دعا کیے جائیں
12 جنوری 2019 2019-01-12

رینڈ کارپوریشن، صلیبی جنگ کا نفسِ ناطقہ اور پالیسی ساز امریکی تھنک ٹینک نے جہاں پہلے مسلم دنیا میں نیا اسلام متعارف کروانے (ماڈریشن) کے لیے دھڑا دھڑ مقالے لکھے۔ کتابیں شائع کیں۔ جس پر امریکی حکومت نے حرف بہ حرف عمل کر کے نیا اسلام تشکیل دیا۔ رینڈ کارپوریشن نے اس کا عنوان ، ’اسلام میں اصلاحات‘، ’اسلام کا چہرہ بدل ڈالنا‘ رکھا تھا۔ آج واقعتا سعودی عرب تا پاکستان اسلام پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔ اب یہی رینڈ، افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کی منظر کشی کر رہا ہے۔ قابلِ قبول، باعزت واپسی کیونکر ہو؟ اس پر 49 صفحے لکھ مارے ہیں۔ فرضی احکامات کا پلندہ تیار کر کے میڈیا پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ اسی نفسیاتی جنگ کا تسلسل ہے جسے رینڈ نے پوری مسلم دنیا پر مقالوں کی بھرمار کے ذریعے مسلط کیا۔ امریکہ نے ڈالروں کی برسات سے اس پلان میں رنگ بھرا تھا۔ تاہم اب صورت حال بدل چکی ہے۔ اب مدِ مقابل طالبان ہیں۔ رینڈ، امریکی اتحادی 59 ممالک کے اشرف غنی نما حکمرانوں پر ماڈریٹ اسلام مسلط کرنے میں تو کامیاب ہو گئی۔۔۔ مگر طالبان تو امریکہ کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کر چکے۔ ان پر رینڈ کی بین کیا بجے گی! رینڈ کے مطابق اب ’’افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے دستخط کے بعد افغانستان میں فوری جنگ بندی شروع ہو جائے گی۔ طالبان تشدد بند کرنے (یعنی امریکی اور افغان کٹھ پتلیاں مارنے اور امریکہ کا ’تراہ‘ نکالنے سے باز آجائیں گے؟) اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کریں گے‘‘۔ (ان سے نا تہ توڑ کر حقیقی عالمی دہشت گرد امریکہ سے دوستی گانٹھیں گے؟)۔۔۔ یہ کہانی ابھی آگے چلتی ہے۔ تاہم دلچسپ خواب ہے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ ’خواب‘ اچھا ہے! فی الحال تو امریکہ سے سعودی عرب میں جو مذاکرات ہونے کو تھے، طالبان اس سے انکاری ہو کر چل دیئے کہ مذاکرات قطر میں کریں گے۔ وجہ سعودی دباؤ بنی، جو کابل حکومت کو مذاکرات میں شریک کرنے کا تھا! طالبان نے دبنا سیکھا ہوتا تو آج منظرنامہ یہ نہ ہوتا! سو، بلی کو سمجھانے آئے چوہے کئی ہزار، کا منظر ہے فی الحال۔ ایران، پاکستان، چین، بھارت کے پیچھے امریکہ، خلیل زاد کو بھجوا رہا ہے کہ کسی طرح طالبان کو رضا مند کر لیا جائے۔ کابل کٹھ پتلی حکومت کو طالبان نا محرم گردانتے ہیں، ان سے پردہ کرتے ہیں۔ سو کسی کے سمجھائے وہ راضی نہیں ہو رہے۔ جنگ بندی پر تیا رنہیں اور امریکہ کے انخلا سے کم پر راضی نہیں۔ قطر میں ہونے والے مذاکرات بھی مزید مؤخر ہو گئے۔ ایجنڈہ طالبان کے لیے قابل قبو ل نہ تھا۔ طالبان کی فتوحات تیزی سے بڑھ پھیل رہی ہیں۔ باد غیس میں 30 دیہاتوں پر ایسا قبضہ ہوا کہ سینکڑوں افغان فوجی پوسٹیں چھوڑ کر بھاگے۔۔۔ طالبان اب صوبائی دارالخلافہ پر دستک دے رہے ہیں! رینڈ بے چاری لاکھ ڈکٹیشن دے، لیکن طالبان کی تاریخ تو یہ ہے کہ ان کے سپہ سالار، امیراور مربی ملا عمرؒ نے ایک مسلمان۔۔۔ اسامہ بن لادنؒ کی خاطر 18 سال، پوری موجود دنیا سے جنگ مول لی تھی۔ رینڈ نے یہ بھی اپنے مجوزہ معاہدے میں فرمایا کہ ’امریکہ اور نیٹو، 18 ماہ میں اپنے مشن بند کر دیں گے، افغانستان میں عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔ افغان شہری امریکہ اور نیٹو کے انخلا کے بعد مدد کے لیے عالمی ٹیم بلا سکتے ہیں۔ کیا خوب درفنطنیاں چھوڑی ہیں! عبوری حکومت کس کی، کونسی ہو گی؟ طالبان نے جمہوری حکومت قائم کرنی ہوتی تو 18 سال لڑتے؟ خلافت، امارت ہی تو امریکہ کے گلے میں پھنسی ہڈی ہے۔ رینڈ نے ہڈی نکالنے کا نسخہ نہیں بتایا۔ اسی تھنک ٹینک کی کارندہ شیرل بینارڈ (اہلیہ خلیل زاد) نے جمہوریت بمقابلہ خلافت اور ماڈریٹ مسلمان بمقابلہ ’شدت پسند‘ (یعنی شریعت پسند) پر خود بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ ماڈریٹ جمہوریت طلب اور طالبان خلافت طلب ہیں ان کے اپنے اقوال فرمودات کے مطابق۔ لیکن اب ’رینڈ‘ ان کی حکومت کو نہ کوئی عنوان دے رہے ہیں نہ اس کی ہیئت بیان کر رہے ہیں! افغان شہری عالمی برادری کو پکارتے دکھائے ہیں، جو پھر ایک چھوٹی افغان سپورٹ ٹیم بنائے گی۔ افغان شہری۔۔۔؟ موم بتی مارکہ سول سوسائٹی؟ یعنی بیرونی مداخلت کا دروازہ کھلا رہے؟ یہاں رک کر حرج نہیں کہ ایک نظر روسی انخلا جنگ آزمائی کے بعد دیکھ لیا جائے۔ روسی جرنیل نے آمو دریا پر حیراتن پل پیدل پار کیا۔ وہاں رک کر آخری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا کہ ’ہم دوبارہ کبھی افغانستان کی طرف پلٹ کر نہ دیکھیں گے‘۔ انخلا کے بعد روسی کٹھ پتلی نجیب اللہ کو وقتی مدد روس سے ملتی رہی۔ تاہم 1991ء میں سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے پر نجیب اللہ یتیم ہو گیا۔ 1992ء تا 1996ء (طالبان کی فتح تک) نجیب اللہ یو این کے کمپاؤنڈ میں پناہ لئے رہا۔۔۔ تآنکہ 27 ستمبر 1996ء کو طالبان نے اسے کمپاؤنڈ سے نکال کر صدارتی محل کے سامنے سر عام پھانسی دی۔ افغان شہری، ہجوم کئے نعرہ زن تھے۔ مرگ بر کمیونسٹ، نجیب اللہ! کابل کا قصاب! امریکہ کے اپنے انخلا کا ایک ماڈل ویت نام میں امریکی پسپائی کا ہے جو نہایت توہین آمیز ہے۔ سائیگون میں ویت کانگ (1975ء) کے داخل ہونے پر امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے لٹک لٹک کر جس افراتفری میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے وہ آج بھی ان کی جنگی نفسیات پر آسیب بن کر چھایا ہوا ہے۔ رینڈ کارپوریشن اسی ذلت

