جن میں وہ کالم چھپے تھے میرے سامنے ہوں اور میں ان کو پڑھ کر ان سے وہی لطف اور آگاہی حاصل کروں جو اس وقت مجھے حاصل ہوئی تھی۔ غالباً یہ 1967ء کے آخری سہ ماہی کے کسی مہینے کی بات ہے ، مغربی پاکستان کے سابق گورنر نواب امیر محمد خان ، نواب آف کالاباغ کو ان کے بیٹے نے قتل کر دیا۔ عبدالقادر حسن خود کالاباغ گئے، مرحوم نواب کی قبر پر فاتحہ پڑھی اور واپسی پر جو کالم لکھا وہ اتنا زبردست اور پر اثر تھا کہ وہ آج بھی مجھے پڑھنے کو مل جائے تو میں اسے بار بار پڑھوں۔یہاں میں مرحوم عبدالقادر حسن کے کتنے ہی کالموں کا حوالہ دے سکتا ہوں جن کے نفس مضمون ہی میرے ذہن کے نہاںخانے میں موجود نہیں ہیں بلکہ انہیں پڑھتے ہوئے میں نے لطف اور علم و آگاہی کا بے پناہ ذخیرہ سمیٹا۔ 

عبدالقادر حسن ان کالم نگاروں یا اخبار نویسوں میں شامل تھے جن کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق مرحوم سے ذاتی تعلقات ہی نہیں تھے بلکہ ضیاء الحق ان کے کالموں کو ذوق و شوق سے پڑھا بھی کرتے تھے اور رات گئے ان کو فون کرکے ان سے تبادلہ خیال بھی کر لیا کرتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے انہیں نیشنل پریس ٹرسٹ کے اُردو روزنامے "امروز" (جو ایک زمانے میں پروگریسو پیپرز کے تحت اُردو کا بڑا مؤقر روزنامہ سمجھا جاتا تھا) کا چیف ایڈیٹر مقرر کیا تو عبدالقادر حسن نے روزنامہ جنگ میں اپنے کالموں کا سلسلہ " غیر سیاسی باتیں " کے بجائے غالباً "سیاسی باتیں " کے عنوان اور ہمزاد عبدالقادر حسن کے نام سے لکھنا شروع کر دیا۔ عبدالقادر حسن جنہیں میں ان کے کالموں کا حوالہ دیتے ہوئے قادر حسن کہنے اور پکارنے کا عادی رہا ہوں اور ان کے بارے میں اور بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن کالم مقررہ حد سے زیادہ الفاظ پر پھیل گیا ہے اور ابھی رؤف طاہر مرحوم  اور جناب سعود ساحر مرحوم تذکرہ باقی ہے۔ (جاری ہے۔)


ای پیپر