ایسا کوئی نہ ملیا میں ڈھونڈ تھکی....
12 جنوری 2021 2021-01-12

رات کی تاریکی میں ”منتظر“ میتیں تھکے ہوئے کاندھوں پر سوار سفر آخرت کو رواں تھیں اُن کا وزیراعظم جیت چکا تھا اور وہ اپنی آخری شرط منوانے میں ناکام ونامراد رہی تھیں موت ”موصوف“ کو یاددہانی کرانے میں ناکام رہی کہ قافلہ اجل ہمہ وقت رواں دواں ہے ہم سب آگے پیچھے چل رہے ہیں بشیر بدر یاد آگئے

اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو 

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

ایک بار پھر یقین پکا ہوگیا کہ جو شعر فہم نہ ہو جسے موسیقی کا علم نہ ہو جو درختوں کو رومانس کو نہ جانتا ہو وہ شخص بھی کیا شخص ہوگا اس سے نہ رحم کی توقع کی جاسکتی ہے اور نہ کسی مہربان رویے کی یہ لوگ حساب کے سوال جیسے ہوتے ہیں سخت پتھریلے یہ الزامات کی بوچھاڑ کردینے والے پروپیگنڈے کے ماہر دنیا میں صرف انتقام لینے اور ضد لگانے آتے ہیں ان کا حقیقی کام دنیا سے احساس کو تہس نہس کرنا خوبصورتی کا خاتمہ اور دلکشی کی موت کرنا ہوتا ہے پتھر جیسے چہروں نخوت بھرے لہجوں والے ” میں“ سے گفتگوشروع کرتے ہیں اور ” میں“ پر ہی ختم کردیتے ہیں پوری دنیا کو انتقامی کھیل میں ”رچا“ کر ٹارگٹ کے پیچھے لگ جاتے ہیں انہیں شاخوں کی لچک بانہوں کی مہک اور لہجوں کے مہذب سپردگی سے کوئی مطلب نہیں ہوتا نہ یہ رنگوں کی زبان سمجھتے ہیں اور نہ لفظوں سے تصویریں بناتے ہیں۔ 

یہ صرف الجبرائ، ریاضی اور جیومیٹری جیسے مضامین کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور دلچسپ امر یہ کہ ان مضامین میں بھی مہارت نہ ہونے کے باعث غلط کیلکولیشن کے باعث بھری ٹرینوں کے ٹکرانے کا باعث بنتے ہیں جہاز گرادیتے ہیں یہ اتنے ”منحوس“ ہوتے ہیں کہ زیرزمین چلے جائیں تو ”زلزلوں“ کا باعث بنتے ہیں میں بچپن ہی سے تتلیوں جیسے معصوم چہروں کے تقدس پرشبنمی خنکی کو سراہنے والی لکھاری ہوں مجھے انتقام اور غصہ والے چہروں سے وحشت ہوتی ہے متکبر لہجے سرخ دہکتے انگارے جیسی شکلیں ہروقت ماضی سے غصہ اور انتقام کا باعث بننے والے واقعات ”کھرچ“ کرلانے والے عجیب لوگوں کے لیے ہمیشہ سے لقب رکھا ہوا ہے 

”اگ دابھبھوکا“ 

ایسے لوگ سربراہ مملکت بھی بن جائیں تو روٹی پانی کے مسئلے حل کرنے کے بجائے لوگوں کو انتقام سے ” رجھانے“ کے جتن کرتے ہیں جب کوئی بھوکا روٹی مانگےیہ اس کو ”بندر کا تماشہ “ دکھانے لگتے ہیں میں جب غصہ میں ”پھنکے“ ہوئے لال چہرے دیکھتی ہوں تو آگ اگلتے نتھنے جھاگ اُڑاتے ہونٹوں کے کنارے طبیعت پر منوں بوجھ ڈال دیتے ہیں دل پکار اُٹھتا ہے ”اے فجر کی گواہی میں نکلتے سرمئی سویرے ۔یہ دنیا کیا ایسی وحشت کے لیے بنی تھی اگر ایسا ہوتا تو گلابوں کے رنگ ”سوائ“ (راکھ) جیسے ہوتے رنگ برنگ پرندے شاخوں پر کیوں حمدوثناءکرتے لہراتے پھرتے....

نیلی جھیلوں پر بطخوں کے جوڑے نہ تیرتے پھرتے.... کائنات کا حق کہتا ہے یہاں صرف محبت کی جائے بھوکا روٹی اُٹھا کر کھالے تو اُسے ”کرپٹ“ نہ کہا جائے تھوڑا سا دل بڑا کرلیا جائے تو کیا حرج ہے....

