دیدۂ عبرت نگاہ ہو
12 جنوری 2020 (17:10) 2020-01-12

دنیا قدم بہ قدم چل کر نبیٔ صادق صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث میں مذکور (باب الفتن) منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ برسرزمین حالات ہر آن مشرق وسطیٰ میں سٹیج تیار کر رہے ہیں۔ عمل میں کوتاہی کے حوالے سے متنبہ کرتی ایک حدیث کے آخر میں آپؐ کا فرمان ہے کہ : ’تم منتظر ہو دجال کے، اور دجال بدترین غائب ہے جس کا انتظار کیا جائے‘۔مسلمان کا حال تو یہ ہے کہ… کب کا ترک اسلام کیا۔ سو احادیث پڑھ کر تمامتر تیاری دجالیوں نے کر ڈالی۔ بیت المقدس پر یہود کی تیاری دیکھ لیں۔ غائب کو حاضر کرنے کی بے تاب قوتوں نے شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خواہ وہ امریکہ تھا، روس، بشار الاسد یا اب امریکی صدر کے مطابق سلیمانی۔ روس کٹر قدامت پرست عیسائیت میں ڈھل کر مسلمانوں کے خون سے ایشیا سرخ کر چکا۔ ہمارے والے نجانے کہاں لال لہرانے کو نکلے تھے۔ روس کی حالیہ ترقی تمامتر انسانیت سوزی میں جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ اب آواز سے 27 گنا تیز رفتار میزائیل بھی اس نے نصب کر دیئے ہیں۔ شامی بچوں کے سکولوں پر براہ راست حملے کر کے انہیں بھسم کر دینے والا خونخوار روس۔ امریکی صدر کے بیان کے مطابق ایران کو 150 ارب ڈالر (انقلاب ایران کے وقت ضبط کردہ) 2013ء میں دیئے گئے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سلیمانی اسی سے اسلحہ اتنے برس برساتا رہا۔ لبنان، شام، عراق اور یمن میں جو کچھ ہوا اظہر من الشمس ہے۔ غضب تو یہ ہے کہ امریکہ مسلسل مشرق وسطیٰ میں فوج بڑھا رہا ہے۔ کویت میں 4 ہزار امریکی چھاتہ بردار فوج تعینات کرنے کے علاوہ، 60 ہزار امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں موجود ہیں۔ امریکی میگزین دنیا میں تیسری عالمی جنگ کے ممکنہ محاذ میں عراق، شام، ترکی کا ذکر کرتا ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ تقریر میں فخریہ بتایا ہے کہ امریکہ اس وقت دنیا میں تیل اور گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اسے اب مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ جسے دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر، (اس دوران اپنا تیل کا خزانہ بچا کر رکھ چھوڑا) کنگال کر کے، جنگوں میں (عراق، لیبیا) بہا کر اب اپنی معیشت کی قوت فخریہ تیل اور اسلحے کی بیان کر رہا ہے۔ امریکی فوج کی مضبوطی، تیز ترین تباہ کن میزائلوں کا تفاخر جتایا ہے۔ نورا کشتی والے نیمے دروں نیمے بروں ایران، امریکہ تعلقات نے جو رخ اختیار کیا، اس میں پاکستان دونوں طرف ٹھنڈے پانی کے چھڑکاؤ کے لیے اگرچہ کمربستہ رہا۔ تاہم کشکول نے دنیا میں ہماری وقعت رہنے نہیں دی۔ تباہ حال معیشت اور کاسۂ گدائی کے ہاتھوں ہمارا حال اسلام آباد کے چوراہوں پر بھیک مانگتے اور پھر پولیس سے چھپتے پھرتے فقیروں سے کچھ کم نہیں۔ رنگ اڑا رہتا ہے۔ کبھی امریکہ سے ڈانٹ پڑتی ہے۔ کبھی سعودیوں کو راضی کرنے دوڑنا پڑ جاتا ہے۔ کبھی اماراتی رئیس ہم سے بگڑ جاتے ہیں۔ ادھر چین ہاتھ سے نکلتا دکھتا ہے۔ ایسے میں ہم عالمی جھگڑوں میں صلح صفائی کیا کروائیں، اپنی ہی خیر مناتے پھرتے ہیں۔ سویلین حکومت اور سیاسی جماعتوں، جمہوریت اور ووٹ کی قلعی تو آرمی سروسز ایکٹ ترمیمی بل نے کھول کر رکھ دی ہے۔ شدید دباؤ تلے اسمبلی سینیٹ میں ریکارڈ 20، 20 منٹ میں ووٹ کی ذلت پر مہر ثبت ہو گئی! سب کڑک ، گرج چمک ہوا ہو گئی۔ تینوں سیاسی جماعتیں، جمہوریت کی بالادستی کی دھواں دھار دعویداری لیے یکایک منقار زیر پر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ بل پر بلبلانے تک کی نوبت نہ آئی سو جمہوریت بلبلہ بن کر اس بل سے اڑ گئی! قوموں میں نوجوان قوت، انقلابی ہوا کرتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں طلباء نے تحریک پاکستان سے لے کر ایوب خان کی آمریت کا دھڑن تختہ کرنے تک مؤثر کردار ادا کیا تھا۔ ضیاء الحق نے یونینز پر پابندی لگا دی۔اس کے بعد نسلی، لسانی دھڑے بندیاں وجود میں آئیں۔ جنہوں نے ایک طرف ہمارا معاشی مضبوط مرکز کراچی اجاڑا۔ دوسری طرف یونیورسٹیاں فکری، نظریاتی تشخص کی جگہ لسانیت کی بھینٹ چڑھیں۔ جوانی کی صلاحیتیں ، عشق عاشقی، فیشن، منشیات، کھیل میں جا کھپیں۔ بھارت کو دیکھیں۔تعلیمی اداروں سے دبے پسے مسلمانوں کو ملک بھر میں آواز عطا کرنے والے نوجوان طلباء اٹھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کا منظر بدل گیا۔ سوئی ہوئی قوم بلا تفریق پوری مودی کے موذی نظریات اور طرزِ حکمرانی کے خلاف آتش فشاں بن کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ نوجوانوں نے جانوں پر کھیل کر،

