کیا کریں ۔۔ کیا نہ کریں ۔۔ یہ کیسی مشکل ہائے !!
12 جنوری 2019 2019-01-12

حکومت کے گزشتہ چار ماہ کودیکھتے ہیں تو خومخواہ گنگنانے کو دل کرتا ہے کہ کیا کریں ۔۔ کیا نہ کریں یہ کیسی مشکل ہائے ۔۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان مشکلوں سے لڑ لڑ کے ہی قیادتیں ابھرتی ہیں اور قوموں کی تقدیریں بھی لیڈرشپ کے ذریعے ہی بدلتی ہیں ۔۔ ’کوا چلا ہنس کی چال‘جیسے جملے پر چلنے والے بیسیوں آتے ہیں ۔۔ بیسیوں چلے جاتے ہیں ، ان سے نہ تو قوموں کو فرق پڑتاہے نہ ہی اقوام عالم کو ۔۔ فرق پڑتا ہے تو منفرد اور عظیم قیادت سے ۔۔ جس کا کردار ، اطوار اور اخلاقیات ۔۔ آنے والوں نسلوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔۔ لیکن اپنے آپ کو الگ دکھانے کے چکر میں ہمارے لیڈرز بہت کچھ غلط کرنے لگ جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا ادراک تک نہیں ہوتا ۔۔ کچھ الگ۔۔ کرنے کے چکر میں بہت ۔۔کچھ غلط ۔۔ کرجانے کے درمیان ایک باریک سی لائن ہے ۔۔ اسی کو ریڈ لائن کہا جاتا ہے ۔۔ یہ سرخ لکیر ایک بار عبور ہو ، دو بار عبور ہوتومعاملہ پھر بھی قابل قبول ہوتا ہے لیکن الگ کے چکر میں ہر بار غلط ہوتا جائے تو یہ عمومی رویہ بن جاتا ہے جسے نہ تو قوم تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی اقوام عالم ۔۔۔۔ گزشتہ دنوں پاکستان اور ترکی کے درمیان سفارتی وفد کی ترکی میں ملاقات کی تصویر منظر عام پر آئی ۔۔ اس تصویر کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔۔ اس تصویر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور پاکستانی وفد کے دیگر لوگوں کو ایک سفارتی سطح کی ملاقات میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بڑے بے باک اور بے ترتیب انداز میں بیٹھے دیکھا گیا ۔۔ جبکہ ترکی کا وفد انتہائی مستعد ، چاک و چوبند اور سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے منجھا ہوا پینل دکھائی دیا ۔۔ تصویر وائرل ہونے کے کافی دن بعد تک میں اس تصویر کو ٹٹولتا رہا ۔۔۔ مجھے کچھ الگ اور کچھ غلط میں فرق ڈھونڈنا تھا ۔۔ پھر میری نظر سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ایک اور تصویر گزری جس میں وہ ترک قیادت کے ہمراہ غالبا کسی مقدس مقام پر موجود ہیں ۔۔ تمام ترک قیادت دوزانوں بیٹھی ہے جبکہ وزیر اعظم پاکستان ہی واحد شخصیت تھے ۔۔ جو صوفی انداز سے ہٹ کر اپنے ہی ملنگ انداز میں صف پر بیٹھے نظر آئے ۔۔ اس تصویر کو بھی سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔۔ میں اس تصویر کو بھی کئی دن تک ٹٹولتا رہا ۔۔ کچھ الگ اور کچھ غلط کے درمیان فرق ڈھونڈتا رہا ۔۔ لیکن میری کنفیوژن دور نہ ہوسکی ۔۔پھر ایک دن میری نظر سے معروف سائنس دان البرٹ آئین اسٹائین کی زندگی اور Theory of Relativity کی تاریخ گزری۔۔ آئین اسٹائین کی اس تھیوری پر پوری طبیعات کا علم ٹکا ہوا ہے ۔۔