دل ہی تو ہے نہ سنگ وحشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

 روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں 

اقبال نے بھی کیا خوب اشکِ ندامت کی توصیف میں کہا ہے 

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چُن لیے

 قطرے جوتھے میرے عرق انعفال کے 

مجھے سچ کے نام پر بدتمیزی کرنے والے شروع ہی سے بہت بُرے لگتے ہیں دوٹوک لہجوں سے ویسے ہی الجھن ہے کہ نفرت کبھی کسی سے کی نہیں انسان اور ”مکڑ“ میںکچھ تو فرق ہونا چاہیے....رسی جل بھی جائے تو بل نہیں جاتے مگر راکھ ضرور ہو جاتے ہیں....

محبت بھرے لہجوں کا ذکر ہوتو کوئی بھائی رو¿ف طاہر کو کیسے بھول سکتا ہے کتنے سفر اکٹھے کیے چارٹر طیاروں پر ہیلی کاپٹرز پر مگر یہ چار چھ لوگوں کے قدم ہمیشہ زمین پر رہے رو¿ف طاہر بھائی بھی روایات کے امین سفر میں سگے بھائیوں جیسا خیال رکھتے ہم پریس کانفرنس اٹینڈ کرکے لوٹتے تو ایئرپورٹ پر ہی تشفی کرکے کہ مجھے گھر سے کون لینے آیا تب ہی جاتے جناب عطاءالرحمن اور محترم سینئر صحافیوں کے ہمراہ یہ سفر اتنے یادگار تھے کہ کبھی ذہن سے محو نہیں ہوئے جتنے زہریلے سوال ہم کرسکتے تھے کیا کرتے مگر جو عطاءالرحمن اور الطاف قریشی صاحب اچانک گہراترین سوال کرتے تو سناٹا چھا جاتا میں کہتی لگدا نئیں سی تسی تقریر اینے دھیان نل سن رہے ہو“ مجیب الرحمن شامی صاحب جیسے لوگ کیا کیا نہ تربیت ہوئی مجھے یاد ہے کہ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں پی ایم ایل این PMLNکے زبیرنے انکشاف کیا کہ ملک سے کرپشن ختم ہوچکی ہے ساتھ ہی میری سوال کی باری آئی تو میں نے کہا ”بند کریں یہ سمپوزیم اور گھروں گھری چلو“ ملک میں تو کرپشن ہی نہیں پھر رولا ہی کیا ہے ؟.... وہ خوش دلی سے جواب دیتے رہے طرح دار اینکرز بھی تھے مگر کالم نگاروں کا وقار اپنی جگہ تھا رو¿ف بھائی گھریلو اور صحافتی امور میں ذمہ داریوں تلے دبے ہوئے تھے بالکل ہی آزاد صحافت کے لیے تھوڑا سا آوارہ مزاج اور خراب ہونا ضروری ہے بہت زیادہ شرافت والا یہ کام نہیں مگر کمال خوبی سے طبیعت سے مختلف کام کو احسن انداز میں نبھایا۔ 

زندگی کا کام ہے لہروں کی طرح پٹختی رہتی ہے ہربار نیا ”چیپٹر“ کھلنے پر پرانا بند کرنا پڑتا ہے۔ 

وارث شاہ تو وہاں پہنچ کر بات کرتا ہے جہاں آگے سارے رستے بند ہوجاتے ہیں اُس چبوترے پر رہتا ہے جہاں دنیا پر نظر کرم سے دیکھنا معمول ہوجاتا ہے اتنی ساری اموات دوستوں کی رخصتی ”مچھ“ میں قیامت اور مشروط تعزیتیں باور کراگئیں کہ بڑے لوگ بڑے ہوتے ہیں اور چھوٹے ہمیشہ چھوٹے رہتے ہیں، کلام وارث معہ ترجمہ کتاب۔۔بابا فریدؒ سے خواجہ فرید تک “ ازصوفیہ بیدار)

ایہاکوئی نہ ملیا میں ڈھونڈ تھکی

 جیہڑا گئیاں نوں موڑلیاو¿نداای 

ساڈھے چم دیاں جتیاں کرے کوئی 

جیہڑا جیوداروگ لگاﺅندا ای 

بھلا موئے تے وچھڑے کون میلے

 ایویں جیوڑاروگ ولاﺅندا ای 

ترجمہ: وہ جو فجر کی گواہی میں سفید دو شالے اوڑھ کر گھروں سے رخصت ہوئے تو پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے دہلیزوں پر دھری آنکھوں کے طاق میں انتظار کے دیئے ٹمٹماتے رہے 

ہمارے بدن کی کھال تیرے قدموں میں سجے کہ تونے ہمیں ہجر کے روگ سے آشنا کیا 

بچھڑے لوگ ”وسرے چیتے(بھولے خیال)

پھر عالم خیال میں نہیں آتے زندگی کا اختتام ”ات وچھوڑا“ ہے....


ای پیپر