الوداع میاں صاحب الوداع
12 جنوری 2020 (17:11) 2020-01-12

میں نے گزشتہ پچیس چھبیس سال کے عرصے میں ایک صحافی کی حیثیت سے نوازشریف کی بھرپور اور غیرمشروط حمایت کی ہے… ایک آزاد اور بامقصد اخبار نویس کی حیثیت سے ایسا کرنا میرے منصب کے اور وہ تھوڑی بہت شناخت مجھے ایک تجزیہ نگار کے طور پر مجھے ملی شایان شان نہ تھا… مجھے اس سلسلے میں مسلسل تنقید، کئی ایک الزامات اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا… میں نے سب کچھ برداشت کیا… لیکن گزشتہ ربع صدی کے دوران مجھے جس جس اخبار، مثلاً نوائے وقت، جنگ، جسارت، ہفت روزہ زندگی کے ایڈیٹر اور اب ’’نئی بات‘‘ کے گروپ ایڈیٹر کے طور پر کالم نگاری، تجزیے پیش کرنے ،مختلف ٹی وی پروگراموں میں حصہ لینے اور قومی اور بین الاقوامی سطح کے سیمیناروں و مذاکرات میں اظہار خیال کا موقع ملا… میں نوازشریف صاحب کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پر شدّومد کے ساتھ قائم رہا… اس سلسلے میں چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب دیئے… مختلف نقطہ نظر کے حاملین کی جانب سے اٹھائے گئے فکری و نظری مباحث کے تناظر میں اپنے خیالات کی بھرپور حد تک وضاحت کی… تاہم کسی مداہنت سے کام نہ لیا… وجہ اس کی یہ تھی کہ نوازشریف جس کی بطور سیاستدان ساخت و پرداخت میں ایجنسیوں کا ہاتھ اور یہ حقیقت مجھ سے روز اوّل سے چھپی ہوئی نہ تھی اسے جب 1993ء میں وقت کے طاقتور بیوروکریٹ صدر نے مقتدر قوتوں کی اشیرباد کے ساتھ وزارت عظمیٰ کے منصب سے پہلی بار برطرف کیا تو وہ ڈٹ کر سامنے آ گیا… پوری قوم کو پیغام دیا آئندہ کسی غیرآئینی اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا… ڈکٹیشن نہیں لے گا، عوام کی جمہوری امنگوں کی پاسداری کرے گا… آئین کی علمبرداری کو حرز جان ٹھہرائے گا تو یہ سیاسیات ملکی کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میرے لئے بڑے حوصلے کی بات تھی… فکری طور پر میرا تعلق دائیں بازو سے تھا… مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ہم جیسے عامیوں کے دلوں میں فکرونظر کی نئی لہریں پیدا کرنے والے شاندار لٹریچر نے میری ذہنی ساخت میں براہ راست کردار ادا کیا تھا… انہوں نے نہایت مدلّل طریقے اور خوبصورت اسلوب تحریر کے ساتھ دین اور سیاست کو یکجا کر کے پاکستانی معاشرے کے اسلامی مزاج اور ہماری نوزائیدہ ریاست کے جمہوری چہرے کو جدید دنیا کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے ٹھوس علمی اور عملی کام کیا تھا… ایوب کی آمریت اور اس سے قبل قیام مملکت کے ابتدائی گیارہ برسوں میں مولانا مرحوم نے پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی و جمہوری ریاست بنانے کے لئے پائیدار خدمات سرانجام دیں اور ٹھوس بنیادوں پر جدوجہد کی… بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اپنی قائم کردہ مملکت کو وسیع مگر اسلامی تہذیبی خطوط کے اندر رہتے ہوئے آئین کی سربلندی اور سویلین بالادستی کے نظریے کو پوری طرح کارفرما دیکھنا چاہتے تھے… مگر ایوبی آمریت، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المیہ، بھٹو کو المناک سزائے موت اور ضیاء الحق کی گیارہ سالہ آمریت کے آتے آتے سارے نظریے کتابوں میں زندہ ہونے کے باوجود عملاً ماند پڑ گئے… فوجی قیادت جس کی ذمہ داری منتخب حکومتوں کی وضع کردہ پالیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے ملک کا دفاع کرنا تھی کچھ اس طرح سے امور ریاست پر چھا گئی تھی مارشل لائوں کے ادوار میں اس کی براہ راست حکمرانی تھی اور نام نہاد سول حکومتوں کے برسوں کے دوران پس پردہ تاریں ہلاتی تھی… ہر حالت میں ریاست کی زمام کار کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے تھی… یہ امر نہ صرف پاکستان کے دولخت ہو جانے کا بنیادی سبب بنا بلکہ اس نے ہماری آزاد مملکت کی پائیدار بنیادوں پر ترقی اور عام آدمی کی خوشحالی کے خوابوں کو بھی گہنا کر رکھ دیا… دنیا بھر میں ہمارا تعارف امریکہ کے حاشیہ بردار ملک کا تھا… مقتدر قوتوں کے سامنے صحیح معنوں میں سینہ تان کر کھڑے ہو جانے کی کسی میں ہمت تھی نہ جرأت… پیپلز پارٹی جمہوریت کی بلاشبہ علمبردار تھی لیکن بے نظیر بھٹو مرحومہ نے کئی سمجھوتے کئے اور دائیں بازو کی تقریباً تمام جماعتیں بیشتر معاملات پر بالادست قوتوں کے اشارہ ابرو کی منتظر رہتی تھیں، دینی سیاسی جماعتوں کو تو یار لوگوں نے خاص طور پر اپنا آلہ کار بنا کر رکھ دیا تھا…