سے بچانے کے لیے بہتر نقشے تراش رہا ہے۔ ادھر پاکستانی ماڈریٹوں پر بھی امریکی انخلاء کی افسردگی، آزردگی اور کسی درجے خوف کی کیفیت طاری ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ فتوحات بڑھتی گئیں تو (تاریخ کی روشنی میں) اشرف غنی اور حکومتی مہرے جو آسٹریلیا، جرمنی، امریکہ سے لا کر پلانٹ کیے گئے تھے الٹے پاؤں دوڑیں گے۔ فلائٹیں بک ہوں گی۔۔۔ جیسے 1996ء میں طالبان کی آمد سے ایک رات پہلے کمیونسٹ بھاگ لیے تھے۔ رُت بدل رہی ہے۔ حتیٰ کہ بھارتی آرمی چیف نے مودی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ’انہیں طالبان سے غیر مشروط گفتگو کرنی چاہیے‘۔ (طالبان کی آمد پر بھارتی مفادات کے تحفظ کے لیے!) ایک طرف طالبان کی فتوحات اور ماہرانہ ڈپلومیسی، اسلام کی سر خروئی کا عجب نظارہ دکھا رہی ہے۔ دوسری جانب ماڈریٹوں کی اپنی نرالی خوشیاں ہیں۔ مثلاً دنیا بھر کے لبرل، ماڈریٹ ’مسلمان‘ دو مسلم خواتین کے امریکی کانگریس کا حصہ بن جانے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے! صومالی الہان عمر نے تو سر ڈھانپ رکھا تھا۔ تاہم ان کی نگاہوں کا اصل مرکز فلسطینی راشدہ طلیب رہی۔ جس نے چھوٹتے ہی بدکلامی، بلکہ فحش کلامی کی انتہا کر دی۔ ٹرمپ کے لتے مردانہ مغلظاتی زبان میں لینے پر ڈیمو کریٹ ہمنواؤں نے شاباش دی کہ وہ بات جو لوگ بہت عرصے سے سوچ رہے تھے وہ اس نوزائیدہ کانگریس ممبر خاتون نے کہہ ڈالی! یہ گلوبل زبان ہے۔ فیشن میں بدرنگی جینز ، پھٹے کپڑے، اجڑے بال ہیں۔ اخلاقی گراوٹ بحرِ مردار والی تہذیب کی ہے۔ تو نمائندہ زبان ایسی ہی ہو گی۔

