PTI government, terrorism, social, economic, condition, people, Pakistan
12 جنوری 2021 (12:45) 2021-01-12

میراثی نے نئی گرم چادر لی…اور کندھے پہ رکھ کر گاؤں کی چوپال میں جا بیٹھا…نمبردار نے چادر دیکھی تو اپنے بیٹے کی بارات میں استعمال کے لئے مانگ لی…بارات گاؤں سے نکلی تو چادر دلہے کے کندھے پر تھی…بارات کو دیکھ کہ ایک شخص نے پوچھابارات کِہندی اے؟میراثی جھٹ سے بولابارات نمبرداراں دی اے تے!چادر میری اے…چودھری کے لوگوں نے میراثی کی دھلائی کر دی کہ یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟بارات تھوڑی اور آگے گئی تو سامنے آتے ایک شخص نے پوچھابارات کِہندی اے؟میراثی جلدی سے بولابارات نمبرداراں دی اے تے!چادر وی اوہناں دی اپنی اے…ایک دفعہ پھر پھینٹی پڑی کہ تو نے تو اس طرح بول کر لوگوں کو چادر کے بارے جان بوجھ کر شک ڈال دیا…اب جو تیسری مرتبہ راستے میں پھر کسی نے پوچھا! کہ اتنی شاندار بارات کس کی ہے؟تو میراثی نے پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بڑا شاندار جواب دیاکہ بارات تو نمبرداروں کی ہے!!لیکن چادر دا مینوں بالکل وی نہیں پتہ کہ کن کی ہے…میراثی کو پھر مار پڑی!!کہ اس معاملے میں آئندہ منہ کھولنے کی ضرورت نہیں…بارات پھر چل پڑی…کچھ دور جا کے ایک بزرگ کھڑے تھے…انہوں نے پوچھا!بارات کِہندی اے؟میراثی سسکتے ہوئے بولانا مینوں بارات دا پتہ اینہ ای چادر دا…

موجودہ سیاسی صورت حال جس ڈگر پر چل نکلی ہے، اسے سنبھالنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ آپے سے باہر ہے۔ وہ راستہ، وہ بند گلی، وہ کشمکش ، وہ بے ڈھنگی چال تو پہلی حکومتوں کی تھی اس میں ذرا برابر بھی فرق نہیں آیا۔ ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ تلخی، گھبراہٹ، بے چینی اور ڈپریشن دے کر گزر جاتا ہے اور ہم اگلے دن کی بہتری کے لیے سر بسجود ہو جاتے ہیں۔ بقول جدید غزل کے نمائندہ شاعر کاشف مجید:

خدائے ارض و سما اب اک ایسا رستہ بھی

کہ جس پر چل کے ملے آگ بھی ستارہ بھی

دعا کے لفظ جہاں روشنی میں ڈھل جائیں

دعا کے ساتھ مجھے چاہیے وہ دنیا بھی

نہ پوچھ کیسے اسے گزارتی ہے

مری طرح جو مکمل بھی ہو ادھورا بھی

وہ ایک لمحہ کہ جس کو دوام ہے کاشف

یہاں کسی نے اسے روح میں اتارا بھی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019ء میں بلوچستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 152کے قریب اموات ہوئیں۔ جن 59بے گناہ اور نہتے شہری ، 21کے قریب پولیس کے اہلکار، 

