PTI government, blame, wrongdoing, failure, previous government
12 جنوری 2021 (12:13) 2021-01-12

جب سے موجودہ حکومت آئی جس کو اب نئی حکومت کہنا قصہ پارینہ ہوا ، شاید اگلے چند مہینوں میں سابقہ حکومت کہلانے لگے۔ اس میں اس حکومت کے وزیراعظم سمیت مشیر، وزراء، ترجمان، حمایتی ہر بگڑے کام کو یا ہر ناکامی کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالتے ہیں، میرے خیال سے حکومتی جماعت اور اتحادی جماعتوں میں تو ان سیاستدانوں کی بہتات ہے جن کی سیاسی پیدائش ہی سابقہ حکمران جماعتوں میں ہوئی اور اب ان میں سے اکثریت تیسری مرتبہ شرطیہ نئے پرنٹ کے ساتھ 2018ء کو ریلز ہونے والی نئی حکومت فلم نے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ البتہ اس فلم کو کامیاب بنانے کے لیے بعض نئے چہرے بھی بیرون ملک سے امپورٹ کئے گئے تا کہ پاکستان میں کچھ نیا نیا سا لگے۔ 

بہرحال جب سے نیا پاکستان بنا ہے لوگ پرانے پاکستان کو ترس گئے ہیں۔5 سے زائد آئی جی پولیس بدل دیئے گئے۔ متعدد سی سی پی او لاہور بدلے گئے اور ایک ایسے سی سی پی بھی آئے یعنی عمر شیخ جو اپنی مثال آپ ہیں۔ 5/4چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری گویا تبادلوں کا یہ سلسلہ ایک طوفان سے مماثلت پانے لگا جو اس حکومت کا طرۂ امتیاز ہے۔ البتہ غلام محمود ڈوگر کی تعیناتی پہلی تعیناتی ہے جو اس طوفان میں ایک ٹھہراؤ اور اطمینان کا احساس دلاتی ہے۔ لاہور کے عوام کو پولیس کے حوالے سے کڑی دھوپ میں ایک چھاؤں کا احساس ہوا ہو شاید حکومت سے غلطی ہو گئی ورنہ ایسا احسن فیصلہ اس حکومت سے متوقع نہیں ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی حاکم کی تعریف نہیں کی اگر اس میں وہ صفت موجود نہیں اور اتفاق ہے کہ حاکم بنتے ہی اقتدار کی راہداریوں میں نہ جانے کون سا ایسا آسیب ہے کہ صاحب اقتدار ایسا گم ہوتا ہے کہ گویا انسانیت اس میں سے کشید کر کے نکال دی گئی ہو جیسے وہ محض ایک حاکم بن کر مافوق الفطرت انسان ہی نہیں بلکہ عجیب الخلقت انسان سا رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ رعونت، تکبر ، بے حسی، خود پسندی، خود ستائشی اور خود نمائی اس کی ذات کا نمایاں ترین پہلو بن جاتا ہے جبکہ عجز و انکساری، قانون کی حکمرانی، انسان دوستی ،عفو و در گزر ، وضعداری اور ذمہ داری اس کی کارکردگی میں شائبے کی حد تک بھی نہیں رہتی۔ 