شائستگی کی توقع عبث ہے۔ اس پر شاباش بھی عجب نہیں۔ تاہم ایسی مسلمانی پر فخر کرنے کو جو دل جگر گردہ درکار ہے وہ ہمارے پاس تو نہیں۔ ایک ماڈریٹ پاکستانی لکھاری نے (انگریزی میں) اس پر خوب فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی، یا اس سے بہت کم (بے ہودہ) زبان یہاں کسی عورت نے استعمال کی ہوتی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ آزادی امریکہ ہی دے سکتا ہے! اے وائے ’آزادی‘ اگر ایں است ’آزادی‘! نیز یہ سرخاب کا پر الگ کہ راشدہ طلیب نے مسلمان عورتوں کا فرسودہ، دقیانوسی روایتی تصور توڑ ڈالا۔ ہمارے ہاں بھی خاتون DPO نے امریکی کانگریس کے لیے اہلیت ثابت کر دی ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ عارف والہ میں کھلی کچہری کے دوران 90 سالہ بزرگ سفید ریش تاجر رہنما کو (سر پر ہاتھ رکھنے پر) تھپڑ مارے، غلیظ گالیاں دیں۔ یہ بھی شیرِ نر خاتون نکلی! تاجر رہنما تھانے میں بند کر دیا! پورا شہر ہنگامہ زن رہا۔ اِدھر امت گونا گوں مسائل میں ہنوز گرفتار ہے۔ روہنگیا، کشمیر، غزہ میں حالات جوں کے توں ہیں۔ ایسے میں سنکیانگ کے مسلمانوں پر بات کرنے کو بھی کوئی تیار نہیں جن کی مسلمانی بزور ختم کی جانے کی ہولناک خبریں، ویڈیوز مسلسل آ رہی ہیں۔ ایسے میں عمران خان سے جب ایغور مسلمانوں بارے پوچھا گیا تو تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے لا علمی کا اظہار کر دیا۔ عالمی سطح پر مسلمانوں پر ٹوٹتی قیامتوں کے سدباب کے لیے بہادر قیادت درکار ہے جو ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرأت رکھتی ہو۔۔۔ ایمان سے مالا مال ہو۔ محمد الکامل ؒ ہلاکو کے مقابل ایک ذی شان کردار جس کی ضو آج بھی گھپ اندھیروں میں چراغِ راہ ہے۔ مکالمے (Dialogue) کا بڑا چرچا رہا اس جنگ میں۔ آئیے دیکھئے مومن کا مکالمہ! ہلاکو کے اس شکوے پر کہ تم مجھ سے ملنے شہر سے باہر نہ نکلے۔ محمد الکامل کہتے ہیں: ’تم ہو کون کہ میں تمہارا چہرہ دیکھنے کی مشقت اٹھاتا۔ تمہارا نہ کوئی دین ہے نہ کوئی قول قرار۔ تم ایک بے دین انسان ہو جس سے جہاد واجب ہے۔ میں تم سے بہتر ہوں‘۔ ہلاکو سراپا غیظ و غضب: ’تم کس بات میں مجھ سے بہتر ہو؟ ’الکاملؒ : ’اس لیے کہ میں اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرے پاس دین بھی ہے اور امانت داری بھی!‘ (مولانا اسماعیل ریحان : ’قصہ ایک جانباز کا‘) عقیدے کی پختگی ، کردار کی عظمت، اسلام پر فخر، کفر سے بیزاری بے مثل شجاعت و پامردی۔ مسلم دنیا منتظر ہے ایسے ہی کسی مردِ راہ داں کی جو غلامی، ظلم و جبر کی تاریک رات سے امت کو رہائی دلا سکے۔

قبول ہونا مقدر ہے حرفِ خالص کا

ہر ایک آن ہر اک پل دعا کیے جائیں


ای پیپر