ایف سی کے 20 ہلکار ، 16 ہزارہ برداری کے لوگ، 11 بحریہ کے افراد، 10پاک آرمی کے جوان، 9لیویز کے جوان اور تین کے زائد ایئر فورس کے جوان لقمہ اجل بنے۔ یعنی 2019ء میں 152 خاندانوں کے چراغ گل ہوئے اور متعدد گھروں کے چولہے بجھ گئے مگر حکومت ان دہشت گردوں کو کیفر کردار نہ پہنچا سکی اور نہ ہی اس دہشت گردی کا قلع قمع کر سکی۔ اب سالِ نو یعنی 2021کے سورج کو طلوع ہوئے بارہواں دن ہے اور سال 2020ء کے دہشت گردی کے واقعات میں کل 149اموات ہوئیں۔ جن 72 شہری پھر بے گناہی کا دم بھرتے ہوئے حیات کی سرحد یار کر گئے۔ ان کے ساتھ ساتھ ایف سی کے 57اہلکار، پولیس کے 6، لیویز کے 5 آرمی کے دو اور سات سکیورٹی گارڈ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ابھی سال نو کا پہلا عشرہ بھی اختتام پذیر نہیں ہوا کہ ہزارہ برادری کے 11 افراد کو شہید کر دیا گیا اور ان کی لاشیں تین دن تک سردی  میں صرف اس لیے لپٹی رہیں کہ لواحقین کو کوئی جھوٹی تسلی، جھوٹا حوصلہ اور تسلی دینے آئے۔ دہشت گردی کی یہ صورت حال حکومت کی ’’مس مینجمنٹ‘‘ کی طرف واضح اشارہ ہے۔ گفتار کے غازی اور کردار کے غازی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ وہ وقت گزر گیا جب گفتار کے غازی اپنی شعبدہ بازی کے ذریعے تصویروں میں رنگ بھر دیتے تھے اور مداری کی طرح نت نئے تماشے دکھاتے تھے۔ اپنی سیاسی ڈگڈی بجاتے تھے اور سادہ لوح عوام کو اپنے وعدوں اور تسلیوں کی تال پر اونچے سر میں گانے اور دھمال ڈالنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ وہ دور گزر گیا کہ جب میراثی کی چادر بھی چودھری کی چادر ہوتی تھی اور بارات بھی چودھری کی۔ میراثی اپنی چادر کو بھی اپنی ملکیت میں نہیں لے سکتا تھا اور اپنی چادر کہنے پر مار بھی کھاتا تھا مگر اب زمینی حقائق کے ساتھ معاشرتی ، سماجی اور بین الاقوامی حالات بھی بدل چکے ہیں اور میراثی بھی بدل چکا ہے کیونکہ عوام کے پاس آخری مسیحا اور آخری لیڈر عمران خان کی صورت تھا اور عوام نے اپنی تمام ہمدردیاں اور تمام امیدیں اس مسیحا کو سونپ کر کشتیاں جلا دی تھیں مگر موجودہ ملکی اور عوامی صورت حال یہ بتا رہی ہے کہ ماضی قریب اور ماضی بعید کی طرح میراثی کی چادر بھی ان کی ہے اور بارات بھی ان کی اپنی ہے اور میراثی کی جرأت بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی ’’نئی نویلی‘‘ اور اکلوتی چادر کو اپنی چادر کہہ سکے۔ اس بات کو مان لیا کہ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر تھی۔ ملکی خزانہ بھی خالی تھا۔ مہنگائی کرنا مقصود تھی، سو کر دی مگر ملکی نظم و ضبط کی صورت حال ابتر کیوں ہے؟ کرپشن کیوں ختم نہیں ہو رہی؟ ملاوٹ کیوں ختم نہیں ہو رہی؟ اقربا پروری کیوں ہے؟ لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بے ڈھنگی چال کیوں چل رہی ہے؟ ملکی اداروں کی صورت حال اپاہج کیوں ہے؟ عدالتیں بے بہرہ کیوں ہیں؟ بیورو کریسی من مانی کیوں کر رہی ہے؟ پولیس اسلام آباد میں اسامہ ستی جیسے بے گناہ بیٹے کو کیوں مار دیتی ہے؟ ان تمام خلاف ورزیوں کا معیشت سے تو کوئی تعلق نہ ہے۔ یہی چیزیں اگر درست ہوجائیں اور درست سمت اور ڈگر پر چل نکلیں تو عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہو سکتا ہے اور عوامی مورال بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عوام کی سماجی اور معاشی حالت کو بہتر بنانے میں ناکام رہتی ہے تو آنے والے وقت میں ان کو کیے کاپھل پانا ہو گا اور سزا بھگتنا پڑے گی۔ 


ای پیپر