گولیاں لاٹھیاں کھا کر، مستقبل داؤ پر لگا کر مودی کے قدموں تلے کی زمین کھینچ ڈالی ہے۔ سبق یہ ہے کہ عوام کو احمق سمجھ کر ساری حدیں توڑتے چلے جانے والے، مودی، امیت شا اور اتر پردیش کے یوگی جیسے ہی سراپا قہر کیوں نہ ہوں، گرفت کا دن تو آ کر رہتا ہے۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ اتر پردیش میں یوگی نے ہر حربہ آزمایا۔ عوام نے ملک بھر میں پوری شدت سے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ اب بات مودی، یوگی کے استعفے طلب کرنے تک جا پہنچی ہے۔ یوگی حکومت نے غنڈہ گردی کی حدیں توڑ ڈالیں۔ پولیس والے وردی، بے وردی، چالیس پچاس کی ٹولیوں میں گھروں میں گھس کر لوٹ مار مچانے، خواتین پر تشدد آزمانے ، لاکھوں مانگنے تک جا پہنچے۔ بھارت بھر میں ہمہ نوع مظاہرین اٹھ کھڑے ہوئے۔ تاجروں، کسانوں،

مزدوروں نے ہڑتال کر کے زندگی معطل کر دی۔ کروڑوں سرکاری و نجی ملازمین نے کام چھوڑ دیا۔ تنخواہیں بڑھانے سمیت مطالبات کی فہرست پیش کر دی۔ ہمسائے کے گھر کا یہ فساد ہمارے بڑوں کے لیے بھی سبق رکھتا ہے۔ دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو، میری سنو جو گوشِ نصیحت نیوش ہو۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم کشمیر سے منہ موڑے عالمی جھگڑوں کی ثالثی کروانے بیٹھے ہیں! کشمیر پر اب تو بیان دینے کا تکلف کرنے کی بھی فرصت نہیں ہے۔ امریکی کانگریس کی صومالی رکن نے کشمیر پر دہائی دی ہے۔ا مریکی سفیر سمیت دنیا کے 17 سفارتکار کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ یورپی سفیروں نے بھارتی حکومت کا ہاتھ جھٹک کر آزادانہ عوام سے ملنے کا اہتمام کرنے کو کہا ہے۔ 160 دن سے محصور، گھر گھر سے تلاشیاں گرفتاریاں۔ ان کی خبر لینے کوبیگانی دنیا تو جا رہی ہے۔پاکستان بے نیاز ہے ان کی حالت زار پر ۔ ہم تو وہ ہیں کہ سینیٹ کمیٹی میں ڈاکٹر عافیہ کیس پررپورٹ تک پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ مشاہد حسین سید نے ساٹھ دن کی مہلت مانگی ہے!(کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک) ایسے سینکڑوں 60 دن آئے اور گئے۔ حتیٰ کہ سینیٹ میں چیئرمین نے جماعت اسلای کے رکن کو اس پر بات تک کرنے کی اجازت نہ دی۔ بیٹی تک پر حکومت در حکومت سبھی بے حس، پتھر دل ثابت ہوئے، کشمیر پر کیا توقع باندھی جائے۔ یوں بھی پاکستان میں اب باصلاحیت قیادت کا معیار بھی تو دیدنی ہے۔ کے پی کے میں میٹرک پاس اکبر ایوب کو محکمۂ تعلیم کی وزارت اور محکمۂ ریلیف میں میٹرک پاس اقبال وزیر کو (ان کے نام کی بنا پر؟) وزارت سونپی گئی ہے۔ تعلیم کی تویوں خیر ہے کہ یہ نظام برطانوی مشیروں اور یو ایس ایڈ کے حوالے ہے۔ صرف انگوٹھا چھاپ وزیر درکار ہے سو کافی ہے۔ پڑھا لکھا ہو گا تو شاید اس کا خون جلنے لگے تعلیم کاحشر نشر دیکھ کر! یہ بات الگ ہے کہ یہ قربِ قیامت کی علامت بیان ہوئی ہے کہ ’امانت ضائع کی جائے گی۔ معاملات (ذمہ داریاں، مناصب) نا اہلوں کے سپرد کیے جانے لگیں گے‘۔ (بخاری) یہ اجتماعی زندگی پر ظلم اور شدید معصیت ہے لیکن ہم تو ثواب عذاب سے بے بہرہ بگ ٹٹ تنکے بن کر سیلاب بلا میں بہے چلے جا رہے ہیں۔ خسر الدنیا و الاخرۃ۔ دنیا آخرت دونوں داؤ پر لگائے۔

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں دیکھا

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

مودی کا کارٹون چھپا تھا جس میں ہٹلر نے مودی کو گود میں اٹھا رکھا ہے۔ تاہم دورِ حاضر میں مودی ہٹلر کا اکیلا شطونگڑا نہیں، دنیا بھر میں ہٹلر، ہلاکو کی ذریت اور فرانسیسی (عوام کش) بادشاہ کی نسل ملک ملک فراواں ہے۔ عوام کی حالت زار سے منہ موڑے آئی ایم ایف کی گود میں بیٹھے ہمارے والے کسی سے کم نہیں۔ شوکت یوسفزئی نے عوام کو سستے سرخ آٹے کی روٹی کھانے کی تلقین فرمائی ہے۔ سپر فائن مہنگا آٹا کھانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ فائن آٹا اشرافیہ کے کھانے کا ہے بھلا عوام کیوں کھانے لگے!سو معیشت کے سدھار کے شاہی فارمولوں پر عمل فرمائیے جلد دودھ شہد کی نہریں بہیں گی! گھبرانا نہیں ہے آپ نے۔


ای پیپر