اس عالم میں اسٹیبلشمنٹ کے یوں کہیے کہ چہیتے اور جواں عمر سیاستدان نے بغاوت کا علم بلند کر دیا تو میرے جیسے آزاد اور آئین کی سربلندی والے پاکستان کے خواب کی تعبیر دیکھنے کے متمنی قلم کے مزدور نے جو مولانا مودودی کے اسلامی جمہوری خیالات سے بھی متاثر تھا اور جس کا باپ تحریک پاکستان کا گولڈ میڈلسٹ تھا اس

شخص کے دم کو غنیمت جانا اور یہ سمجھا اگر یہ اپنے اصولوں پر کھڑا رہا تو کیا عجب ملک کی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دے اور اس کی عمارت کو صحتمند آئینی و جمہوری خطوط پر استوار کر دے… نوازشریف ڈٹا ہوا تھا اور میں نے اسے مقدور بھر حد تک زبان و قلم کی حمایت فراہم کرنے کا تہیہ کر لیا تھا… اس دوران میں اس سے ہر عالمی سیاستدان کی طرح غلطیاں بھی سرزد ہوئیں، ناقص اقدامات بھی کئے جو لائق تنقید تھے… انہی میں سے اپنی دوسری وزارت عظمیٰ کے دوران شریعت بل متعارف کرانے کے ساتھ آئین پاکستان میں حسب خواہش ترمیمات متعارف کرانے کی خاطر اراکین پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت کی حمایت کی شرط ساقط کرنا بھی تھی… میں اس وقت ہفت روزہ زندگی کا ایگزیکٹو ایڈیٹر تھا… اس خواہش یا ارادے کی پُرزور مخالفت کی… اسے جمہوریت کے گلے پر چھری چلانے کے مترادف قرار دیا… لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے میں میاں صاحب کی چھوٹی موٹی لغزشوں سے صرف نظر کرتا رہا کیونکہ میرے نزدیک انہوں نے ایک بڑے مقصد اور اعلیٰ نصب العین کے حصول کے لئے اس ملک کی بڑی لیکن غیرآئینی قوتوں کے ساتھ لڑائی مول لے رکھی تھی… وہ تیزی کے ساتھ آئین پاکستان کی سربلندی اور جمہوریت کے تسلسل کی علامت بنتے جا رہے تھے… دائیں بازو کے مطیع پاکستان کے سیاسی و مذہبی عناصر و طبقات میں ایسے آدمی کا اٹھ کھڑا ہونا غیرمعمولی بات تھی… میں نے ہر طعنہ اور الزام برداشت کیا… جس قومی اخبار یا جریدے میں لکھنا شروع کیا اپنا مشن جاری رکھا… نوازشریف سے جہاں بہت سی فروگزاشت سرزد ہوئیں وہاں آئین و جمہوریت کی سربلندی کے نعرے بلند کرنے کے ساتھ عملاً بھی کچھ قابل تحسین اقدامات کئے… موٹروے کی تعمیر، 1998ء میں سخت عالمی اور درون خانہ کے دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارت کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کر ڈالنا اور اپنے تیسرے دور میں چین کے تعاون کے ساتھ سی پیک جیسے بڑے منصوبے کی تعمیر کا آغاز اور ملکی انفراسٹرکچر کی جدید بنیادوں پر استواری اس کے ادوار کے یادگار اقدامات ہیں جن میں وہ بہت سے معاصرین کو پیچھے چھوڑ گیا… اس لحاظ سے بھی اس کی عام سیاستدانوں جیسی فروگزاشتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اصولی و عملی حمایت چنداں غلط بات نہ تھی…