دراصل کسی بھی شخص کو ذمہ داری سونپے جانے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ اسی معاشرت سے واقف ہو جس معاشرت میں اس کو ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ حلفاً کہتا ہوں کہ لاہور کے نئے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر میرے بالکل واقف نہیں ہیں چونکہ وہ سی پی او گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ایس پی ایڈمن لاہور، ڈی آئی جی لاہور، ڈی آئی جی ہائی وے اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ہر عہدہ انہوں نے بخوبی نبھایا لہٰذا کسی نہ کسی حوالے سے ان کی کارکردگی کی بازگشت عام عوام اور وکلا تک بھی پہنچتی رہی، جس وجہ سے ان کے متعلق بات کی جا سکتی ہے۔ ایک کلین ٹیبل آفیسر ہیں۔ پہلے میں ان اینکرز کی بات کر لوں جو بنیادی طور پر تو ایک رپورٹر ہیں پھر انوسٹی گیشن رپورٹر ہوئے۔ کسی خط پر ایک سٹوری بنا کر پیش کر دی اور سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔ دراصل میڈیا پرسنز یا کاروباری لوگوں حتیٰ کہ سیاست دانوں کا مسئلہ یہ کہ انہوں نے ایک دن بھی سرکاری نوکری نہیں کی ہو گی۔ لہٰذا وہ اس کرب سے واقف نہیں ہیں کہ وطن عزیز میں سرکاری نوکری غلامی کی بدترین شکل ہے۔ غیبت، حسد، Leg pulling ، سازش اور منافقت ، سرکاری نوکری کے دوران پیش آنے والے نمایاں ترین پہلو ہیں۔جس میں باقاعدہ پلاننگ کر کے بندوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور ان کی کردار کشی کی جاتی ہے تا کہ ان کا مثبت کردار کسی کرپٹ سینئر آفیسر کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ یہ تو پولیس ڈیپارٹمنٹ کی بات ہے پاکستان کے تمام سرکاری محکموں میں یہ خرابی بنیادی جڑ ہے۔ عنقریب اس حوالے سے میں محکمہ کسٹم کے بدنام اور کرپٹ لوگوں کا طریقہ واردات اور ضمیر فروشی کی داستانیں رقم کروں گا جس سے میرے قارئین ورطۂ حیرت  میں چلے جائیں گے کہ 2 لاکھ سے کم دیہاڑی کو مندا سمجھنے والے نماز، روزہ، حج، عمرہ اور رشوت ساتھ ساتھ کیسے نبھا رہے ہوتے ہیں۔ ہاتھ میں تسبیح یوں پکڑے ہوتے ہیں جیسے کلاشنکوف پکڑ رکھی ہو۔بہرحال سرکاری نوکری میں الزام ، انکوائری،کردار کشی عام سی بات ہے اور اس میں 95 فیصد اعلیٰ افسران کی مخالفت کی بدولت ہوتا ہے جبکہ سیاسی گروپ بندیاں جو اداروں کو پہلے ہی برباد کر چکی ہیں وہ جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں ڈیڑھ کروڑ کی آبادی سے زائد شہر لاہور کے عوام کے لیے ایک جاگتا ہوا، سننے، بولنے، سمجھنے اور محسوس کرنے والا ڈی آئی جی تعینات کر دیا گیا ہے۔ 

پسرور میں پیدا ہونے والے بطور پولیس آفیسر سی پی او گوجرانوالہ آر پی او فیصل آباد، سیالکوٹ، بہاولپور ، ملتان، سندھ، کراچی، بلوچستان، لاہور تعینات رہنے والے عوام دوست، مظلوم دوست انسان بیرون ممالک امریکی ریاستوں ، بوسنیا اور ترکی وغیرہ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں مگر یہ عاشق رسولﷺ خانہ کعبہ اور روضہ رسولؐ سے سب سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔ زندگی کو بندگی سمجھتے ہیں اور تین سوال ان کی شخصیت کا حصار کیے رکھتے ہیں۔ دنیا میں کیوں آئے، یہاں کیا کرنا ہے اور کہاں جانا ہے۔ 

بطور پولیس آفسر جھوٹ میں سے سچ اور سچ میں سے جھوٹ تلاش کر لینا ان کا خاصہ ہے۔ بنیادی طور پر انجینئر اور انٹیریئرڈیزائنر ہیں۔ اپنی تہذیب، تمدن، روایات، لوک ورثہ اور صوفی ازم سے شغف رکھتے ہیں۔ اگر پولیس آفیسر نہ ہوتے تو بہترین سوشیالوجسٹ اور سائیکیٹریسٹ ہوتے۔ ان کی تعیناتی نے لاہور کے لوگوں اور پولیس کو ذہنی دباؤ سے نکال دیا۔ اب ایک دیکھنے، سننے ، سمجھنے، بولنے اور حق پر مبنی فیصلہ کرنے والا صلح جو، معاملہ فہم، ماتحتوں اور سینئر پولیس افسران میںہردلعزیز آفیسر مل گیا جو کرو گے وہ بھرو گے اور قانون قدرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ محبت بانٹنے سے محبت نفرت بانٹنے سے نفرت انصاف کرنے سے انصاف ملتا ہے۔ ان کی زندگی کا ماٹو ہے، گھڑ سواری ، پولو، فٹ بال کے شوقین ہیں، آنکھوں کو شخصیت کا عکاس سمجھتے ہیں۔ 

جولاہور کے عوام، طبقات ، برادریوں اور تمام طبقہ کے لوگوں کو جانتے ہیں قانون سے مکمل واقفیت، غریب پرور، ماتحت پرور، مظلوم پرور، حساس طبیعت اور انتہائی عاجز انسان ہیں۔ سی سی پی او شیخ کے بعد تخت لاہور کی ذمہ داری انتہائی موزوں شخص کو دے دی گئی۔ بزدار، چودھری سرور اور سیاسی حکمرانوں کی اگر اب بھی تشفی نہیں ہوتی تو پھر ان کی تسلی صرف دوسری جیپوں والے ہی کر پائیں گے۔ امید کرتا ہوں کہ غلام محمود ڈوگر بغیر کسی تعصب اور قانون کے مطابق عوام پر حکمرانی نہیں بلکہ خدمت کے جذبہ سے ذمہ داری نبھائیںگے۔ 


ای پیپر