ایسا لگتا ہے کہ آئین اسٹائین کا یہ کارنامہ نہ ہوتا تو علمِ طبیعات میں بہت کمی رہ جاتی ۔۔ اس تھیوری سے پہلے بہت سے مفروضے موجود تھے ۔۔مگر ان کو ثابت کرنا آسان نہ تھا ۔۔ آئین اسٹائین نے تھیوری پیش کی تو واویلا مچ گیا کہ پہلے سے موجود نظریات کے بالکل برعکس ہے ۔۔کیونکہ یہ دیگر نظریات سے متصادم ہے اس لئے اسے ماننا آسان نہیں ۔۔ آئین اسٹائین کو اپنے سائنسی رفقا کے سامنے پیش ہونا پڑا ۔۔ گھنٹوں بحث ہوتی رہی اور بحث کا موضوع محض یہ تھا ۔۔کہ آپ کی بات فلاں نظریے کی نفی کرتی ہے ۔۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے ۔۔ یہ قوانینِ طبیعات کے برخلاف ہے ۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ یہ طبعی سائنس کی حدیں عبور کرنے والا نظریہ ہے۔۔ قصہ مختصربحث کافی دیر تک ہوتی رہی ۔۔ تمام تجربات اور شواہد پیش کرنے کے باوجود دیگر رفقا اپنی منطق پرڈٹے رہے ۔۔ کہ مباحثے کی برف پگھلتی ہے اور اس بحث کے دوران آئین اسٹائین چند تاریخی جملے بولتا ہے ۔۔

We worship rules to become the follwers , followers only follow , they learn to keep in the que , they can not break the barriers , once they think to break the ice , they make new rules and let others follow them, they become trend Setters. Theory of Relativity is a new begginning untill a new invention.

ہم قوانین کی پرستش کرتے ہیں تاکہ اچھے پیروکار بن سکیں ، پیروکار صرف پیچھے چلتے رہتے ہیں ، انہیں لائن میں چلنے کی عادت ہوتی ہے ، وہ رکاوٹین پھلانگنے کی جرات نہیں کرتے ، جب انہیں لگتا ہے کہ کوشش سے برف

پگھل سکتی ہے تو وہ اپنے اصول و قوانین تجویز کرتے ہیں اور ٹرینڈ بن جاتے ہیں ، میری تھیوری بھی نئے آنے والے نظریے تک علم طبیعات کی نئی شروعات ہے ‘ تصاویر والے معاملے پر آئین اسٹائین کی اس بات نے میری مشکل آسان کردی ۔۔ہمیں کچھ چیزیں اس لئے بری لگ رہی ہوتی ہیں کیونکہ ہم نے ان چیزوں کو ضابطوں اور قوانین کے تناظر میں دیکھا ہوتا ہے ۔اس سے ہٹ کر ہم دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ کہیں کچھ الگ کرنے کے چکر میں کچھ غلط نہ ہو جائے ۔۔لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارے سفارتی وفد کو سفارتی آداب کو ملحوظ رکھنا چاہئے تھا ، شاید وہ اپنی جگہ پر درست بھی ہوں لیکن میری نظر میں قیادتیں ایسے ہی ابھرتی ہیں ۔ جو دوسروں کو اپنے الگ ایکشنز کی وجہ سے متوجہ کرتی ہیں ، لوگوں کو جب ایک آدھ مثال ملتی ہے کہ ہاں کسی نے ایسا بھی کیاتھا تو لوگ اس مثال کے پیچھے چلنا شروع ہوجاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ٹرینڈ بنتے چلے جاتے ہیں ۔ شاید ہمیں اس لئے برا لگا کیونکہ سفارتی سطح پر لوگ ایس او پیز کا خیال رکھتے ہیں ، پروٹوکولز میں احتیاط برتتے ہیں ۔۔ لیکن یہاں پر وزیر اعظم اور ان کی ٹیم ۔۔ نئے رجحانات متعارف کراکے بین الاقوامی کمیونٹی کو اپنی جانب متوجہ کر چکی ہے ۔۔ اسے غلط نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ الگ کرنے کا طریقہ ہے جو لیڈرشپ کے کھاتے میں جاتا ہے ۔ اور عظیم قیادتیں ایسے ہی ابھرتی ہیں ۔۔ شاید لوگوں کو میری یہ بات بری لگے لیکن ہوسکتا ہے کچھ عرصے بعد ترک صدر کسی سفارتی محفل میں عمران خان اور ٹیم کو کاپی کرتے ہوئے دکھائی دیں ۔۔ پھر شاید لوگوں کو لگے کہ جو ہمارے سفارتی وفد نے کیا اب فیشن بن چکا ہے۔ اسے آپ سفارتی یکتائی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ سفارتی بے ادبی قطعی نہیں تھی ۔۔یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن اب ’غلط ‘ کی بات جو ’الگ‘ کرنے کے چکر میں حکمراں جماعت مسلسل کئے جا رہی ہے ۔۔اس غلط کا تعلق حکومتی وزرا ء کے رویے سے ہے ۔۔ سب کو پتہ ہے اقتدار آنی جانی چیز ہے ، اللہ نے خوش قسمتی سے یہ اقتدار تحریک انصاف کا مقدر ٹھہرایاہے تو تدبر اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے سنبھالنے کی کوشش بھی تحریک انصاف کے نمائندوں ہی کی جانب سے کی جانی چاہیے ۔لیکن یہاں تو لگتا ایسا ہے کہ گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے ۔ہرسطح پر اخلاقی معیارات کو مسخ کیا جا رہا ہے ۔اداروں سے لے کر میڈیا کے سامنے طبع آزمائی تک ۔۔ اچھل اچھل کر باونڈری لائن کراس کی جارہی ہے ۔۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ کچھ الگ کر رہے ہیں لیکن دانستہ یا نادانستہ ۔۔ الگ کے چکر میں غلط ان سے ہورہا ہے اور مسلسل ہورہا ہے۔۔۔شاید حکومتی نمائندوں کو یقین ہی نہیں آپارہا کہ وہ اب حکومت میں ہیں ۔انہیں یقین دلانے کا آزمودہ نسخہ بتا تا ہوں ۔۔ پہلا حل تو یہ ہے کہ جو وزراء شادی شدہ ہیں ، ان کی بیگمات کو روزانہ صبح سویرے یہ بات اپنے شوہروں کو ازبر کرادینی چاہیے کہ اب آپ جلسہ گاہ میں نہیں بلکہ وزیر اور مشیر بن چکے ہیں (کچھ ٹپس خاتونِ اول سے بھی لئے جاسکتے ہیں )۔۔ یا ۔۔ کم ازکم چھ ماہ کے لئے حکومتی نمائندوں کو گوشہ نشینی اختیار کرتے ہوئے ممکنہ ’مثبت رپورٹنگ‘ پر تکیہ کرنا چاہیے۔۔ یا پھر رات گئے ۔۔’ میرے پاکستانیو ! گھبرانا نہیں ‘ ۔۔ کی تسبیح کا ورد کریں تو شاید افاقہ ہوتا جائے۔۔ اس سے نہ صرف صحافی برادری کو آپ کی توقعات کے عین مطابق رپورٹ کرنے کابھرپور موقع ملتا رہے گا بلکہ ظلِ الہی یعنی وزراء برادران ۔۔سے منشا کے بغیر سوال کرنے کی جرات بھی کوئی نہیں کرسکے گا ۔ بات کروں گا تو گستاخی ہوگی لیکن مجھ سے بڑا’ تبدیلی ‘کا شیدائی شاید ہی کوئی ہوگا ۔ عمران خان دورِ حاضر میں پاکستان کی اولین ضرورت بن چکے تھے ۔وہ ایک ایماندار اورکامیاب کھلاڑی کے ساتھ ساتھ کامیاب سیاستدان بھی ہیں ۔ اور احتساب کے جس نعرے پر وہ استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں ، کسی جہاد سے کم نہیں ۔۔