2013ء میں تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہو جانا تاریخی پیش رفت تھی… لیکن اس کے ساتھ اس کی ہماری اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر کے ساتھ چپقلش میں بھی تیزی آ گئی… دونوں ایک دوسرے کو پسند نہ کرتے تھے… نوازشریف اس وجہ سے نہیں کہ حاضر سروس اور اپنے آپ کو بالادست سمجھنے والے افسران گرامی اسے اطاعت گزار بنا کر رکھنے کے قابل نظر نہ آتے تھے اور نوازشریف کی ان کے ساتھ انقباض کی وجہ ظاہر ہے یہ تھی وہ ان کے تابع مہمل بن کر نہیں رہنا چاہتا تھا… پھر مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ قائم ہو گیا… جو بڑی سرکار کے لئے ہرگز گوارہ خاطر نہ تھا… جواب میں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے گئے… عمران خان جمع طاہرالقادری کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی، دھرنے لگے… ایک مرتبہ تو نوازشریف حکومت ہل کر رہ گئی لیکن یہ شخص جو اب پختہ کار سیاستدان بن چکا تھا اپنے عزم پر قائم رہا… بڑے بڑوں کی مخالفت کی پرواہ نہ کی… پھر ڈان لیکس کا تماشا ہوا… معاً بعد پانامہ سکینڈل سامنے آئے… نوازشریف کے چہرے کو داغدار کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی… جنرل راحیل بڑے طاقتور چیف تھے… ان کی خواہش تھی توسیع مل جائے مگر نوازشریف نے صاف انکار کر دیا… قائداعظمؒ کا مرغوب سویلین بالادستی کے نظریے کی افادیت و ضرورت زبان زد عام ہو چکی تھی… بانی مملکت کا یہ تصور نوازشریف کی جدوجہد کی علامت اور اس کی سیاسی شخصیت کی پہچان بن چکا تھا… لیکن پاکستانی اقتدار کے عالم بالا کے اندر اس کے خلاف نفرت بھی زوروں پر تھی… جنرل باجوہ کو اگلے آرمی چیف کے طور پر نامزد کیا گیا… توقعات کے برعکس دونوں جانب کے تنائو میں کمی نہ آئی… یہ شدت اختیار کر گیا… پھر پانامہ سے کچھ برآمد نہ ہوا تو عدالت عظمیٰ کے ایک فیصلے کے تحت اقامہ کے ’’جرم عظیم‘‘ کی پاداش میں عوام کے ہاتھوں تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو گھر کی راہ دکھا دی گئی… ایک نئی چپقلش کا آغاز ہوا… نوازشریف اور ان کی بیٹی سیدھے جیل میں گئے… کیسے اور کن حالات میں گئے یہ اپنی جگہ ایک داستان ہے… 2018ء کے انتخابات ہوئے… عمران خان وزیراعظم قرار پائے… لمبی کہانی کو مختصر کرتے ہیں… آرمی چیف کی توسیع کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر قومی افق پر ابھرا… ہر ایک کو توقع تھی کوئی اور اس پر صاد کرے یا نہ کرے نوازشریف کی جماعت کسی طور پر مقتدر عناصر کے شامل حال نہ ہو گی کیونکہ ان کی تمام تر جدوجہد اس ایک نکتے سے ہی عبارت تھی… میاں صاحب کو سخت بیماری کے عالم میں لاہور جیل سے لا کر ہسپتال داخل کرایا گیا… کوئی علاج کارگر ثابت نہ ہو رہا تھا… اچانک ضمانتیں ملنا شروع ہو گئیں… میاں صاحب اور بہتر علاج کی خاطر عازم لندن ہوئے… لندن پہنچ کر معلوم نہیں کیا قلب ماہیت واقع ہوئی… اپنے قریبی ساتھیوں کو پاکستان سے طلب کر کے حکم صادر کیا پارلیمان کے اندر توسیع کے بل کی غیرمشروط حمایت کرو… کوئی چوں چراں نہ کرے… خبر عام ہوئی تو پورا ملک اور اس کے عوام ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے… سوالات کا لامتناہی سلسلہ اٹھ کھڑا ہوا… کسی کو قابل اطمینان جواب نہ مل رہا تھا… نواز کی جانب سے کسی قسم کی وضاحت پڑھنے اور سننے کو نہ ملی… توسیع کا بل تو دونوں ایوانوں میں منظور ہو گیا… مگراس کے ساتھ سویلین بالادستی اور آئین مملکت کی حقیقی فرماں روائی کا خواب بھی تہہ خاک ہو کر رہ گیا… جس نوازشریف کے ساتھ مجھ جیسے کئی عامیوں نے رومان وابستہ کر رکھا تھا وہ نوازشریف اب سیاسی طور پر زندہ نظر نہیں آتا تھا… حمایت کس کی کریں اور اس کی خاطر سرعام مخالفت کس کی اور کیوں مول لیں…سنا ہے شہباز شریف نے اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ہے… انہیں اگلی وزارت عظمیٰ کے منصب سے سرفراز کیا جا سکتا ہے… اس سے کیا فرق پڑتا ہے… ایک دو مزید پل بن جائیں… دو ایک تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل ہو جائے گی… وزیراعظم ماتحت کا ماتحت رہے گا… یار لوگوں کو جب ناگوار خاطر ہوا… اٹھا باہر پھینکیں گے… آئین عملاً بے اثر رہے گا… جمہوریت کے نام لیوا بہت ہوں گے عملاً اس کی کارگزاری دم توڑ چکی ہو گی… پاکستان فی الواقع نیشنل سکیورٹی سٹیٹ بننے کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے… نوازشریف کو اللہ زندگی دے… سیاسی لحاظ سے وہ ماضی کی داستان بن چکے ہیں… الوداع محترم میاں صاحب الوداع


ای پیپر