کیا بلاول واقعی ہی معصوم ہے؟
12 جنوری 2019 2019-01-12

پرانے وقتوں کی بات ہے ۔ یوں وقت تو پرانا ہو جاتا ہے مگر باتیں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔ کسی گاؤں میں ایک مولوی صاحب رہائش پذیر تھے۔ مولوی صاحب امامت کے ساتھ ساتھ بچوں کو قرآن مجید بھی پڑھایا کرتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کا گزر بسر بھی اچھا چل رہا تھا اور لوگوں کی نظر میں مولوی صاحب کی عزت اور حیا بھی بلند تھا۔ گاؤں کا ہر چھوٹا اور بڑا مولوی صاحب کو عزت و قدر کی نظر سے دیکھتا تھا۔ ایک دفعہ گاؤں کے چند ’’مچھٹنڈوں ‘‘ نے راہ جاتی ہوئی خواتین سے دست درازی کی کوشش کی۔ معاملہ گاؤں کے بڑوں تک پہنچا۔ جو غصے سے لال پیلا ہوئے اور ان لڑکوں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی ٹھان لی۔ کیونکہ ہر شخص کے لیے یہ معاملہ عزت و ناموس اور خاندانی زعم کی حدوں کو چھو چکا تھا۔ ایک بزرگ نے کمال ہمت اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ناقص رائے سے پوری پنچائیت کو اس بات پر قائل کیا کہ ایک دفعہ مولوی صاحب سے اس معاملے پر شرعی رائے طلب کر لی جائے۔ سب نے یک زبان ہو کر اس بزرگ کی تائید کی اور ہاں میں ہاں ملائی۔ معاملہ مولوی صاحب کے حضور گوش گزار کیا گیا ۔ مولوی صاحب خوش ہوئے اور انتہائی خشوع و خضوع سے پیش آئے کہ پورا گاؤں ان کے در پر تشریف آور ہے۔ مولوی صاحب نے پنچائیت

کو بٹھایا اور آنے کی زحمت پو چھی۔ گاؤں کے بڑوں نے اپنا معاملہ مولوی کے حضور گوش گزار کیا اور مولوی صاحب کی رائے طلب کی۔ مولوی صاحب نے اپنا تمام مکالمہ اور شرعی علم یکجا کرتے ہوئے گویا ہوئے کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اس کا شمار بھی گناہ کبیرہ میں ہوتا ہے اور اللہ کے ہاں بھی اس کی معافی تلافی بھی نہیں ہے۔ مولوی صاحب کی بات سن کر لوگ بے حد رنجیدہ ہوئے اور مولوی صاحب سے معافی تلافی اور ادائیگی کفارہ کے متعلق رائے طلب کی۔ کفارہ کے متعلق سن کر مولوی صاحب کی باچھیں کھل گئیں اور فوراً بولے۔ اللہ رحیم و کریم ہے۔ غفور الرحیم ہے۔ آپ یوں کریں کہ ہر لڑکے کے وارثان پانچ پانچ من گندم پسوائیں اور ایک بکرا کی دیگ پکوائے اور گاؤں والوں میں کھانا تقسیم کریں اور اسی طرح ہر لڑکے کا وارث یہی عمل دہرائے۔ گاؤں کے لوگ اس کفارہ کی ادائیگی سن کر بے حد پریشان اور مضطرب ہوئے۔ پنچائیت کے سر پنچ نے مولوی صاحب کو بتایا کہ مولوی صاحب ان لڑکوں میں آپ کا لخت جگر اور فرزند ارجمند بھی شامل ہے۔ یہ سننا تھا کہ مولوی صاحب کے اوسان خطا ہو گئے اور اسے دن میں تارے نظر آنے شروع ہو گئے۔ ایک تو مولوی صاحب کو اپنی ساری عمر کی عزت جاتی ہوئی نظر آنے لگی اور دوسرا کثیر رقم کے لالے پڑ گئے کہ کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ مولوی صاحب ذرا سنبھلے اور یوں گویا ہوئے کہ ابھی یہ معصوم بچے ہیں۔ ابھی یہ گناہ اور ثواب کے عمل کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا ان کو معاف کر نا ہی بنتا ہے۔ لہٰذا معصوم پر کوئی شرعی حد لاگو نہیں ہوتی۔ معصوم آئین اور قانون سے بھی مستثنیٰ ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ بلا خوف و خطر اپنے اپنے گھروں کو جائیں۔ آپ حدود و قبود سے آزاد ہیں۔

پیارے قارئین! چیف جسٹس آف پاکستان ( جو پاکستانیوں کو سمجھانے اور پاکستان کو سنبھالنے کو کوشش میں ہمہ تن گوش ہیں! نے فرمایا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ایک معصوم بچہ ہے اور اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ

(E.C.L ) میں کیوں ڈالا؟ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری معصوم آدمی ہیں۔ بچہ نہیں ہیں۔ وہ معصوم ہی ہیں تو اتنی بڑی پارٹی کا چیئر مین ہے۔ وہ معصوم ہے اس لیے تو اس نے اپنا نام کے ساتھ اپنے نانا کا نام جڑ لیا ہے۔ اس سے زیادہ اور معصومیت کیا ہو سکتی ہے؟ وہ معصوم ہے تو ملک کا وزیر اعظم بننے کی خواہش رکھتا ہے؟ وہ معصوم ہے تو سوائس بینک میں اس کا اکاؤنٹ ہے۔ چیف جسٹس صاحب اگر بلاول معصوم ہے تو اس کا شناختی کارڈ کیوں ملکی آئین کے تحت بنا؟ اگر وہ معصوم ہے تو وہ اس ملک کا ووٹر کیوں ہے؟ معصوم ہونے کی بنا پر ووٹر لسٹ میں اس کا نام ہی نہیں ہونا چاہیے۔جج صاحب!اگر بلاول بھٹو زرداری معصوم ہے تو اس نے الیکشن کس معصومیت کی بنا پر لڑا؟ بلکہ میں تو کہوں گا بلاول ہی معصوم نہیں۔ زرداری صاحب بذات خود بھی بڑے معصوم ہیں۔۔۔ اسی لیے تو فالودے والے، پھل والے، ٹوکری والے کے اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اگر بلاول بھٹو زرداری معصوم ہے تو پیپلز پارٹی معصوم ہے کیونکہ ان کا چیئر مین معصوم ہے۔

قارئین! عورتوں کو عمر چھپانے کی بہت فکر ہوتی ہے۔دو عورتیں ٹرین میں ایک ہی سیٹ پر بیٹھی سفر کر رہی تھیں۔ دونوں کی عمر لگ بھگ پچاس سے اوپر ہو گی۔ وقت گزارنے کی خاطر دونوں نے آپس میں گفتگو شنید شروع کر دی۔ پہلی عورت نے دوسری سے پوچھا باجی آپ کی عمر کتنی ہے؟ وہ جھٹ بولی یہی کوئی پچیس، چھبیس سال ہو گی۔ پھر دوسری نے پہلی عورت سے یہی سوال دہرایا تو دوسری عورت نے کہا یہی کوئی بیس بائیس سال ہو گی۔ اوپر برتھ پر لیٹا آدمی دھڑام سے نیچے گرا۔ عورتوں نے پوچھا بھائی آپ کو کیا ہوا؟ آدمی بولا باجیو ! میں ابھی پیدا ہوا ہوں۔۔۔ مگر بلاول کو پیدا ہوئے تو اکتیس بتیس برس ہونے کو ہیں اور ابھی تک وہ معصوم ہی گردانے جاتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس صاحب تو اچھی اور صاف ستھری شہرت کے حامل جج ہیں۔ اپنی بات کو منوانے اور بات کو بام مقصد تک پہنچانے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔ سلیقہ شعاری کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ عوام اور ملک کی فلاح و بہبود میں دلچسپی رکھتے ہیں، خواہ ڈیم کی فنڈنگ کا معاملہ ہو یا تجاوزات کا معاملہ ہو۔ چیف جسٹس صاحب کبھی بھی پس و پیش نہ ہوئے مگر بلاول کے معاملے میں چیف جسٹس صاحب نے مولوی صاحب کا کردار ادا کیا ہے؟ معصوم تو یہ غریب عوام ہے۔ جو دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ معصوم تو وہ والدین ہیں جو بچوں کی فیسیں نہیں دے سکتے۔ معصوم تو وہ بیٹیاں ہیں جو ابھی تک خالی ہاتھ بیٹھیں ہیں۔ معصوم تو وہ نوجوان ہیں جو ہاتھوں میں ڈگریاں لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ معصوم تو وہ کسان ہیں جو زرعی کش پالیسیوں کے ہاتھوں اپنی زمینوں کو بانجھ کر رہے ہیں۔۔۔ معصوم تو وہ کاروباری لوگ ہیں جو لوڈ شیڈنگ اور گیس کی بندش کے ہاتھوں تنگ آ کر فیکٹریاں نذر آتش کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔ معصوم تو وہ بیمار ہیں جن کے پاس دوائی کے لیے پھوٹی کوڑی نہیں ہے۔۔۔ معصوم تو وہ ہیں جو آئے دن بم دھماکوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔۔۔ معصوم تو وہ کشمیری ہیں جو ستر سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ معصوم تو عافیہ صدیقی ہے جس کا کوئی پر سان حال نہیں۔ معصوم تو وہ بچے اور بیٹیاں ہیں جو زینب کے بعد بھی بد معاشوں اور نڈر غنڈوں کی ہوس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ معصوم تو وہ ہیں جو آئے دن ان دیکھی اندھی گولی کا نشانہ بنتے ہیں اور ان کا کوئی پر سانِ حال نہیں ہوتا۔ معصوم تو وہ تھے جو سانحہ اے پی ایس میں اپنی ننھی سی جانیں دے کر اپنی زندگیوں کی شمع تا قیامت گُل کر گئے۔ معصوم تو وہ تھے جو اس ملک کو بنانے کی خاطر اپنی عزتیں ، عصمتیں اور جانیں قربان کر گئے۔ جناب جج صاحب ! یہ لوگ معصوم ہیں۔ یہ عوام معصوم ہے۔ یہ ملک معصوم ہے۔! بلاول معصوم نہیں ہے۔ بلاول معصوم نہیں ہے۔ چیف جسٹس صاحب سر ذرا سوچیے گا کہ بلاول واقعی ہی معصوم ہے؟ یا آپ نے محض لفظ معصوم روا روی میں استعمال کر دیا ہے؟۔


ای پیپر