شہباز شریف کو گالی کیوں؟
12 جنوری 2020 2020-01-12

عجیب صورتحال ہے کہ مسلم لیگ ن کے پارٹی سے وفادار کارکن سابق وزیراعلیٰ اور اپنی پارٹی کے صدر شہباز شریف پر برہم ہیں کہ نواز لیگ نے آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ کیوں دیا۔ وہ نواز شریف اور مریم نواز کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے’ ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کاغدارشہباز شریف کو قرار دے رہے ہیںاورمیں حیران ہوں کہ شہباز شریف نے یہ نعرہ لگایا ہی کب تھا۔ میں نے شہباز شریف کو جی ٹی روڈ پر بھی نہیں دیکھا اور ان جلسوں میں بھی نہیں جہاں انقلابی نعرے بلند کئے جا رہے تھے۔ لیگی کارکن ریکارڈ درست کر لیں کہ شہباز شریف نے پارٹی کے منشور سے بورڈوں اور پوسٹروں تک پر ایک دوسرا نعرہ ثبت کروایا تھا جو’خدمت کو ووٹ دو‘تھا۔

ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے جب یہی لیگی کارکن شہباز شریف کو گیم چینجر قرار دے رہے تھے جس نے نواز شریف کو جیل کی کال کوٹھڑی سے نکال کر لندن پہنچا دیا تھا اور اب پارٹی کے دماغوں کو بیٹھ کر سوچنا چاہئے کہ بطور سیاسی جماعت اور محب وطن شہری ان کا راستہ کیا ہونا چاہئے۔ مجھے یاد کرلینے دیجئے کہ ہم تین صحافی پرویز مشرف کے دور کے ابتدائی دنوں میں ماڈل ٹاﺅن میں بیگم کلثوم نواز کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس خط کا ذکر چھڑ گیا جو مبینہ طور پر شہباز شریف نے لکھا تھا اوراس میں مشورہ دیا گیا تھا کہ پارٹی دیوار ( یعنی پرویز مشرف جو اس وقت آرمی چیف اور ایک ڈکٹیٹر تھے) سے ٹکر نہ مارے۔ بیگم صاحبہ اس خط کے بارے میں جان کر غصے میں آ گئی تھیں اور انہوں نے کہا تھا شہباز شریف یہ مشورے نواز شریف اور پارٹی کے بجائے اپنے دوست پرویز مشرف کو کیوں نہیں دیتے۔ میں ان دنوں روزنامہ’ دن‘ کا چیف رپورٹر ہوا کرتا تھا اوریہ خبر اگلے روز شہ سرخیوں کے ساتھ ’نوائے وقت ‘اور’ جنگ ‘میں بھی شائع ہو گئی تھی۔ ابھی چند روز قبل ہی جب ہم یعنی میں، جناب سلمان غنی اور جناب پرویز بشیر ایک طویل عرصے بعد بیگم تہمینہ دولتانہ کے سالانہ برنچ میں ملے تو ہم اس بات کو یاد کر رہے تھے۔ میاں شریف ( اللہ تعالیٰ انہیں غریق جنت کرے) نے ان دونوں خبروں کی تردید کروا دی تھی کہ شہبا زشریف نے کوئی خط لکھا ہے یا بیگم صاحبہ نے شہباز شریف اور پرویز مشرف کو دوست کہا ہے۔ ہم پروفیشنل جرنلسٹس کو اکثر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ آنکھوں، دیکھی اور کانوں سنی بات کی بھی تردید ہوجاتی ہے مگر بہرحال اسے سیاستدان اپنا حق سمجھتے ہیں۔

بات ان مسلم لیگی کارکنوں کی ہو رہی ہے جنہوں نے جناب شہبازشریف کے اس ٹوئیٹ پر ردعمل کااظہار کیا جس میں انہوں نے پاکستان ائیرفورس کے تربیتی جہاز کے کریش ہونے پر شہید ہوجانے والے دو پائلٹوں کے خاندانوں سے اظہار افسوس اور اظہار ہمدردی کیا۔ کیا یہ بات قابل قبول ہے کہ ہم اپنے شہید ہوجانے والے بیٹوں اور بھائیوں کے لئے افسوس کااظہار بھی نہ کر سکیں اور اسے بھی بوٹ پالش قرار دیا جائے۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیںکہ مسلم لیگی رہنماﺅں کی اکثریت فوج سے تصادم کی پالیسی سے خوش نہیں ہے مگر سوشل میڈیا کے ایک حصے نے طوفان برپا کر رکھا ہے۔ ان لوگوں کے جذبات اور احساسات کومریم نواز نے مہمیز کیا تھا۔ ان میں سے اکثریت وہ ہے جو پہلے پیپلزپارٹی کے ووٹر ہوا کرتے تھے مگر میاں نواز شریف نے انہیں اپنی طرف راغب کر لیا۔ جب ہم پورے منظرنامے کا شروع سے آخر تک جائزہ لیتے ہیں تو اس نتیجے پر آسانی سے پہنچ جاتے ہیں کہ تصادم نواز شریف کی بھی پالیسی نہیں تھی۔ یہ وہی نواز شریف ہیں جنہوں نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دینے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری سے نہ صرف طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی تھی بلکہ اس وقت روس میں موجود جنرل راحیل شریف کو فون کر کے اپنی اس کارکردگی سے آگاہ بھی کیا تھا۔یہ خبر اس وقت کثیرالاشاعت اخبار کے صفحہ اول پر تین کالم شائع ہوئی تھی ۔ نواز شریف محتاط تھے مگر ان کے جانباز آخری حد تک چلے جاتے تھے اور یوں نواز لیگ نے عوامی بلڈ پریشر بہت بڑھا دیا تھا۔