وہ کچھ الگ کرنا چاہتے ہیں ۔۔ ٹرینڈ سیٹ کر نا چاہتے ہیں ۔۔ جبکہ ان کی ٹیم یعنی وزرا ء الگ کرنے کے چکر میں مسلسل غلط کررہے ہیں ۔۔افسوس اس بات کا ہے کہ اپنی مشینری کی ترجمانی کے لئے جتنی’ نامعقول ٹیم‘ خان صاحب نے منتخب کی ہے ۔ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اور یہ نامعقولیت ۔۔وزراء برادران ۔۔وزارت ملنے کے پہلے دن سے ثابت کررہے ہیں ۔۔ ۔ جن موصوف نے گزشتہ دنوں صحافیوں کو تمیز دار سوالات پر لیکچر دیتے ہوئے شتر بے مہار جیسے لفظ استعمال کئے ۔ ان کا اصلی چہرہ دکھانے لگ جاوں تو صفحات تک کالے ہوجائیں ۔تمیز کا لیکچر دینے سے پہلے انہیں یہ سیکھنا چاہیے کہ حسن سلوک کیا ہوتا ہے ۔ ان موصوف کو ذرا آسمان سے نیچے آکر سمجھ لینا چاہیے کہ آپ صوبائی وزیر اطلاعات ہیں نہ کہ وزیر اعظم پاکستان ۔۔ اور وزارت بھی ایسی جس کے جانے میں چند گھنٹے بھی نہیں لگتے ۔ان کو خوداحتسابی کرتے ہوئے اپنے اندر موجود رعونیت سے بھرپور چوہان سے پوچھنا چاہیے کہ سب کو ایک ہی تلاوڑے میں تولتے ہوئے بھرے میڈیا کو تمیز کا لیکچر دینے سے پہلے آپ کو کچھ شرم یا کچھ حیاکیوں نہیں آئی ۔ یہی حرکت کچھ دن پہلے واوڈا صاحب نے کی تھی ۔ اس کے بعد عامر لیاقت نے بھی ایک شو میں کچھ ایسا ہی کیا ۔ یہ تمام حضرات اور تو کچھ نہیں کررہے بس اپنے وزیر اعظم کو مزید مشکل میں دھکیل رہے ہیں جس پر پوری قوم تکیہ کئے بیٹھی ہے ۔ان تمام معزز حکومتی نمائندوں کو عقل کے ناخن لینے چاہیءں اس سے پہلے کہ جھاڑو پھر جائے ۔’چراغ سب کے بجھیں گے ، ہوا کسی کی نہیں‘ کے مصداق ۔۔ بادشاہت آنی جانی چیز ہے ۔عجز وانکساری ہی میں بقا ہے ۔حکومتی وزراء کے اسی رویے کی وجہ سے حمایتی بھی مخالف بنتے جا رہے ہیں اور کہنے پر مجبور ہیں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے لوگ بدعنوان تو ہوسکتے ہیں لیکن بدتمیز نہیں ، بدتمیزی کا یہ طوق تحریک انصاف کے نمائندوں کو اپنے گلے سے ہٹانا ہوگا ۔۔ حکومتی بینچوں میں بیٹھ کر اپوزیشن جیسا رویہ روا رکھنا کسی طور ’الگ ‘کرنے کی کوشش نہیں ہو سکتی ۔۔ یہ طے ہے کہ حکومت ، تحریک انصاف کے لئے نئی ہے ، چیلنجز ۔۔ تحریک انصاف کے لئے نئے ہیں ، معاملات ۔۔ اور واقعات ان کے لئے نئے ہیں ۔۔ لیکن جس قوم نے انہیں مینڈیٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا ہے ۔۔حکومتی وزراء کا نازیبا رویہ ان کے لئے بھی نیا ہے ۔۔ یہ آپ کی قوم ہے ، یہ آپ کے لوگ ہیں ، یہ آپ کا میڈیا ہے ۔۔ ان سے اچھے سے بات کریں ۔۔ ریلیف تو آپ جب دیں گے تب دیں گے لیکن کچھ الگ کے چکر میں بار بار غلط کرکے پوری قوم کو اپنا مخالف بنانے سے اجتناب کریں ۔۔۔کچھ الگ کرنا ہے ضرور کریں ۔۔ لیکن یہ بھی جان لیں کہ الگ اور غلط میں ایک باریک سی لائن ہے ۔ اس لائن کی اہمیت کو سمجھیں اس پہلے کہ اہمیت دینے والے کرسی سے ہٹانے والے بن جائیں ۔


ای پیپر