میں نے دو سے تین عشروں کی سیاست کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شہباز شریف نے ہمیشہ مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پُل بننے کی کوشش کی مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کو سراہا جانا چاہئے کہ انہوں نے اپنے بھائی سے بغاوت نہیں کی ورنہ جہاںچودھری پرویز الٰہی بغاوت کرکے وزیراعلیٰ پنجاب بن سکتے تھے تو وزارت اعلیٰ یا وزارت عظمیٰ کا ا س راستے سے سفر شہباز شریف کے لئے بھی ہرگز مشکل نہیںتھا۔ وہ اپنے بھائی کے وفادار رہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ خود انتہائی جانفشانی اور ایمانداری سے کام کرنے کے باوجود گرفتار ہوئے ، ان کا داماد اپنا گھر اورکاروبار چھوڑ کرنے جانے پر مجبور ہوا اور اس کا ایک بیٹا پابند سلاسل ہے اور اگر باقی واپس آجائیں توانہیں بھی جیل جانا پڑے گا۔ اب کوئی یہ نہ کہے کہ شہباز شریف نے نواز شریف سے فیصلہ کروالیا ہے کیونکہ بڑے میاں صاحب روٹی کو چوچی نہیں کہتے۔ یہ فیصلہ نواز شریف کا ہی ہے اور انہوں نے ہی پارٹی رہنماﺅں کو سنایا ہے۔ شہباز شریف اگر نواز لیگ کے صدر ہیں تو یہ بھی نواز شریف کی ہی مرضی اور منشاہے۔ یہ نواز شریف ہی کی حکمت عملی ہے کہ ایک طرف وہ جمہوریت پسندوں کے ہیرو بننا چاہتے ہیں تو دوسری طرف اپنے بھائی کے ذریعے بیک ڈور چینل کو بھی بندنہیں کرنا چاہتے لہٰذا جس نے جو کہنا ہے وہ نواز شریف کو کہے جنہوں نے مسلم لیگ کے جذباتی کارکنوں کے مطابق ایک یوٹرن لے لیا ہے جبکہ شہباز شریف تو اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں وہ آج سے پچیس، تیس برس پہلے کھڑے تھے۔ آپ شہباز شریف کی سوچ اور حکمت عملی سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر آپ کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ انہوں نے نہ تو اپنے بیانات کے ذریعے منافقت کا مظاہرہ کیا ہے اور نہ ہی ان ووٹروں ، سپورٹروںکو دھوکا دیا ہے جو پنجاب میںان کی شاندارکارکردگی کے معترف ہیں۔

نواز شریف ، پرویز مشرف کے دور میں بھی مانے تھے کہ راستہ شہباز شریف کی پالیسی سے ہی نکل سکتا ہے اوراب بھی کوئی بیان دئیے بغیر تسلیم کرنا پڑا ہے کہ یہی راستہ درست ہے۔ جمہوریت کے لئے جذباتی کارکنوں سے درخواست ہے کہ پہلے سیاستدانوں کو اپنی کارکردگی دکھا لینے دیجئے، اپنا اعتبار بنا لینے دیجئے جس طرح شہباز شریف نے پنجاب میں پرفارم کیا ااور جب آپ کے بازووں میں اتنی طاقت آجائے کہ آپ لڑ سکیں تو ضرور لڑ لیجئے گا مگر اس سے پہلے بڑھکیںاور ٹکریں مت مارئیے۔ نواز شریف کے یوٹرن پر شہباز شریف کو برا بھلا کہنا عقل ، منطق اور سیاست کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ شہباز شریف شروع سے اب تک مقتدر حلقوں سے مل کر چلنے کے حق میں ہیں اورواضح ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن)کی یہی پالیسی ہو گی۔ لیگی کارکنوں سے درخواست ہے کہ یہ انقلابی قسم کے نظرئیے وزرئیے کچھ دیرکے لئے ایک طرف رکھ دیں، کوشش کریںکہ وہی پارٹی دوبارہ برسرا قتدار آجائے جس نے ایک ہی پارلیمانی مدت میں دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ جیسے جن بوتل میں بند کئے، جس نے موٹرویز ہی نہیں بنائیں بلکہ ریکارڈ اقتصادی ترقی کی مثالیں قائم کیں ، مہنگائی کنٹرول کی اور بے روزگاری جیسے عفریت پر بھی قابو پایا، ہمیں ابھی سیاستدانوں سے اپنے لئے صرف یہی چاہئے۔

ہمیں دوستی کسی سیاستدان سے نہیں نبھانی بلکہ اپنے ملک اور عوام سے نبھانی ہے۔ دوستی صرف ساتھیوں کولڑا دینے کا نام نہیں ہوتی،یہ انہیں پٹائی اور تباہی سے بچانے کا نام بھی ہوتی ہے۔


ای پیپر